ہے کچھ تو بات مومنؔ جو چھا گئی خموشی

Momin Khan Momin (1800–1852)

ہے کچھ تو بات مومنؔ جو چھا گئی خموشی

کس بت کو دے دیا دل کیوں بت سے بن گئے ہو