اے عشق فتنہ ساماں کر دے تو حشر برپا

Maharaja Sir Kishan Parashad Shad (1864–1940)

اے عشق فتنہ ساماں کر دے تو حشر برپا

کیا یہ نہیں قیامت عالم ہے تیرا شیدا

دیر و حرم سے نکلو گر دید چاہتے ہو

پیدا کرو بصیرت پھر دیکھ لو تماشا

اے درد تیرے قرباں کیسا مسیح تو ہے

وہ باعث شفا ہے ہے درد نام جس کا

جس سمت دیکھتا ہوں جلوہ ترا عیاں ہے

میری نظر میں عالم مظہر ہے ایک تیرا

اسم و صفات کا ہے تیرے ظہور ہر سو

اس کا یقیں ہے مجھ کو ہے ذات تیری یکتا

رنج خمار میں ہوں اب رحم کر تو مجھ پر

ساقی پلا دے مجھ کو پھر ایک جام صہبا

بس دھیان رکھ تو اس کا بس یاد رکھ تو اس کی

اے شادؔ دور رکھے دل سے تو حب دنیا