جو مل گیا وہ کھانا داتا کا نام جپنا

Akbar Allahabadi (1846–1921)

جو مل گیا وہ کھانا داتا کا نام جپنا

اس کے سوا بتاؤں کیا تم سے کام اپنا

رونا تو ہے اسی کا کوئی نہیں کسی کا

دنیا ہے اور مطلب مطلب ہے اور اپنا

اے برہمن ہمارا تیرا ہے ایک عالم

ہم خواب دیکھتے ہیں تو دیکھتا ہے سپنا

یہ دھوم دھام کیسی شوق نمود کیسا

بجلی کو دل کی صورت آتا نہیں تڑپنا

بے عشق کے جوانی کٹنی نہیں مناسب

کیوں کر کہوں کہ اچھا ہے جیٹھ کا نہ تپنا