Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'

رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
Poet
Meter
Clear
  1. کوچۂ یار میں کچھ دور چلے جاتے ہیںہم طبیعت سے ہیں مجبور چلے جاتے ہیںنوح ناروی
  2. ہر طلب گار کو محنت کا صلہ ملتا ہےبت ہیں کیا چیز کہ ڈھونڈھے سے خدا ملتا ہےنوح ناروی
  3. آنکھ پڑتے ہی نہ تھا نام شکیبائی کادر مے خانہ تھا نقشہ تری انگڑائی کاثاقب لکھنوی
  4. تیرگی نام ہے دل والوں کے اٹھ جانے کاجس کو شب کہتے ہیں مقتل ہے وہ پروانے کاثاقب لکھنوی
  5. تیز مجھ پر جو ستم گر کی چھری ہوتی ہےکیجیے کیا کہ لگی دل کی بری ہوتی ہےثاقب لکھنوی
  6. دل کے ہوتے بھی کہیں درد جدا ہوتا ہےاک فقط موت کے آ جانے سے کیا ہوتا ہےثاقب لکھنوی
  7. چلتے ہیں گلشن فردوس میں گھر لیتے ہیںطے یہ منزل جو خدا چاہے تو کر لیتے ہیںآغا حجو شرف
  8. موسم گل میں جو گھر گھر کے گھٹائیں آئیںہوش اڑ جاتے ہیں جن سے وہ ہوائیں آئیںآغا حجو شرف
  9. ناحق و حق کا انہیں خوف و خطر کچھ بھی نہیںبے خبر ہیں وہ زمانے کی خبر کچھ بھی نہیںآغا حجو شرف
  10. فصل گل میں ہے ارادہ سوئے صحرا اپنارنگ کیا دیکھیے دکھلاتا ہے سودا اپناآغا حجو شرف
  11. چیختے ہیں در و دیوار نہیں ہوتا میںآنکھ کھلنے پہ بھی بیدار نہیں ہوتا میںTahzeeb Hafi
  12. دل کسی سمت کسی سمت قدم جاتا ہےتیرے موجود کے چکر میں عدم جاتا ہےTahzeeb Hafi
  13. رات کو دیپ کی لو کم نہیں رکھی جاتیدھندھ میں روشنی مدھم نہیں رکھی جاتیTahzeeb Hafi
  14. تو کسی اور ہی دنیا میں ملی تھی مجھ سےتو کسی اور ہی منظر کی مہک لائی تھیTahzeeb Hafi
  15. چوٹ دل کو جو لگے آہ رسا پیدا ہوصدمہ شیشہ کو جو پہنچے تو صدا پیدا ہوبخش ناسخ
  16. دل میں پوشیدہ تپ عشق بتاں رکھتے ہیںآگ ہم سنگ کی مانند نہاں رکھتے ہیںبخش ناسخ
  17. زور ہے گرمئ بازار ترے کوچے میںجمع ہیں تیرے خریدار ترے کوچے میںبخش ناسخ
  18. سب ہمارے لیے زنجیر لیے پھرتے ہیںہم سر زلف گرہ گیر لیے پھرتے ہیںبخش ناسخ
  19. قامت یار کو ہم یاد کیا کرتے ہیںسرو کو صدقے میں آزاد کیا کرتے ہیںبخش ناسخ
  20. مجھ کو فرقت کی اسیری سے رہائی ہوتیکاش عیسیٰ کے عوض موت ہی آئی ہوتیبخش ناسخ
  21. ہے تصور مجھے ہر دم تری یکتائی کامشغلہ آٹھ پہر ہے یہی تنہائی کابخش ناسخ
  22. یاد آتی ہیں ہمیں جان تمہاری باتیںہائے وہ پیار کی آواز وہ پیاری باتیںبخش ناسخ
  23. سینہ تو ڈھونڈ لیا متصل اپنا ہم نےنہیں معلوم دیا کس کو دل اپنا ہم نےحسرت عظیم آبادی
  24. کب تلک ہم کو نہ آوے گا نظر دیکھیں توکیسے ترساتا ہے یہ دیدۂ تر دیکھیں توحسرت عظیم آبادی
  25. کیا کہوں تجھ سے مری جان میں شب کا احوالتجھ پہ روشن ہے دل وصل طلب کا احوالحسرت عظیم آبادی
  26. نہ چھٹا ہاتھ سے یک لحظہ گریباں میراچشم تر ہی پہ رہا گوشۂ داماں میراحسرت عظیم آبادی
  27. باغ میں جب کہ وہ دل خوں کن ہر گل پہنچےبلبلاتی ہوئی گلزار میں بلبل پہنچےعبدالرحمان احسان دہلوی
  28. تیر پہلو میں نہیں اے رفقائے پروازطائر جان کے یہ پر ہیں برائے پروازعبدالرحمان احسان دہلوی
  29. دل دیا تب کہ بہت زلف رسا نے چاہاآپ فرماتے ہیں یوں اس کی بلا نے چاہاعبدالرحمان احسان دہلوی
  30. غیر کے دل پہ تو اے یار یہ کیا باندھے ہےہے وہ اک باد فروش اور ہوا باندھے ہےعبدالرحمان احسان دہلوی
  31. محفل عشق میں جو یار اٹھے اور بیٹھےہے وہ ملکہ کہ سبکبار اٹھے اور بیٹھےعبدالرحمان احسان دہلوی
  32. سن رکھ او خاک میں عاشق کو ملانے والےعرش اعظم کے یہ نالے ہیں بلانے والےعبدالرحمان احسان دہلوی
  33. شمع کے تیرے کرشمے نے دل افروزی کیان نے تب دور یہ محفل کی سیہ روزی کیعشق اورنگ آبادی
  34. عشق کی آگ میں اب شمع سا جل جاؤں گاتجھ لگن بیچ قدم گاڑ نہ ٹل جاؤں گاعشق اورنگ آبادی
  35. کیوں ہے کہہ آئینہ اس درجہ تو حیراں مجھ سےاپنی روداد کو مت کیجیو پنہاں مجھ سےعشق اورنگ آبادی
  36. میرے گل کا جو کوئی لطف و کرم دیکھا ہےحسن اور خلق کے تئیں اس نے بہم دیکھا ہےعشق اورنگ آبادی
  37. اب نہ وہ ہم ہیں نہ وہ پیار کی صورت تیرینہ وہ حالت ہے ہماری نہ وہ حالت تیریصفی اورنگ آبادی
  38. شوق دربار میں ملتے رہے دربانوں سےہم نے آنکھوں سے نہ دیکھا جو سنا کانوں سےصفی اورنگ آبادی
  39. عشق ان سب سے الگ سب سے جدا ہوتا ہےچیخنے رونے تڑپ لینے سے کیا ہوتا ہےصفی اورنگ آبادی
  40. کیا ہو تسکین جو ہو تیری سکونت دل میںرہے آغوش میں یا پیار کی صورت دل میںصفی اورنگ آبادی
  41. یہ تو سچ ہے کہ صفیؔ کی نہیں نیت اچھیہاں مگر پائی ہے ظالم نے طبیعت اچھیصفی اورنگ آبادی
  42. پیار اپنے پہ جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیںآئینہ دیکھ کے منہ چوم لیا کرتے ہیںاحمد حسین مائل
  43. جب کبھی ہوں گے تو ہم مائل غم ہی ہوں گےایسے دیوانے بھی اس دور میں کم ہی ہوں گےBashar Nawaz
  44. دل کے ہر درد نے اشعار میں ڈھلنا چاہااپنا پیراہن بے رنگ بدلنا چاہاBashar Nawaz
  45. عکس ہر روز کسی غم کا پڑا کرتا ہےدل وہ آئینہ کہ چپ چاپ تکا کرتا ہےBashar Nawaz
  46. ہر نئی رت میں نیا ہوتا ہے منظر میراایک پیکر میں کہاں قید ہے پیکر میراBashar Nawaz
  47. آپ تو بات کا اخبار بنا دیتے ہیںگھر کا ماحول پر اسرار بنا دیتے ہیںIdris Azad
  48. دشمن جاں کے لیے لفظ مسیحا نکلاسچ مرے منہ سے تو نکلا مگر آدھا نکلاIdris Azad
  49. دل کا دروازہ کھلا تھا کوئی ٹکتا کیسےجو بھی آتا تھا وہ جانے کے لیے آتا تھاIdris Azad
  50. کھینچ لاتی ہے سمندر سے جزیرے سر آبجب مری آنکھ کو منظر کی تمنا ہو جائےIdris Azad