Poetry
Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع- کوچۂ یار میں کچھ دور چلے جاتے ہیںہم طبیعت سے ہیں مجبور چلے جاتے ہیںنوح ناروی
- ہر طلب گار کو محنت کا صلہ ملتا ہےبت ہیں کیا چیز کہ ڈھونڈھے سے خدا ملتا ہےنوح ناروی
- آنکھ پڑتے ہی نہ تھا نام شکیبائی کادر مے خانہ تھا نقشہ تری انگڑائی کاثاقب لکھنوی
- تیرگی نام ہے دل والوں کے اٹھ جانے کاجس کو شب کہتے ہیں مقتل ہے وہ پروانے کاثاقب لکھنوی
- تیز مجھ پر جو ستم گر کی چھری ہوتی ہےکیجیے کیا کہ لگی دل کی بری ہوتی ہےثاقب لکھنوی
- دل کے ہوتے بھی کہیں درد جدا ہوتا ہےاک فقط موت کے آ جانے سے کیا ہوتا ہےثاقب لکھنوی
- چلتے ہیں گلشن فردوس میں گھر لیتے ہیںطے یہ منزل جو خدا چاہے تو کر لیتے ہیںآغا حجو شرف
- موسم گل میں جو گھر گھر کے گھٹائیں آئیںہوش اڑ جاتے ہیں جن سے وہ ہوائیں آئیںآغا حجو شرف
- ناحق و حق کا انہیں خوف و خطر کچھ بھی نہیںبے خبر ہیں وہ زمانے کی خبر کچھ بھی نہیںآغا حجو شرف
- فصل گل میں ہے ارادہ سوئے صحرا اپنارنگ کیا دیکھیے دکھلاتا ہے سودا اپناآغا حجو شرف
- چیختے ہیں در و دیوار نہیں ہوتا میںآنکھ کھلنے پہ بھی بیدار نہیں ہوتا میںTahzeeb Hafi
- دل کسی سمت کسی سمت قدم جاتا ہےتیرے موجود کے چکر میں عدم جاتا ہےTahzeeb Hafi
- رات کو دیپ کی لو کم نہیں رکھی جاتیدھندھ میں روشنی مدھم نہیں رکھی جاتیTahzeeb Hafi
- تو کسی اور ہی دنیا میں ملی تھی مجھ سےتو کسی اور ہی منظر کی مہک لائی تھیTahzeeb Hafi
- چوٹ دل کو جو لگے آہ رسا پیدا ہوصدمہ شیشہ کو جو پہنچے تو صدا پیدا ہوبخش ناسخ
- دل میں پوشیدہ تپ عشق بتاں رکھتے ہیںآگ ہم سنگ کی مانند نہاں رکھتے ہیںبخش ناسخ
- زور ہے گرمئ بازار ترے کوچے میںجمع ہیں تیرے خریدار ترے کوچے میںبخش ناسخ
- سب ہمارے لیے زنجیر لیے پھرتے ہیںہم سر زلف گرہ گیر لیے پھرتے ہیںبخش ناسخ
- قامت یار کو ہم یاد کیا کرتے ہیںسرو کو صدقے میں آزاد کیا کرتے ہیںبخش ناسخ
- مجھ کو فرقت کی اسیری سے رہائی ہوتیکاش عیسیٰ کے عوض موت ہی آئی ہوتیبخش ناسخ
- ہے تصور مجھے ہر دم تری یکتائی کامشغلہ آٹھ پہر ہے یہی تنہائی کابخش ناسخ
- یاد آتی ہیں ہمیں جان تمہاری باتیںہائے وہ پیار کی آواز وہ پیاری باتیںبخش ناسخ
- سینہ تو ڈھونڈ لیا متصل اپنا ہم نےنہیں معلوم دیا کس کو دل اپنا ہم نےحسرت عظیم آبادی
- کب تلک ہم کو نہ آوے گا نظر دیکھیں توکیسے ترساتا ہے یہ دیدۂ تر دیکھیں توحسرت عظیم آبادی
- کیا کہوں تجھ سے مری جان میں شب کا احوالتجھ پہ روشن ہے دل وصل طلب کا احوالحسرت عظیم آبادی
- نہ چھٹا ہاتھ سے یک لحظہ گریباں میراچشم تر ہی پہ رہا گوشۂ داماں میراحسرت عظیم آبادی
- باغ میں جب کہ وہ دل خوں کن ہر گل پہنچےبلبلاتی ہوئی گلزار میں بلبل پہنچےعبدالرحمان احسان دہلوی
- تیر پہلو میں نہیں اے رفقائے پروازطائر جان کے یہ پر ہیں برائے پروازعبدالرحمان احسان دہلوی
- دل دیا تب کہ بہت زلف رسا نے چاہاآپ فرماتے ہیں یوں اس کی بلا نے چاہاعبدالرحمان احسان دہلوی
- غیر کے دل پہ تو اے یار یہ کیا باندھے ہےہے وہ اک باد فروش اور ہوا باندھے ہےعبدالرحمان احسان دہلوی
- محفل عشق میں جو یار اٹھے اور بیٹھےہے وہ ملکہ کہ سبکبار اٹھے اور بیٹھےعبدالرحمان احسان دہلوی
- سن رکھ او خاک میں عاشق کو ملانے والےعرش اعظم کے یہ نالے ہیں بلانے والےعبدالرحمان احسان دہلوی
- شمع کے تیرے کرشمے نے دل افروزی کیان نے تب دور یہ محفل کی سیہ روزی کیعشق اورنگ آبادی
- عشق کی آگ میں اب شمع سا جل جاؤں گاتجھ لگن بیچ قدم گاڑ نہ ٹل جاؤں گاعشق اورنگ آبادی
- کیوں ہے کہہ آئینہ اس درجہ تو حیراں مجھ سےاپنی روداد کو مت کیجیو پنہاں مجھ سےعشق اورنگ آبادی
- میرے گل کا جو کوئی لطف و کرم دیکھا ہےحسن اور خلق کے تئیں اس نے بہم دیکھا ہےعشق اورنگ آبادی
- اب نہ وہ ہم ہیں نہ وہ پیار کی صورت تیرینہ وہ حالت ہے ہماری نہ وہ حالت تیریصفی اورنگ آبادی
- شوق دربار میں ملتے رہے دربانوں سےہم نے آنکھوں سے نہ دیکھا جو سنا کانوں سےصفی اورنگ آبادی
- عشق ان سب سے الگ سب سے جدا ہوتا ہےچیخنے رونے تڑپ لینے سے کیا ہوتا ہےصفی اورنگ آبادی
- کیا ہو تسکین جو ہو تیری سکونت دل میںرہے آغوش میں یا پیار کی صورت دل میںصفی اورنگ آبادی
- یہ تو سچ ہے کہ صفیؔ کی نہیں نیت اچھیہاں مگر پائی ہے ظالم نے طبیعت اچھیصفی اورنگ آبادی
- پیار اپنے پہ جو آتا ہے تو کیا کرتے ہیںآئینہ دیکھ کے منہ چوم لیا کرتے ہیںاحمد حسین مائل
- جب کبھی ہوں گے تو ہم مائل غم ہی ہوں گےایسے دیوانے بھی اس دور میں کم ہی ہوں گےBashar Nawaz
- دل کے ہر درد نے اشعار میں ڈھلنا چاہااپنا پیراہن بے رنگ بدلنا چاہاBashar Nawaz
- عکس ہر روز کسی غم کا پڑا کرتا ہےدل وہ آئینہ کہ چپ چاپ تکا کرتا ہےBashar Nawaz
- ہر نئی رت میں نیا ہوتا ہے منظر میراایک پیکر میں کہاں قید ہے پیکر میراBashar Nawaz
- آپ تو بات کا اخبار بنا دیتے ہیںگھر کا ماحول پر اسرار بنا دیتے ہیںIdris Azad
- دشمن جاں کے لیے لفظ مسیحا نکلاسچ مرے منہ سے تو نکلا مگر آدھا نکلاIdris Azad
- دل کا دروازہ کھلا تھا کوئی ٹکتا کیسےجو بھی آتا تھا وہ جانے کے لیے آتا تھاIdris Azad
- کھینچ لاتی ہے سمندر سے جزیرے سر آبجب مری آنکھ کو منظر کی تمنا ہو جائےIdris Azad