Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'

رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
Poet
Meter
Clear
  1. آنسوAkhtar Shirani (1905–1948)
  2. ریت کی طرح کناروں پہ ہیں ڈرنے والےموج در موج گئے پار اترنے والےAbid Ali Abid (1906–1971)
  3. ساز ہستی کی صدا عرش بریں تک پہنچےاے خوشا جنس امانت کہ امیں تک پہنچےAbid Ali Abid (1906–1971)
  4. شوق سے خود جو مرے راہنما ہوتے ہیںمری قسمت کہ وہی آبلہ پا ہوتے ہیںAbid Ali Abid (1906–1971)
  5. صبح تک رقص کناں بنت عنب دیکھیں گےآج وہ طرفہ تماشا ہے کہ سب دیکھیں گےAbid Ali Abid (1906–1971)
  6. عام ہو فیض بہاراں تو مزا آ جائےچاک ہوں سب کے گریباں تو مزا آ جائےAbid Ali Abid (1906–1971)
  7. مے ہو ساغر میں کہ خوں رات گزر جائے گیدل کو غم ہو کہ سکوں رات گزر جائے گیAbid Ali Abid (1906–1971)
  8. اس چمن میں کبھی ایسے بھی بہار آ جائےبے قراری کے مقدر میں قرار آ جائےFaiyaz Gwaliari (1906–1980)
  9. زندگی کا کوئی حس کیسے ادا کرتے ہیںجو محبت نہیں کرتے ہیں وہ کیا کرتے ہیںKaif Moradaabadi (1907–1976)
  10. کبھی گریاں کبھی خنداں کبھی حیراں ہوں میںمختصر ہے مری روداد کہ انساں ہوں میںKaif Moradaabadi (1907–1976)
  11. میرے کمرے کے بڑے طاق میں اک آئینہصورتیں سب کو دکھانے کے لئے رکھا ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)
  12. حسن کا حال یہ با دیدۂ تر دیکھا ہےدر بدر خاک بسر شام و سحر دیکھا ہےLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
  13. اشک باری نہیں فرقت میں شررباری ہےآنکھ میں خون کا قطرہ ہے کہ چنگاری ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  14. کثرت جلوہ کو آئینۂ وحدت سمجھوجس کی صورت نظر آئے وہی صورت سمجھوSaba Akbarabadi (1908–1991)
  15. آئینہ کیسا تھا وہ شام شکیبائی کاسامنا کر نہ سکا اپنی ہی بینائی کاSaba Akbarabadi (1908–1991)
  16. روشنی خود بھی چراغوں سے الگ رہتی ہےدل میں جو رہتے ہیں وہ دل نہیں ہونے پاتےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  17. کفر و اسلام کے جھگڑے کو چکا دو صاحبجنگ آپس میں کریں شیخ و برہمن کب تکSaba Akbarabadi (1908–1991)
  18. ان نگاہوں کو عجب طرز کلام آتا ہےایسا لگتا ہے بہاروں کا پیام آتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  19. کچھ بھی دشوار نہیں عزم جواں کے آگےآشیاں بنتے گئے برق تپاں کے آگےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  20. جب کوئی فتنۂ ایام نہیں ہوتا ہےزندگی کا بڑی مشکل سے یقیں ہوتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  21. فیض ایام بہار اہل قفس کیا جانیںچند تنکے تھے نشیمن کے جو ہم تک پہنچےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  22. موت کے بعد بھی مرنے پہ نہ راضی ہونایہی احساس تو سرمایۂ دیں ہوتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  23. ہائے بیداد محبت کہ یہ ایں بربادیہم کو احساس زیاں بھی تو نہیں ہوتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
  24. بے نقاب ان کی جفاؤں کو کیا ہے میں نےوقت کے ہاتھ میں آئینہ دیا ہے میں نےQamar Moradabadi (1910–1987)
  25. ساقیا طنز نہ کر چشم کرم رہنے دےمیرے ساغر میں اگر کم ہے تو کم رہنے دےQamar Moradabadi (1910–1987)
  26. حسرت دید میں گزراں ہیں زمانے کب سےدشت امید میں گرداں ہیں دوانے کب سےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  27. دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیںجیسے بچھڑے ہوئے کعبہ میں صنم آتے ہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  28. شرح بے دردئ حالات نہ ہونے پائیاب کے بھی دل کی مدارات نہ ہونے پائیFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  29. گرمئ شوق نظارہ کا اثر تو دیکھوگل کھلے جاتے ہیں وہ سایۂ تر تو دیکھوFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  30. ہم مسافر یوں ہی مصروف سفر جائیں گےبے نشاں ہو گئے جب شہر تو گھر جائیں گےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  31. یاد کا پھر کوئی دروازہ کھلا آخر شبدل میں بکھری کوئی خوشبوئے قبا آخر شبFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  32. آج اک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیالمدھ بھرا حرف کوئی زہر بھرا حرف کوئیFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  33. آ کہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجھ سےجس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  34. اور کچھ دیر میں جب پھر مرے تنہا دل کوفکر آ لے گی کہ تنہائی کا کیا چارہ کرےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  35. چند روز اور مری جان فقط چند ہی روزظلم کی چھاؤں میں دم لینے پہ مجبور ہیں ہمFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  36. گل ہوئی جاتی ہے افسردہ سلگتی ہوئی شامدھل کے نکلے گی ابھی چشمۂ مہتاب سے راتFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  37. رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئیجیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
  38. آؤ اب مل کے گلستاں کو گلستاں کر دیںہر گل و لالہ کو رقصاں و غزل خواں کر دیںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  39. تاج جب مرد کے ماتھے پہ نظر آتا ہےیک بیک خوں مری آنکھوں میں اتر آتا ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  40. دل کو محو غم دل دار کئے بیٹھے ہیںرند بنتے ہیں مگر زہر پئے بیٹھے ہیںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  41. میکدہ چھوڑ کے میں تیری طرف آیا ہوںسرفروشوں سے میں باندھے ہوئے صف آیا ہوںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  42. آہنگ نوMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  43. حسن و عشقMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  44. عشرت تنہائیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  45. ایک دیوانے کو اتنا ہی شرف کیا کم ہےزلف و زنجیر سے یک گونہ شغف کیا کم ہےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  46. جبر حالات کا تو نام لیا ہے تم نےاپنے سر بھی کبھی الزام لیا ہے تم نےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  47. جب کبھی بات کسی کی بھی بری لگتی ہےایسا لگتا ہے کہ سینے میں چھری لگتی ہےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  48. لوگ تنہائی کا کس درجہ گلا کرتے ہیںاور فن کار تو تنہا ہی رہا کرتے ہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  49. یوں جو افتاد پڑے ہم پہ وہ سہہ جاتے ہیںہاں کبھی بات جو کہنے کی ہے کہہ جاتے ہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  50. آج پی کر بھی وہی تشنہ لبی ہے ساقیلطف میں تیرے کہیں کوئی کمی ہے ساقیAale Ahmad Suroor (1911–2002)