Poetry
Ramal Musamman Makhbun Mahzuf Maqtu'
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع- آنسوAkhtar Shirani (1905–1948)
- ریت کی طرح کناروں پہ ہیں ڈرنے والےموج در موج گئے پار اترنے والےAbid Ali Abid (1906–1971)
- ساز ہستی کی صدا عرش بریں تک پہنچےاے خوشا جنس امانت کہ امیں تک پہنچےAbid Ali Abid (1906–1971)
- شوق سے خود جو مرے راہنما ہوتے ہیںمری قسمت کہ وہی آبلہ پا ہوتے ہیںAbid Ali Abid (1906–1971)
- صبح تک رقص کناں بنت عنب دیکھیں گےآج وہ طرفہ تماشا ہے کہ سب دیکھیں گےAbid Ali Abid (1906–1971)
- عام ہو فیض بہاراں تو مزا آ جائےچاک ہوں سب کے گریباں تو مزا آ جائےAbid Ali Abid (1906–1971)
- مے ہو ساغر میں کہ خوں رات گزر جائے گیدل کو غم ہو کہ سکوں رات گزر جائے گیAbid Ali Abid (1906–1971)
- اس چمن میں کبھی ایسے بھی بہار آ جائےبے قراری کے مقدر میں قرار آ جائےFaiyaz Gwaliari (1906–1980)
- زندگی کا کوئی حس کیسے ادا کرتے ہیںجو محبت نہیں کرتے ہیں وہ کیا کرتے ہیںKaif Moradaabadi (1907–1976)
- کبھی گریاں کبھی خنداں کبھی حیراں ہوں میںمختصر ہے مری روداد کہ انساں ہوں میںKaif Moradaabadi (1907–1976)
- میرے کمرے کے بڑے طاق میں اک آئینہصورتیں سب کو دکھانے کے لئے رکھا ہےKaif Moradaabadi (1907–1976)
- حسن کا حال یہ با دیدۂ تر دیکھا ہےدر بدر خاک بسر شام و سحر دیکھا ہےLutfullah Khan Nazmi (1907–1985)
- اشک باری نہیں فرقت میں شررباری ہےآنکھ میں خون کا قطرہ ہے کہ چنگاری ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- کثرت جلوہ کو آئینۂ وحدت سمجھوجس کی صورت نظر آئے وہی صورت سمجھوSaba Akbarabadi (1908–1991)
- آئینہ کیسا تھا وہ شام شکیبائی کاسامنا کر نہ سکا اپنی ہی بینائی کاSaba Akbarabadi (1908–1991)
- روشنی خود بھی چراغوں سے الگ رہتی ہےدل میں جو رہتے ہیں وہ دل نہیں ہونے پاتےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- کفر و اسلام کے جھگڑے کو چکا دو صاحبجنگ آپس میں کریں شیخ و برہمن کب تکSaba Akbarabadi (1908–1991)
- ان نگاہوں کو عجب طرز کلام آتا ہےایسا لگتا ہے بہاروں کا پیام آتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- کچھ بھی دشوار نہیں عزم جواں کے آگےآشیاں بنتے گئے برق تپاں کے آگےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- جب کوئی فتنۂ ایام نہیں ہوتا ہےزندگی کا بڑی مشکل سے یقیں ہوتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- فیض ایام بہار اہل قفس کیا جانیںچند تنکے تھے نشیمن کے جو ہم تک پہنچےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- موت کے بعد بھی مرنے پہ نہ راضی ہونایہی احساس تو سرمایۂ دیں ہوتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- ہائے بیداد محبت کہ یہ ایں بربادیہم کو احساس زیاں بھی تو نہیں ہوتا ہےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- بے نقاب ان کی جفاؤں کو کیا ہے میں نےوقت کے ہاتھ میں آئینہ دیا ہے میں نےQamar Moradabadi (1910–1987)
- ساقیا طنز نہ کر چشم کرم رہنے دےمیرے ساغر میں اگر کم ہے تو کم رہنے دےQamar Moradabadi (1910–1987)
- حسرت دید میں گزراں ہیں زمانے کب سےدشت امید میں گرداں ہیں دوانے کب سےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیںجیسے بچھڑے ہوئے کعبہ میں صنم آتے ہیںFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- شرح بے دردئ حالات نہ ہونے پائیاب کے بھی دل کی مدارات نہ ہونے پائیFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- گرمئ شوق نظارہ کا اثر تو دیکھوگل کھلے جاتے ہیں وہ سایۂ تر تو دیکھوFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- ہم مسافر یوں ہی مصروف سفر جائیں گےبے نشاں ہو گئے جب شہر تو گھر جائیں گےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- یاد کا پھر کوئی دروازہ کھلا آخر شبدل میں بکھری کوئی خوشبوئے قبا آخر شبFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- آج اک حرف کو پھر ڈھونڈتا پھرتا ہے خیالمدھ بھرا حرف کوئی زہر بھرا حرف کوئیFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- آ کہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجھ سےجس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھاFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- اور کچھ دیر میں جب پھر مرے تنہا دل کوفکر آ لے گی کہ تنہائی کا کیا چارہ کرےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- چند روز اور مری جان فقط چند ہی روزظلم کی چھاؤں میں دم لینے پہ مجبور ہیں ہمFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- گل ہوئی جاتی ہے افسردہ سلگتی ہوئی شامدھل کے نکلے گی ابھی چشمۂ مہتاب سے راتFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئیجیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- آؤ اب مل کے گلستاں کو گلستاں کر دیںہر گل و لالہ کو رقصاں و غزل خواں کر دیںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- تاج جب مرد کے ماتھے پہ نظر آتا ہےیک بیک خوں مری آنکھوں میں اتر آتا ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- دل کو محو غم دل دار کئے بیٹھے ہیںرند بنتے ہیں مگر زہر پئے بیٹھے ہیںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- میکدہ چھوڑ کے میں تیری طرف آیا ہوںسرفروشوں سے میں باندھے ہوئے صف آیا ہوںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- آہنگ نوMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- حسن و عشقMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- عشرت تنہائیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- ایک دیوانے کو اتنا ہی شرف کیا کم ہےزلف و زنجیر سے یک گونہ شغف کیا کم ہےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- جبر حالات کا تو نام لیا ہے تم نےاپنے سر بھی کبھی الزام لیا ہے تم نےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- جب کبھی بات کسی کی بھی بری لگتی ہےایسا لگتا ہے کہ سینے میں چھری لگتی ہےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- لوگ تنہائی کا کس درجہ گلا کرتے ہیںاور فن کار تو تنہا ہی رہا کرتے ہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- یوں جو افتاد پڑے ہم پہ وہ سہہ جاتے ہیںہاں کبھی بات جو کہنے کی ہے کہہ جاتے ہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- آج پی کر بھی وہی تشنہ لبی ہے ساقیلطف میں تیرے کہیں کوئی کمی ہے ساقیAale Ahmad Suroor (1911–2002)