Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Rajaz Musamman Matwi Makhbun

رجز مثمن مطوی مخبون
Poet
Meter
Clear
  1. شب کو پھرے وہ رشک ماہ خانہ بہ خانہ کو بہ کودن کو پھروں میں داد خواہ خانہ بہ خانہ کو بہ کوTaban Abdul Hai (1715–1749)
  2. دیکھ مجھے طبیب آج پوچھا جو حالت مزاجکہنے لگا کہ لا علاج بندہ ہوں میں خدا نہیںKhwaja Mir Dard (1721–1785)
  3. تیرے بھی منہ کی روشنی رات گئی تھی مہ سے ملتاب سے تاب رخ سے رخ نور سے نور ظل سے ظلNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  4. جاں بھی بجاں ہے ہجر میں اور دل فگار بھیتر ہے مژہ بھی اشک سے جیب بھی اور کنار بھیNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  5. کل جو رخ عرق فشاں یار نے ٹک دکھا دیاپانی چھڑک کے خواب سے فتنے کو پھر جگا دیاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
  6. پردہ اٹھا کے مہر کو رخ کی جھلک دکھا کہ یوںباغ میں جا کے سرو کو قد کی لچک دکھا کہ یوںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  7. کپڑے بدل کے آئے تھے آگ مجھے لگا گئےاپنے لباس سرخ کی مجھ کو بھڑک دکھا گئےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  8. اپنا رفیق و آشنا غیر خدا کوئی نہیںرنج و محن میں غم زدا غیر خدا کوئی نہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  9. اٹھتی گھٹا ہے کس طرح بولے وہ زلف اٹھا کہ یوںبرق چمکتی کیونکہ ہے ہنس کے یہ پھر کہا کہ یوںShah Naseer (1756–1838)
  10. کیوں نہ کہیں بشر کو ہم آتش و آب و خاک و بادقدرت حق سے ہیں بہم آتش و آب و خاک و بادShah Naseer (1756–1838)
  11. دل کو میں آج ناصحاں اس کو دیا جو ہو سو ہوراہ میں عشق کے قدم اب تو رکھا جو ہو سو ہوMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
  12. گشت نہ کر ادھر ادھر بے خبری جہاں میں ہےاپنے ہی دل میں غور کر دیکھ مکیں مکاں میں ہےNaseem Dehlvi (1794–1864)
  13. دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟روئیں گے ہم ہزار بار ۔کوئی ہمیں ستائے کیوں؟Mirza Ghalib (1797–1869)
  14. غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یُوںبوسے کو پُوچھتا ہوں مَیں، منہ سےمجھے بتا کہ یُوںMirza Ghalib (1797–1869)
  15. سوختگاں کی خاک میں ریزشِ نقشِ داغ ہےآئینۂ نشانِ حال مثلِ گلِ چراغ ہےMirza Ghalib (1797–1869)
  16. شکوہ و شکر کو ثمر بیم و امید کا سمجھخانۂ آگہی خراب دل نہ سمجھ بلا سمجھMirza Ghalib (1797–1869)
  17. کلفتِ ربطِ این و آں غفلتِ مدعا سمجھشوق کرے جو سرگراں محملِ خوابِ پا سمجھMirza Ghalib (1797–1869)
  18. تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میںہم نہیں چاہتے کمی اپنی شب دراز میںMomin Khan Momin (1800–1852)
  19. دور ہو درد دل یہ اور درد جگر کسی طرحآج تو ہم نشیں اسے لا مرے گھر کسی طرحBahram ji (1828–1895)
  20. کیوں نہ جہاں میں ہو عیاں عیب و ہنر الگ الگدیکھتے ہیں بہ چشم غور اہل نظر الگ الگDagh Dehlvi (1831–1905)
  21. مانی ہزار منتیں رد نہ ہوئی بلائے دلدرد کچھ اور بڑھ گیا میں نے جو کی دوائے دلDagh Dehlvi (1831–1905)
  22. چست کمر کا کیا سبب تنگ قبا کی وجہ کیاہم تو ہیں آپ سر بکف ہم سے ادا کی وجہ کیاShad Azimabadi (1846–1927)
  23. سنگ جفا کا غم نہیں دست طلب کا ڈر نہیںاپنا ہے اس پر آشیاں نخل جو بارور نہیںNazm Tabatabai (1854–1933)
  24. حضرت دل یہ عشق ہے درد سے کسمسائے کیوںموت ابھی سے آئے کیوں جان ابھی سے جائے کیوںBekhud Dehlvi (1863–1955)
  25. اس کی تو ایک دل لگی اپنا بنا کے چھوڑ دےجائے وہ اب کہاں جسے سب سے چھڑا کے چھوڑ دےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  26. اے مرے زخم دل نواز غم کو خوشی بنائے جاآنکھوں سے خوں بہائے جا ہونٹوں سے مسکرائے جاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
  27. کیسے چھپاؤں رازِ غم، دیدۂ تر کو کیا کروںدل کی تپش کو کیا کروں، سوزِ جگر کو کیا کروںHasrat Mohani (1875–1951)
  28. پردے اٹھے ہوئے بھی ہیں ان کی ادھر نظر بھی ہےبڑھ کے مقدر آزما سر بھی ہے سنگ در بھی ہےBedam Warsi (1876–1936)
  29. سینہ میں دل ہے دل میں داغ داغ میں سوز و ساز عشقپردہ بہ پردہ ہے نہاں پردہ نشیں کا راز عشقBedam Warsi (1876–1936)
  30. کاش مری جبین شوق سجدوں سے سرفراز ہویار کی خاک آستاں تاج سر نیاز ہوBedam Warsi (1876–1936)
  31. پیا مAllama Iqbal (1877–1938)
  32. طلبہء علی گڑھ کالج کے نامAllama Iqbal (1877–1938)
  33. گیسوئے تاب‌دار کو اور بھی تاب‌دار کرہوش و خرد شکار کر، قلب و نظر شکار کرAllama Iqbal (1877–1938)
  34. عالِم آب و خاک و باد! سِرِّ عیاں ہے تُو کہ مَیںوہ جو نظر سے ہے نہاں، اُس کا جہاں ہے تُو کہ مَیںAllama Iqbal (1877–1938)
  35. تُو ابھی رہ گزر میں ہے، قیدِ مقام سے گزرمصر و حجاز سے گزر، پارس و شام سے گزرAllama Iqbal (1877–1938)
  36. میرِ سپاہ ناسزا، لشکریاں شکستہ صفآہ! وہ تیرِ نیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدفAllama Iqbal (1877–1938)
  37. فرشتوں کاگیتAllama Iqbal (1877–1938)
  38. ذوق و شوقAllama Iqbal (1877–1938)
  39. مجھ کو مرے نصیب نے روز ازل سے کیا دیادولت دو جہاں نہ دی اک دل مبتلا دیاFani Badayuni (1879–1941)
  40. گرم تلاش و جستجو اب ہے تری نظر کہاںخون ہے کچھ جما ہوا قلب کہاں جگر کہاںAsghar Gondvi (1884–1936)
  41. حسن کو وسعتیں جو دیں عشق کو حوصلہ دیاجو نہ ملے نہ مٹ سکے وہ مجھے مدعا دیاAsghar Gondvi (1884–1936)
  42. اف مری زندگی کی رات اف مری زندگی کے دنایسی نہ ہے کسی کی رات ایسے نہ ہیں کسی کے دنKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
  43. تو نہ ہو ہم نفس اگر جینے کا لطف ہی نہیںجس میں نہ تو شریک ہو موت ہے زندگی نہیںHadi Machlishahri (1890–1961)
  44. محو کمال آرزو مجھ کو بنا کے بھول جااپنے حریم ناز کا پردہ اٹھا کے بھول جاHadi Machlishahri (1890–1961)
  45. کچھ بھی عیاں نہاں نہ تھا کوئی زماں مکاں نہ تھادیر تھی اک نگاہ کی پھر یہ جہاں جہاں نہ تھاFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  46. نرم فضا کی کروٹیں دل کو دکھا کے رہ گئیںٹھنڈی ہوائیں بھی تری یاد دلا کے رہ گئیںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
  47. ان کو جگر کی جستجو ان کی نظر کو کیا کروںمجھ کو نظر کی آرزو اپنے جگر کو کیا کروںHafeez Jalandhari (1900–1982)
  48. کوئی دوا نہ دے سکے مشورۂ دعا دیاچارہ گروں نے اور بھی دل کا درد بڑھا دیاHafeez Jalandhari (1900–1982)
  49. ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکےتم نے ہمیں بھلا دیا ہم نہ تمہیں بھلا سکےHafeez Jalandhari (1900–1982)
  50. شکوہ نہیں گلہ نہیں ربط کوئی بہم نہیںرسم سلام کیا جہاں پرسش حال غم نہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)