Poetry
Rajaz Musamman Matwi Makhbun
رجز مثمن مطوی مخبون- شب کو پھرے وہ رشک ماہ خانہ بہ خانہ کو بہ کودن کو پھروں میں داد خواہ خانہ بہ خانہ کو بہ کوTaban Abdul Hai (1715–1749)
- دیکھ مجھے طبیب آج پوچھا جو حالت مزاجکہنے لگا کہ لا علاج بندہ ہوں میں خدا نہیںKhwaja Mir Dard (1721–1785)
- تیرے بھی منہ کی روشنی رات گئی تھی مہ سے ملتاب سے تاب رخ سے رخ نور سے نور ظل سے ظلNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- جاں بھی بجاں ہے ہجر میں اور دل فگار بھیتر ہے مژہ بھی اشک سے جیب بھی اور کنار بھیNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- کل جو رخ عرق فشاں یار نے ٹک دکھا دیاپانی چھڑک کے خواب سے فتنے کو پھر جگا دیاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- پردہ اٹھا کے مہر کو رخ کی جھلک دکھا کہ یوںباغ میں جا کے سرو کو قد کی لچک دکھا کہ یوںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کپڑے بدل کے آئے تھے آگ مجھے لگا گئےاپنے لباس سرخ کی مجھ کو بھڑک دکھا گئےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- اپنا رفیق و آشنا غیر خدا کوئی نہیںرنج و محن میں غم زدا غیر خدا کوئی نہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- اٹھتی گھٹا ہے کس طرح بولے وہ زلف اٹھا کہ یوںبرق چمکتی کیونکہ ہے ہنس کے یہ پھر کہا کہ یوںShah Naseer (1756–1838)
- کیوں نہ کہیں بشر کو ہم آتش و آب و خاک و بادقدرت حق سے ہیں بہم آتش و آب و خاک و بادShah Naseer (1756–1838)
- دل کو میں آج ناصحاں اس کو دیا جو ہو سو ہوراہ میں عشق کے قدم اب تو رکھا جو ہو سو ہوMir Mohammadi Bedar (d. 1786)
- گشت نہ کر ادھر ادھر بے خبری جہاں میں ہےاپنے ہی دل میں غور کر دیکھ مکیں مکاں میں ہےNaseem Dehlvi (1794–1864)
- دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟روئیں گے ہم ہزار بار ۔کوئی ہمیں ستائے کیوں؟Mirza Ghalib (1797–1869)
- غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یُوںبوسے کو پُوچھتا ہوں مَیں، منہ سےمجھے بتا کہ یُوںMirza Ghalib (1797–1869)
- سوختگاں کی خاک میں ریزشِ نقشِ داغ ہےآئینۂ نشانِ حال مثلِ گلِ چراغ ہےMirza Ghalib (1797–1869)
- شکوہ و شکر کو ثمر بیم و امید کا سمجھخانۂ آگہی خراب دل نہ سمجھ بلا سمجھMirza Ghalib (1797–1869)
- کلفتِ ربطِ این و آں غفلتِ مدعا سمجھشوق کرے جو سرگراں محملِ خوابِ پا سمجھMirza Ghalib (1797–1869)
- تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میںہم نہیں چاہتے کمی اپنی شب دراز میںMomin Khan Momin (1800–1852)
- دور ہو درد دل یہ اور درد جگر کسی طرحآج تو ہم نشیں اسے لا مرے گھر کسی طرحBahram ji (1828–1895)
- کیوں نہ جہاں میں ہو عیاں عیب و ہنر الگ الگدیکھتے ہیں بہ چشم غور اہل نظر الگ الگDagh Dehlvi (1831–1905)
- مانی ہزار منتیں رد نہ ہوئی بلائے دلدرد کچھ اور بڑھ گیا میں نے جو کی دوائے دلDagh Dehlvi (1831–1905)
- چست کمر کا کیا سبب تنگ قبا کی وجہ کیاہم تو ہیں آپ سر بکف ہم سے ادا کی وجہ کیاShad Azimabadi (1846–1927)
- سنگ جفا کا غم نہیں دست طلب کا ڈر نہیںاپنا ہے اس پر آشیاں نخل جو بارور نہیںNazm Tabatabai (1854–1933)
- حضرت دل یہ عشق ہے درد سے کسمسائے کیوںموت ابھی سے آئے کیوں جان ابھی سے جائے کیوںBekhud Dehlvi (1863–1955)
- اس کی تو ایک دل لگی اپنا بنا کے چھوڑ دےجائے وہ اب کہاں جسے سب سے چھڑا کے چھوڑ دےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- اے مرے زخم دل نواز غم کو خوشی بنائے جاآنکھوں سے خوں بہائے جا ہونٹوں سے مسکرائے جاArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- کیسے چھپاؤں رازِ غم، دیدۂ تر کو کیا کروںدل کی تپش کو کیا کروں، سوزِ جگر کو کیا کروںHasrat Mohani (1875–1951)
- پردے اٹھے ہوئے بھی ہیں ان کی ادھر نظر بھی ہےبڑھ کے مقدر آزما سر بھی ہے سنگ در بھی ہےBedam Warsi (1876–1936)
- سینہ میں دل ہے دل میں داغ داغ میں سوز و ساز عشقپردہ بہ پردہ ہے نہاں پردہ نشیں کا راز عشقBedam Warsi (1876–1936)
- کاش مری جبین شوق سجدوں سے سرفراز ہویار کی خاک آستاں تاج سر نیاز ہوBedam Warsi (1876–1936)
- پیا مAllama Iqbal (1877–1938)
- طلبہء علی گڑھ کالج کے نامAllama Iqbal (1877–1938)
- گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کرہوش و خرد شکار کر، قلب و نظر شکار کرAllama Iqbal (1877–1938)
- عالِم آب و خاک و باد! سِرِّ عیاں ہے تُو کہ مَیںوہ جو نظر سے ہے نہاں، اُس کا جہاں ہے تُو کہ مَیںAllama Iqbal (1877–1938)
- تُو ابھی رہ گزر میں ہے، قیدِ مقام سے گزرمصر و حجاز سے گزر، پارس و شام سے گزرAllama Iqbal (1877–1938)
- میرِ سپاہ ناسزا، لشکریاں شکستہ صفآہ! وہ تیرِ نیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدفAllama Iqbal (1877–1938)
- فرشتوں کاگیتAllama Iqbal (1877–1938)
- ذوق و شوقAllama Iqbal (1877–1938)
- مجھ کو مرے نصیب نے روز ازل سے کیا دیادولت دو جہاں نہ دی اک دل مبتلا دیاFani Badayuni (1879–1941)
- گرم تلاش و جستجو اب ہے تری نظر کہاںخون ہے کچھ جما ہوا قلب کہاں جگر کہاںAsghar Gondvi (1884–1936)
- حسن کو وسعتیں جو دیں عشق کو حوصلہ دیاجو نہ ملے نہ مٹ سکے وہ مجھے مدعا دیاAsghar Gondvi (1884–1936)
- اف مری زندگی کی رات اف مری زندگی کے دنایسی نہ ہے کسی کی رات ایسے نہ ہیں کسی کے دنKaifi Chirayyakoti (1890–1956)
- تو نہ ہو ہم نفس اگر جینے کا لطف ہی نہیںجس میں نہ تو شریک ہو موت ہے زندگی نہیںHadi Machlishahri (1890–1961)
- محو کمال آرزو مجھ کو بنا کے بھول جااپنے حریم ناز کا پردہ اٹھا کے بھول جاHadi Machlishahri (1890–1961)
- کچھ بھی عیاں نہاں نہ تھا کوئی زماں مکاں نہ تھادیر تھی اک نگاہ کی پھر یہ جہاں جہاں نہ تھاFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- نرم فضا کی کروٹیں دل کو دکھا کے رہ گئیںٹھنڈی ہوائیں بھی تری یاد دلا کے رہ گئیںFiraq Gorakhpuri (1896–1982)
- ان کو جگر کی جستجو ان کی نظر کو کیا کروںمجھ کو نظر کی آرزو اپنے جگر کو کیا کروںHafeez Jalandhari (1900–1982)
- کوئی دوا نہ دے سکے مشورۂ دعا دیاچارہ گروں نے اور بھی دل کا درد بڑھا دیاHafeez Jalandhari (1900–1982)
- ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکےتم نے ہمیں بھلا دیا ہم نہ تمہیں بھلا سکےHafeez Jalandhari (1900–1982)
- شکوہ نہیں گلہ نہیں ربط کوئی بہم نہیںرسم سلام کیا جہاں پرسش حال غم نہیںJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)