Poetry
Khafif Musaddas Makhbun Mahzuf Maqtu'
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع- یہ ہے آب رواں نہ ٹھہرے گاعمر کا کارواں نہ ٹھہرے گاAabid Adeeb (b. 1937)
- آپ سے چوک ہو گئی شایدآپ اور مجھ پہ مہرباں کیا خوبUnwan Chishti (1937–2004)
- عیش و غم زندگی کے پھیرے ہیںشب کی آغوش میں سویرے ہیںKaif Azimabadi (b. 1937)
- درد اوروں کا دل میں گر رکھئےبے غرض ہو کے عمر بھر رکھئےdarvesh bharti (b. 1937)
- سامنے جو کہا نہیں ہوتاتم سے کوئی گلہ نہیں ہوتاdarvesh bharti (b. 1937)
- تیرا سچ ہے ترے عذابوں میںجھوٹ لکھا ہے سب کتابوں میںNida Fazli (1938–2016)
- جانے والوں سے رابطہ رکھنادوستو رسم فاتحہ رکھناNida Fazli (1938–2016)
- جو بھلا ہے اسے برا مت کرخود سے بھی بارہا ملا مت کرNida Fazli (1938–2016)
- یہ جو پھیلا ہوا زمانہ ہےاس کا رقبہ غریب خانہ ہےNida Fazli (1938–2016)
- یہ نہ پوچھو کہ واقعہ کیا ہےکس کی نظروں کا زاویہ کیا ہےNida Fazli (1938–2016)
- تم نےشاید کسی رسالے میںNida Fazli (1938–2016)
- گھاس پر کھیلتا ہے اک بچہپاس ماں بیٹھی مسکراتی ہےNida Fazli (1938–2016)
- آپ ناحق ملال کرتے ہیںمفت جی کو نڈھال کرتے ہیںPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- اور مشکل یہ آ پڑی ہم پرطنز کرتے ہیں آپ بھی ہم پرPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- صبح دم کا مزا نہیں لیتےلوگ تازہ ہوا نہیں لیتےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- غم میں اک لطف شادمانی ہےٹھوکروں میں بھی کامرانی ہےPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- لوگ جو دل فگار ہوتے ہیںچلتے پھرتے مزار ہوتے ہیںPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- رات ہے چاند ہے ستارے ہیںبے سہاروں کے سو سہارے ہیںPandit Vidya Rattan Asi (1938–2019)
- آگ ہی کاش لگ گئی ہوتیدو گھڑی کو تو روشنی ہوتیBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- کیا کہیں روز صبح ہوتے ہییہ مسافر کہاں سے آتے ہیںBadiuzzaman Khawar (1938–1990)
- تجربے گرچہ یہ بتاتے ہیںوقت بے رحم اک سپاہی ہےOwais Ahmad Dauran (b. 1938)
- آئنے میں خود اپنا چہرا ہےپھر بھی کیوں اجنبی سا لگتا ہےZaheer Ghazipuri (b. 1938)
- خواب ہی خواب کب تلک دیکھوںکاش تجھ کو بھی اک جھلک دیکھوںObaidullah Aleem (1939–1998)
- آؤ تم ہی کرو مسیحائیاب بہلتی نہیں ہے تنہائیObaidullah Aleem (1939–1998)
- دل جلا پھر چراغ جلتے ہیاپنے دکھ بھی ہیں شام جیسے ہیGhayas Mateen (b. 1939)
- ہر ادا تند اور نبات اس کیدل میں کھبتی ہے بات بات اس کیTabish Siddiqui (b. 1939)
- اپنے انداز کا اکیلا تھااس لئے میں بڑا اکیلا تھاWaseem Barelvi (b. 1940)
- دیر سے ایک ناسمجھ بچہاک کھلونے کے ٹوٹ جانے پرWaseem Barelvi (b. 1940)
- شہر میرا اداس گنگا ساکوئی بھی آئے اور اپنے پاپWaseem Barelvi (b. 1940)
- وقت کے تیز گام دریا میںتو کسی موج کی طرح ابھریWaseem Barelvi (b. 1940)
- ایک جنبش میں کٹ بھی سکتے ہیںدھار پر رکھے سب کے چہرے ہیںzafar iqbal zafar (b. 1940)
- رابطہ کیوں رکھوں میں دریا سےپیاس بجھتی ہے میری صحرا سےzafar iqbal zafar (b. 1940)
- سر بریدہ ہوا مقابل ہےسب کی آنکھوں میں خوف شامل ہےzafar iqbal zafar (b. 1940)
- دل میں بیٹھا تھا ایک ڈر شایدآج بھی ہے وہ ہم سفر شایدJafar Sahni (1941–2018)
- زرد پتا جو ڈال سے نکلاحسرتوں کے وبال سے نکلاJafar Sahni (1941–2018)
- عید کا دن تو ہے مگر جعفرؔمیں اکیلے تو ہنس نہیں سکتاJafar Sahni (1941–2018)
- جو نہیں ہے اسی کھلے در کوجا رہا ہوں میں چھوڑ کر گھر کوOm Prabhakar (b. 1941)
- سب ہیں سو میں بھی اس سفر میں ہوںدن میں گردش میں رات گھر میں ہوںOm Prabhakar (b. 1941)
- سر پہ دست ہوا ہے صدیوں سےغیب کا آسرا ہے صدیوں سےOm Prabhakar (b. 1941)
- کل سماعت دکھی صدا کو دوںجسم دھرتی کو جاں ہوا کو دوںOm Prabhakar (b. 1941)
- کوئی شکوہ کوئی گلہ رکھیےکچھ نہ کچھ جاری سلسلہ رکھیےOm Prabhakar (b. 1941)
- میرے پیروں تلے جو دھرتی ہےمیرے ہاتھوں ہی وہ بکھرتی ہےOm Prabhakar (b. 1941)
- دل میں مورت سی گڑھ گئیں آنکھیںآپ کی مجھ پہ پڑ گئیں آنکھیںV.C. Ray (b. 1941)
- رات کی آخری ٹرین تلکگھر میں بکھری ہوئی سبھی چیزیںHafeez Aatish (b. 1942)
- میں بہت دیر سے کھڑا یوںہیجانے کیا تک رہا تھا ساحل پرHafeez Aatish (b. 1942)
- جادۂ راستی ہی کافی ہےمجھ کو یہ روشنی ہی کافی ہےHafeez Shahid (1942–2014)
- فکر سود و زیاں میں رہتا ہوںمیں بھی اس خاکداں میں رہتا ہوںHafeez Shahid (1942–2014)
- روز مرغا بنا کرے کوئیکب تک آخر پٹا کرے کوئیKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- سرد جذبے بجھے بجھے چہرےجسم زندہ ہیں مر گئے چہرےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)
- چاند پہلے بھی خوب صورت تھاآج بھی چاند خوب صورت ہےKaif Ahmed Siddiqui (1943–1986)