Poetry
Khafif Musaddas Makhbun Mahzuf Maqtu'
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع- کاش نور سحر کی کوئی کرنزلف سے کرتی مجھ کو ہم آغوشJaiKrishn Chaudhry Habeeb (b. 1904)
- کبھی گیسو نہ بگڑے قاتل کےناز بردار ہیں مرے دل کےRasheed Lakhnavi (d. 1904)
- دل بلا سے نثار ہو جائےآپ کو اعتبار ہو جائےChiragh Hasan Hasrat (1904–1955)
- تیری رحمت نے کر دیا گستاخورنہ پہلے تو میں نہ تھا گستاخJaimini Sarshar (1904–1984)
- زندگی چین پا نہیں سکتیموت کو موت آ نہیں سکتیJaimini Sarshar (1904–1984)
- سجدہ اور ان کے آستانے کاحوصلہ دیکھیے زمانہ کاJaimini Sarshar (1904–1984)
- کس کو دیکھا ہے یہ ہوا کیا ہےدل دھڑکتا ہے ماجرا کیا ہےAkhtar Shirani (1905–1948)
- وعدہ اس ماہرو کے آنے کایہ نصیبہ سیاہ خانے کاAkhtar Shirani (1905–1948)
- چڑیوں کی شکایتAkhtar Shirani (1905–1948)
- شملہAkhtar Shirani (1905–1948)
- چین پڑتا ہے دل کو آج نہ کلوہی الجھن گھڑی گھڑی پل پلAbid Ali Abid (1906–1971)
- سب کے جلوے نظر سے گزرے ہیںوہ نہ جانے کدھر سے گزرے ہیںAbid Ali Abid (1906–1971)
- وہ کسی پر جفا نہیں کرتےاعتبار وفا نہیں کرتےAbid Ali Abid (1906–1971)
- زخم پر زخم لے کے سینے میںلطف ہے مسکرا کے جینے میںFaiyaz Gwaliari (1906–1980)
- اہل دل جو بھی بات کہتے ہیںکوئی راز حیات کہتے ہیںKaif Moradaabadi (1907–1976)
- تجھ سے دامن کشاں نہیں ہوں میںاے زمیں آسماں نہیں ہوں میںSaba Akbarabadi (1908–1991)
- تم نے رسم جفا اٹھا دی ہےہمیں کس جرم کی سزا دی ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- جو ہمارے سفر کا قصہ ہےوہ تری رہ گزر کا قصہ ہےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- فیض پہنچے ہیں جو بہاروں سےپوچھتے کیا ہو دل نگاروں سےHabeeb Ahmad Siddiqui (b. 1908)
- غم کو وجہ حیات کہتے ہیںآپ بھی خوب بات کہتے ہیںDavarka Das Shola (1910–1983)
- میری منزل کہاں ہے کیا معلومانتہا غم ہے ابتدا معلومDavarka Das Shola (1910–1983)
- منزلوں کے نشاں نہیں ملتےتم اگر ناگہاں نہیں ملتےQamar Moradabadi (1910–1987)
- پھر حریف بہار ہو بیٹھےجانے کس کس کو آج رو بیٹھےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- چشم میگوں ذرا ادھر کر دےدست قدرت کو بے اثر کر دےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- سہل یوں راہ زندگی کی ہےہر قدم ہم نے عاشقی کی ہےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- ہمت التجا نہیں باقیضبط کا حوصلہ نہیں باقیFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- ہم نے سب شعر میں سنوارے تھےہم سے جتنے سخن تمہارے تھےFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- یک بیک شورش فغاں کی طرحفصل گل آئی امتحاں کی طرحFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- شام کے پیچ و خم ستاروں سےزینہ زینہ اتر رہی ہے راتFaiz Ahmad Faiz (1911–1984)
- آسماں تک جو نالہ پہنچا ہےدل کی گہرائیوں سے نکلا ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- حسن پھر فتنہ گر ہے کیا کہئےدل کی جانب نظر ہے کیا کہئےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- حسن کو بے حجاب ہونا تھاشوق کو کامیاب ہونا تھاMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- خامشی کا تو نام ہوتا ہےورنہ یوں بھی کلام ہوتا ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- عاشقی جاں فزا بھی ہوتی ہےاور صبر آزما بھی ہوتی ہےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- عیش سے بے نیاز ہیں ہم لوگبے خود سوز و ساز ہیں ہم لوگMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- مہمانMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- زہراب حسنMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- سب نے مجھ ہی کو در بدر دیکھابے گھری نے مرا ہی گھر دیکھاTabish Dehlvi (1911–2004)
- منزلوں کو نظر میں رکھا ہےجب قدم رہ گزر میں رکھا ہےTabish Dehlvi (1911–2004)
- ہمہ تن گوش اک زمانہ تھامیرے لب پر ترا فسانہ تھاTabish Dehlvi (1911–2004)
- آئینہ جب بھی رو بہ رو آیااپنا چہرہ چھپا لیا ہم نےTabish Dehlvi (1911–2004)
- دیدۂ اشک بار ہے اپنااور دل بے قرار ہے اپناMeeraji (1912–1949)
- روشنی سی کبھی کبھی دل میںمنزل بے نشاں سے آتی ہےHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- چاندنی رات ہے جوانی پردست گردوں میں ساغر مہتابHafeez Hoshiarpuri (1912–1973)
- مل گئی درد کی دوا دل کورکھے اللہ میرے قاتل کوAali Gopalpuri (1912–1980)
- تو مجھے اتنے پیار سے مت دیکھتیری پلکوں کے نرم سائے میںAli Sardar Jafri (1913–2000)
- تیرگی کے سیاہ غاروں سےشہپروں کی صدائیں آتی ہیںAli Sardar Jafri (1913–2000)
- ماں ہے ریشم کے کارخانے میںباپ مصروف سوتی مل میں ہےAli Sardar Jafri (1913–2000)
- ہم سے الفت جتائی جاتی ہےبے قراری بڑھائی جاتی ہےEhsan Danish (1914–1982)
- شہر در شہر، قریہ در قریہسال ہا سال سے بھٹکتا ہوںAkhtar-ul-Iman (1915–1996)