Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آزاد اس سے ہیں کہ بیاباں ہی کیوں نہ ہوپھاڑیں گے جیب گوشۂ زنداں ہی کیوں نہ ہوWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  2. آنکھ میں جلوہ ترا دل میں تری یاد رہےیہ میسر ہو تو پھر کیوں کوئی ناشاد رہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  3. آہ شب نالۂ سحر لے کرنکلے ہم توشۂ سفر لے کرWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  4. آئینۂ خیال تھا عکس پذیر راز کاطور شہید ہو گیا جلوۂ دل نواز کاWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  5. اے اہل وفا خاک بنے کام تمہاراآغاز بتا دیتا ہے انجام تمہاراWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  6. بہار آئی ہے آرائش چمن کے لیےمری بھی طبع کو تحریک ہے سخن کے لیےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  7. پوشیدہ دیکھتی ہے کسی کی نظر مجھےدیکھ اے نگاہ شوق تو رسوا نہ کر مجھےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  8. پیمان وفائے یار ہیں ہمیعنی ناپائیدار ہیں ہمWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  9. ترے آشفتہ سے کیا حال بیتابی بیاں ہوگاجبین شوق ہوگی اور تیرا آستاں ہوگاWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  10. تو ہے اور عیش ہے اور انجمن آرائی ہےمیں ہوں اور رنج ہے اور گوشۂ تنہائی ہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  11. تیر نظر نے ظلم کو احساں بنا دیاترکیب دل نے درد کو درماں بنا دیاWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  12. جان اس کی اداؤں پر نکلتی ہی رہے گییہ چھیڑ جو چلتی ہے سو چلتی ہی رہے گیWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  13. جدا کریں گے نہ ہم دل سے حسرت دل کوعزیز کیوں نہ رکھیں زندگی کے حاصل کوWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  14. جو تجھ سے شور تبسم ذرا کمی ہوگیہمارے زخم جگر کی بڑی ہنسی ہوگیWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  15. چلا جاتا ہے کاروان نفسنہ بانگ درا ہے نہ صوت جرسWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  16. درد آ کے بڑھا دو دل کا تم یہ کام تمہیں کیا مشکل ہےبیمار بنانا آساں ہے ہر چند مداوا مشکل ہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  17. درد کا میرے یقیں آپ کریں یا نہ کریںعرض اتنی ہے کہ اس راز کا چرچا نہ کریںWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  18. دیکھنا وہ گریۂ حسرت مآل آ ہی گیابیکسی میں کوئی تو پرسان حال آ ہی گیاWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  19. زمیں روئی ہمارے حال پر اور آسماں رویاہماری بیکسی کو دیکھ کر سارا جہاں رویاWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  20. سرور افزا ہوئی آخر شراب آہستہ آہستہہوا وہ بزم مے میں بے حجاب آہستہ آہستہWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  21. سنگ طفلاں فدائے سر نہ ہواآج اس کوچے میں گزر نہ ہواWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  22. شرمندہ کیا جوہر بالغ نظری نےاس جنس کو بازار میں پوچھا نہ کسی نےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  23. شوق پھر کوچۂ جاناں کا ستاتا ہے مجھےمیں کہاں جاتا ہوں کوئی لیے جاتا ہے مجھےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  24. شوق دیتا ہے مجھے پیغام عشقہاتھ میں لبریز لے کر جام عشقWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  25. شوق نے عشرت کا ساماں کر دیادل کو محو روئے جاناں کر دیاWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  26. ضبط کی کوشش ہے جان ناتواں مشکل میں ہےکیوں عیاں ہو آنکھ سے وہ غم جو پنہاں دل میں ہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  27. کسی صورت سے اس محفل میں جا کرمقدر ہم بھی دیکھیں آزما کرWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  28. کسی طرح دن تو کٹ رہے ہیں فریب امید کھا رہا ہوںہزارہا نقش آرزو کے بنا رہا ہوں مٹا رہا ہوںWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  29. کہتے ہو اب مرے مظلوم پہ بیداد نہ ہوستم ایجاد ہو پھر کیوں ستم ایجاد نہ ہوWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  30. کیا ہے کہ آج چلتے ہو کترا کے راہ سےدیکھو ادھر نگاہ ملا کر نگاہ سےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  31. لطف نہاں سے جب جب وہ مسکرا دئیے ہیںمیں نے بھی زخم دل کے ان کو دکھا دئیے ہیںWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  32. لگاؤ نہ جب دل تو پھر کیوں لگاوٹنہیں مجھ کو بھاتی تمہاری بناوٹWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  33. لوٹا ہے مجھے اس کی ہر ادا نےانداز نے ناز نے حیا نےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  34. مروت کا پاس اور وفا کا لحاظکرے آشنا آشنا کا لحاظWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  35. میں نے مانا کام ہے نالہ دل ناشاد کاہے تغافل شیوہ آخر کس ستم ایجاد کاWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  36. نالوں سے اگر میں نے کبھی کام لیا ہےخود ہی اثر نالہ سے دل تھام لیا ہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  37. نہیں کہ عشق نہیں ہے گل و سمن سے مجھےدل فسردہ لیے جاتا ہے چمن سے مجھےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  38. نہیں ممکن لب عاشق سے حرف مدعا نکلےجسے تم نے کیا خاموش اس سے کیا صدا نکلےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  39. وحشتؔ مبتلا خدا کے لیےجان دیتا ہے کیوں وفا کے لیےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  40. وفائے دوستاں کیسی جفائے دشمناں کیسینہ پوچھا ہو کسی نے جس کو اس کی داستاں کیسیWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  41. ہوئے ہیں گم جس کی جستجو میں اسی کی ہم جستجو کریں گےرکھا ہے محروم جس نے ہم کو اسی کی ہم آرزو کریں گےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  42. یہاں ہر آنے والا بن کے عبرت کا نشاں آیاگیا زیر زمیں جو کوئی زیر آسماں آیاWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  43. یہی ہے عشق کی مشکل تو مشکل آساں ہےملا ہے درد وہ دل کو جو راحت جاں ہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  44. بے سمجھے نہ جام غم پیا تھا میں نےیہ کام تو جان کر کیا تھا میں نےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  45. کیوں غمزۂ جاں ستاں کو خنجر نہ کہیںکیوں عشوۂ دل نشیں کو نشتر نہ کہیںWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  46. مجھ سے جو نہ ملتے وہ کوئی رات نہ تھیمجھ سے جو نہ کہتے وہ کوئی بات نہ تھیWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  47. آپ اپنا روئے زیبا دیکھیےیا مجھے محو تماشا دیکھیےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  48. اور عشرت کی تمنا کیا کریںسامنے تو ہو تجھے دیکھا کریںWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  49. تلخی کش نومیدئ دیدار بہت ہیںاس نرگس بیمار کے بیمار بہت ہیںWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  50. دل کے کہنے پہ چلوں عقل کا کہنا نہ کروںمیں اسی سوچ میں ہوں کیا کروں اور کیا نہ کروںWahshat Kalkatvi (1881–1956)