لوٹا ہے مجھے اس کی ہر ادا نے
Wahshat Kalkatvi (1881–1956)لوٹا ہے مجھے اس کی ہر ادا نے
انداز نے ناز نے حیا نے
دونوں نے کیا ہے مجھ کو رسوا
کچھ درد نے اور کچھ دوا نے
بے جا ہے تری جفا کا شکوہ
مارا مجھ کو مری وفا نے
پوشیدہ نہیں تمہاری چالیں
کچھ مجھ سے کہا ہے نقش پا نے
کیوں جور کشان آسماں سے
منہ پھیر لیا تری جفا نے
دل کو مایوس کر دیا ہے
بیگانہ مزاج آشنا نے
دونوں نے بڑھائی رونق حسن
شوخی نے کبھی کبھی حیا نے
خوش پاتے ہیں مجھ کو دوست وحشتؔ
دل کا احوال کون جانے