دیکھنا وہ گریۂ حسرت مآل آ ہی گیا

Wahshat Kalkatvi (1881–1956)

دیکھنا وہ گریۂ حسرت مآل آ ہی گیا

بیکسی میں کوئی تو پرسان حال آ ہی گیا

جرأت عرض تمنا کا سبب وہ خود ہوئے

مہرباں دیکھا انہیں لب پر سوال آ ہی گیا

دل کو ہم کب تک بچائے رکھتے ہر آسیب سے

ٹھیس آخر لگ گئی شیشے میں بال آ ہی گیا

بے وفائی سے وفا کا دیتے وہ کب تک جواب

دل ہی تو ہے رفتہ رفتہ انفعال آ ہی گیا

خود فراموشی کی لذت نامکمل رہ گئی

باوجود بے خودی تیرا خیال آ ہی گیا

ایک مدت سے نہیں ملتا تھا وحشتؔ کا پتا

لے ترے کوچے میں وہ آشفتہ حال آ ہی گیا