Poetry
- ان لبوں کی یاد آئی گل کے مسکرانے سےزخم دل ابھر آئے پھر بہار آنے سےUnknown
- بہار کی دھوپ میں نظارے ہیں اس کنارےسفید پانی کے سبز دھارے ہیں اس کنارےUnknown
- پھروں ڈھونڈتا میکدہ توبہ توبہ مجھے آج کل اتنی فرصت نہیں ہےسلامت رہے تیری آنکھوں کی مستی مجھے مے کشی کی ضرورت نہیں ہےUnknown
- تو نے اپنا جلوہ دکھانے کو جو نقاب منہ سے اٹھا دیاوہیں محو حیرت بے خودی مجھے آئنہ سا بنا دیاUnknown
- جب خلاف مصلحت جینے کی نوبت آئی تھیڈوب مرتے ڈوب مرنے میں اگر دانائی تھیUnknown
- حقیقت کا اگر افسانہ بن جائے تو کیا کیجےگلے مل کر بھی وہ بیگانہ بن جائے تو کیا کیجےUnknown
- دل کی بربادی میں شامل تھی رضا آنکھوں کیاس کی پاداش میں کام آئی ضیا آنکھوں کیUnknown
- زمانے میں کہیں دل کو لگانا بھی ضروری تھاغلط کچھ بھی نہیں لیکن چھپانا بھی ضروری تھاUnknown
- سحر قریب ہے تاروں کا حال کیا ہوگااب انتظار کے ماروں کا حال کیا ہوگاUnknown
- سدا رہے گی یہی روانی رواں ہے پانیبہاؤ اس کا ہے جاودانی رواں ہے پانیUnknown
- فصل گل ہے سجا ہے مے خانہچل مرے دل کھلا ہے مے خانہUnknown
- کہنا غلط غلط تو چھپانا صحیح صحیحقاصد کہا جو اس نے بتانا صحیح صحیحUnknown
- کیسی ترتیب سے کاغذ پہ گرے ہیں آنسوایک بھولی ہوئی تصویر ابھر آئی ہےUnknown
- گلاب آنکھیں شراب آنکھیںیہی تو ہیں لا جواب آنکھیںUnknown
- لا پلا دے ساقیا پیمانہ پیمانے کے بعدبات مطلب کی کروں گا ہوش آ جانے کے بعدUnknown
- متاع کوثر و زمزم کے پیمانے تری آنکھیںفرشتوں کو بنا دیتی ہیں دیوانے تری آنکھیںUnknown
- محبت ہی نہ جو سمجھے وہ ظالم پیار کیا جانےنکلتی دل کے تاروں سے جو ہے جھنکار کیا جانےUnknown
- مست نظروں سے اللہ بچائے مہ جمالوں سے اللہ بچائےہر بلا سر پہ آ جائے میری حسن والوں سے اللہ بچائےUnknown
- میری آنکھوں کو بخشے ہیں آنسو دل کو داغ الم دے گئے ہیںاس عنایت پہ قربان جاؤں پیار مانگا تھا غم دے گئے ہیںUnknown
- مئے فراغت کا آخری دور چل رہا تھاسبو کنارے وصال کا چاند ڈھل رہا تھاUnknown
- نیکیوں کے زمرے میں بھی یہ کام کر جاؤمسکرا کے تھوڑا سا میرے زخم بھر جاؤUnknown
- بلبل کا بچہکھاتا تھا کھچڑیUnknown
- بنایا ہے ہم نے یہ لکڑی کا گھوڑاسڑا سڑ سڑا سڑ لگاتے ہیں کوڑاUnknown
- سنو سہیلی کہوں پہیلیہے جو کوئی بوجھےUnknown
- پھول چاہتے تھے، مگر ہاتھ آئے پتھرUnknown
- وفا کے پیمان سب بھلا کرجفائیں کرتے وفا کے قاتلUnknown
- تمہیں لائی ہے میرے روبروساعت چمکنے کیUnknown
- یہاں سورج چمکتا ہےندی کے صاف پانی میںUnknown
- زمین گونگی ہو رہی ہےپرندے چپ سادھےUnknown
- ستارےاب نمو کی آگ مدھم ہوتی جاتی ہےUnknown
- ستارےتو نے دیکھی ہے فضا سارے زمانوں کیUnknown
- ستارےکتنی شدت سے چمکتا ہے بدن تیراUnknown
- اب میں سمجھا ترے رخسار پہ تل کا مطلبدولت حسن پہ دربان بٹھا رکھا ہےUnknown
- اس بھروسے پہ کر رہا ہوں گناہبخش دینا تو تیری فطرت ہےUnknown
- ان کے ہونے سے بخت ہوتے ہیںباپ گھر کے درخت ہوتے ہیںUnknown
- ایک بوسے کے طلب گار ہیں ہماور مانگیں تو گنہ گار ہیں ہمUnknown
- اے آسمان تیرے خدا کا نہیں ہے خوفڈرتے ہیں اے زمین ترے آدمی سے ہمUnknown
- بے چین اس قدر تھا کہ سویا نہ رات بھرپلکوں سے لکھ رہا تھا ترا نام چاند پرUnknown
- پلکوں کی حد کو توڑ کے دامن پہ آ گرااک اشک میرے صبر کی توہین کر گیاUnknown
- پیتا ہوں جتنی اتنی ہی بڑھتی ہے تشنگیساقی نے جیسے پیاس ملا دی شراب میںUnknown
- پیمانہ کہے ہے کوئی مے خانہ کہے ہےدنیا تری آنکھوں کو بھی کیا کیا نہ کہے ہےUnknown
- تم ہنسو تو دن نکلے چپ رہو تو راتیں ہیںکس کا غم کہاں کا غم سب فضول باتیں ہیںUnknown
- تنہائیاں تمہارا پتہ پوچھتی رہیںشب بھر تمہاری یاد نے سونے نہیں دیاUnknown
- جان لینی تھی صاف کہہ دیتےکیا ضرورت تھی مسکرانے کیUnknown
- جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہکان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیںUnknown
- چہرہ کھلی کتاب ہے عنوان جو بھی دوجس رخ سے بھی پڑھو گے مجھے جان جاؤ گےUnknown
- حسین چہرے کی تابندگی مبارک ہوتجھے یہ سالگرہ کی خوشی مبارک ہوUnknown
- خدا کرے نہ ڈھلے دھوپ تیرے چہرہ کیتمام عمر تری زندگی کی شام نہ ہوUnknown
- دل ٹوٹنے سے تھوڑی سی تکلیف تو ہوئیلیکن تمام عمر کو آرام ہو گیاUnknown
- دل میں طوفان ہو گیا برپاتم نے جب مسکرا کے دیکھ لیاUnknown