Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آج پھر گردش تقدیر پہ رونا آیادل کی بگڑی ہوئی تصویر پہ رونا آیاShakeel Badayuni (1916–1970)
  2. آخری وقت ہے آخری سانس ہے زندگی کی ہے شام آخری آخریسنگ دل آ بھی جا اب خدا کے لیے لب پہ ہے تیرا نام آخری آخریShakeel Badayuni (1916–1970)
  3. آدمی نہ اتنا بھی دور ہو زمانے سےصبح کو جدا سمجھے شام کے فسانے سےShakeel Badayuni (1916–1970)
  4. آنکھ سے آنکھ ملاتا ہے کوئیدل کو کھینچے لیے جاتا ہے کوئیShakeel Badayuni (1916–1970)
  5. آنکھوں سے دور صبح کے تارے چلے گئےنیند آ گئی تو غم کے نظارے چلے گئےShakeel Badayuni (1916–1970)
  6. اب تک شکایتیں ہیں دل بد نصیب سےاک دن کسی کو دیکھ لیا تھا قریب سےShakeel Badayuni (1916–1970)
  7. اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھےبے حس بنا چکی ہے بہت زندگی مجھےShakeel Badayuni (1916–1970)
  8. اٹھی پھر دل میں اک موج شباب آہستہ آہستہکچھ آیا زندگی میں انقلاب آہستہ آہستہShakeel Badayuni (1916–1970)
  9. اس درجہ بد گماں ہیں خلوص بشر سے ہماپنوں کو دیکھتے ہیں پرائی نظر سے ہمShakeel Badayuni (1916–1970)
  10. اک اک قدم فریب تمنا سے بچ کے چلدنیا کی آرزو ہے تو دنیا سے بچ کے چلShakeel Badayuni (1916–1970)
  11. ان سے امید رو نمائی ہےکیا نگاہوں کی موت آئی ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
  12. اے عشق یہ سب دنیا والے بیکار کی باتیں کرتے ہیںپائل کے غموں کا علم نہیں جھنکار کی باتیں کرتے ہیںShakeel Badayuni (1916–1970)
  13. اے محبت ترے انجام پہ رونا آیاجانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیاShakeel Badayuni (1916–1970)
  14. بدلے بدلے مرے غم خوار نظر آتے ہیںمرحلے عشق کے دشوار نظر آتے ہیںShakeel Badayuni (1916–1970)
  15. بہار آئی کسی کا سامنا کرنے کا وقت آیاسنبھل اے دل کہ اظہار وفا کرنے کا وقت آیاShakeel Badayuni (1916–1970)
  16. تری انجمن میں ظالم عجب اہتمام دیکھاکہیں زندگی کی بارش کہیں قتل عام دیکھاShakeel Badayuni (1916–1970)
  17. تصویر بناتا ہوں تری خون جگر سےدیکھا ہے تجھے میں نے محبت کی نظر سےShakeel Badayuni (1916–1970)
  18. تقدیر کی گردش کیا کم تھی اس پر یہ قیامت کر بیٹھےبے تابئ دل جب حد سے بڑھی گھبرا کے محبت کر بیٹھےShakeel Badayuni (1916–1970)
  19. تم نے یہ کیا ستم کیا ضبط سے کام لے لیاترک وفا کے بعد بھی میرا سلام لے لیاShakeel Badayuni (1916–1970)
  20. جنوں سے گزرنے کو جی چاہتا ہےہنسی ضبط کرنے کو جی چاہتا ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
  21. جو دل پہ گزرتی ہے وہ سمجھا نہیں سکتےہم دیکھنے والوں کو نظر آ نہیں سکتےShakeel Badayuni (1916–1970)
  22. جینے والے قضا سے ڈرتے ہیںزہر پی کر دوا سے ڈرتے ہیںShakeel Badayuni (1916–1970)
  23. چاندنی میں رخ زیبا نہیں دیکھا جاتاماہ و خورشید کو یکجا نہیں دیکھا جاتاShakeel Badayuni (1916–1970)
  24. خوش ہوں کہ مرا حسن طلب کام تو آیاخالی ہی سہی میری طرف جام تو آیاShakeel Badayuni (1916–1970)
  25. دل کے بہلانے کی تدبیر تو ہےتو نہیں ہے تری تصویر تو ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
  26. دل مرکز حجاب بنایا نہ جائے گاان سے بھی راز عشق چھپایا نہ جائے گاShakeel Badayuni (1916–1970)
  27. دنیا کی روایات سے بیگانہ نہیں ہوںچھیڑو نہ مجھے میں کوئی دیوانہ نہیں ہوںShakeel Badayuni (1916–1970)
  28. زندگی ان کی چاہ میں گزریمستقل درد و آہ میں گزریShakeel Badayuni (1916–1970)
  29. عشق کی چنگاریوں کو پھر ہوا دینے لگےمیرے پاس آ کر وہ دشمن کو دعا دینے لگےShakeel Badayuni (1916–1970)
  30. غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچےمجھے خوف ہے یہ تہمت ترے نام تک نہ پہنچےShakeel Badayuni (1916–1970)
  31. غم عشق رہ گیا ہے غم جستجو میں ڈھل کروہ نظر سے چھپ گئے ہیں مری زندگی بدل کرShakeel Badayuni (1916–1970)
  32. کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہےترا غم رہے سلامت مرے دل میں کیا نہیں ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
  33. کوئی ساغر دل کو بہلاتا نہیںبے خودی میں بھی قرار آتا نہیںShakeel Badayuni (1916–1970)
  34. کہیں حسن کا تقاضا کہیں وقت کے اشارےنہ بچا سکیں گے دامن غم زندگی کے مارےShakeel Badayuni (1916–1970)
  35. کیسے کہہ دوں کی ملاقات نہیں ہوتی ہےروز ملتے ہیں مگر بات نہیں ہوتی ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
  36. لمحہ لمحہ بار ہے تیرے بغیرزندگی دشوار ہے تیرے بغیرShakeel Badayuni (1916–1970)
  37. مری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیںجسے تیرے غم سے ہو واسطہ وہ خزاں بہار سے کم نہیںShakeel Badayuni (1916–1970)
  38. مری زندگی ہے ظالم ترے غم سے آشکاراترا غم ہے در حقیقت مجھے زندگی سے پیاراShakeel Badayuni (1916–1970)
  39. میرے ہم نفس میرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دےمیں ہوں درد عشق سے جاں بہ لب مجھے زندگی کی دعا نہ دےShakeel Badayuni (1916–1970)
  40. نظر نواز نظاروں میں جی نہیں لگتاوہ کیا گئے کہ بہاروں میں جی نہیں لگتاShakeel Badayuni (1916–1970)
  41. نگاہ ناز کا اک وار کر کے چھوڑ دیادل حریف کو بیدار کر کے چھوڑ دیاShakeel Badayuni (1916–1970)
  42. نمایاں دونوں جانب شان فطرت ہوتی جاتی ہےانہیں مجھ سے مجھے ان سے محبت ہوتی جاتی ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
  43. نہ سوچا تھا یہ دل لگانے سے پہلےکہ ٹوٹے گا دل مسکرانے سے پہلےShakeel Badayuni (1916–1970)
  44. نہ ملتا غم تو بربادی کے افسانے کہاں جاتےاگر دنیا چمن ہوتی تو ویرانے کہاں جاتےShakeel Badayuni (1916–1970)
  45. وجہ قدر و قیمت دل حسن کی تنویر ہےورنہ اک ٹوٹے ہوئے شیشے کی کیا توقیر ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
  46. وہ ہم سے دور ہوتے جا رہے ہیںبہت مغرور ہوتے جا رہے ہیںShakeel Badayuni (1916–1970)
  47. وہ یوں کھو کے مجھے پایا کریں گےمرا افسانہ دہرایا کریں گےShakeel Badayuni (1916–1970)
  48. ہنگامۂ غم سے تنگ آ کر اظہار مسرت کر بیٹھےمشہور تھی اپنی زندہ دلی دانستہ شرارت کر بیٹھےShakeel Badayuni (1916–1970)
  49. ہوئی ہم سے یہ نادانی تری محفل میں آ بیٹھےزمیں کی خاک ہو کر آسماں سے دل لگا بیٹھےShakeel Badayuni (1916–1970)
  50. یہ دنیا ہے یہاں دل کو لگانا کس کو آتا ہےہزاروں پیار کرتے ہیں نبھانا کس کو آتا ہےShakeel Badayuni (1916–1970)