Poetry
- آج پھر گردش تقدیر پہ رونا آیادل کی بگڑی ہوئی تصویر پہ رونا آیاShakeel Badayuni (1916–1970)
- آخری وقت ہے آخری سانس ہے زندگی کی ہے شام آخری آخریسنگ دل آ بھی جا اب خدا کے لیے لب پہ ہے تیرا نام آخری آخریShakeel Badayuni (1916–1970)
- آدمی نہ اتنا بھی دور ہو زمانے سےصبح کو جدا سمجھے شام کے فسانے سےShakeel Badayuni (1916–1970)
- آنکھ سے آنکھ ملاتا ہے کوئیدل کو کھینچے لیے جاتا ہے کوئیShakeel Badayuni (1916–1970)
- آنکھوں سے دور صبح کے تارے چلے گئےنیند آ گئی تو غم کے نظارے چلے گئےShakeel Badayuni (1916–1970)
- اب تک شکایتیں ہیں دل بد نصیب سےاک دن کسی کو دیکھ لیا تھا قریب سےShakeel Badayuni (1916–1970)
- اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھےبے حس بنا چکی ہے بہت زندگی مجھےShakeel Badayuni (1916–1970)
- اٹھی پھر دل میں اک موج شباب آہستہ آہستہکچھ آیا زندگی میں انقلاب آہستہ آہستہShakeel Badayuni (1916–1970)
- اس درجہ بد گماں ہیں خلوص بشر سے ہماپنوں کو دیکھتے ہیں پرائی نظر سے ہمShakeel Badayuni (1916–1970)
- اک اک قدم فریب تمنا سے بچ کے چلدنیا کی آرزو ہے تو دنیا سے بچ کے چلShakeel Badayuni (1916–1970)
- ان سے امید رو نمائی ہےکیا نگاہوں کی موت آئی ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
- اے عشق یہ سب دنیا والے بیکار کی باتیں کرتے ہیںپائل کے غموں کا علم نہیں جھنکار کی باتیں کرتے ہیںShakeel Badayuni (1916–1970)
- اے محبت ترے انجام پہ رونا آیاجانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیاShakeel Badayuni (1916–1970)
- بدلے بدلے مرے غم خوار نظر آتے ہیںمرحلے عشق کے دشوار نظر آتے ہیںShakeel Badayuni (1916–1970)
- بہار آئی کسی کا سامنا کرنے کا وقت آیاسنبھل اے دل کہ اظہار وفا کرنے کا وقت آیاShakeel Badayuni (1916–1970)
- تری انجمن میں ظالم عجب اہتمام دیکھاکہیں زندگی کی بارش کہیں قتل عام دیکھاShakeel Badayuni (1916–1970)
- تصویر بناتا ہوں تری خون جگر سےدیکھا ہے تجھے میں نے محبت کی نظر سےShakeel Badayuni (1916–1970)
- تقدیر کی گردش کیا کم تھی اس پر یہ قیامت کر بیٹھےبے تابئ دل جب حد سے بڑھی گھبرا کے محبت کر بیٹھےShakeel Badayuni (1916–1970)
- تم نے یہ کیا ستم کیا ضبط سے کام لے لیاترک وفا کے بعد بھی میرا سلام لے لیاShakeel Badayuni (1916–1970)
- جنوں سے گزرنے کو جی چاہتا ہےہنسی ضبط کرنے کو جی چاہتا ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
- جو دل پہ گزرتی ہے وہ سمجھا نہیں سکتےہم دیکھنے والوں کو نظر آ نہیں سکتےShakeel Badayuni (1916–1970)
- جینے والے قضا سے ڈرتے ہیںزہر پی کر دوا سے ڈرتے ہیںShakeel Badayuni (1916–1970)
- چاندنی میں رخ زیبا نہیں دیکھا جاتاماہ و خورشید کو یکجا نہیں دیکھا جاتاShakeel Badayuni (1916–1970)
- خوش ہوں کہ مرا حسن طلب کام تو آیاخالی ہی سہی میری طرف جام تو آیاShakeel Badayuni (1916–1970)
- دل کے بہلانے کی تدبیر تو ہےتو نہیں ہے تری تصویر تو ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
- دل مرکز حجاب بنایا نہ جائے گاان سے بھی راز عشق چھپایا نہ جائے گاShakeel Badayuni (1916–1970)
- دنیا کی روایات سے بیگانہ نہیں ہوںچھیڑو نہ مجھے میں کوئی دیوانہ نہیں ہوںShakeel Badayuni (1916–1970)
- زندگی ان کی چاہ میں گزریمستقل درد و آہ میں گزریShakeel Badayuni (1916–1970)
- عشق کی چنگاریوں کو پھر ہوا دینے لگےمیرے پاس آ کر وہ دشمن کو دعا دینے لگےShakeel Badayuni (1916–1970)
- غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچےمجھے خوف ہے یہ تہمت ترے نام تک نہ پہنچےShakeel Badayuni (1916–1970)
- غم عشق رہ گیا ہے غم جستجو میں ڈھل کروہ نظر سے چھپ گئے ہیں مری زندگی بدل کرShakeel Badayuni (1916–1970)
- کوئی آرزو نہیں ہے کوئی مدعا نہیں ہےترا غم رہے سلامت مرے دل میں کیا نہیں ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
- کوئی ساغر دل کو بہلاتا نہیںبے خودی میں بھی قرار آتا نہیںShakeel Badayuni (1916–1970)
- کہیں حسن کا تقاضا کہیں وقت کے اشارےنہ بچا سکیں گے دامن غم زندگی کے مارےShakeel Badayuni (1916–1970)
- کیسے کہہ دوں کی ملاقات نہیں ہوتی ہےروز ملتے ہیں مگر بات نہیں ہوتی ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
- لمحہ لمحہ بار ہے تیرے بغیرزندگی دشوار ہے تیرے بغیرShakeel Badayuni (1916–1970)
- مری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیںجسے تیرے غم سے ہو واسطہ وہ خزاں بہار سے کم نہیںShakeel Badayuni (1916–1970)
- مری زندگی ہے ظالم ترے غم سے آشکاراترا غم ہے در حقیقت مجھے زندگی سے پیاراShakeel Badayuni (1916–1970)
- میرے ہم نفس میرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دےمیں ہوں درد عشق سے جاں بہ لب مجھے زندگی کی دعا نہ دےShakeel Badayuni (1916–1970)
- نظر نواز نظاروں میں جی نہیں لگتاوہ کیا گئے کہ بہاروں میں جی نہیں لگتاShakeel Badayuni (1916–1970)
- نگاہ ناز کا اک وار کر کے چھوڑ دیادل حریف کو بیدار کر کے چھوڑ دیاShakeel Badayuni (1916–1970)
- نمایاں دونوں جانب شان فطرت ہوتی جاتی ہےانہیں مجھ سے مجھے ان سے محبت ہوتی جاتی ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
- نہ سوچا تھا یہ دل لگانے سے پہلےکہ ٹوٹے گا دل مسکرانے سے پہلےShakeel Badayuni (1916–1970)
- نہ ملتا غم تو بربادی کے افسانے کہاں جاتےاگر دنیا چمن ہوتی تو ویرانے کہاں جاتےShakeel Badayuni (1916–1970)
- وجہ قدر و قیمت دل حسن کی تنویر ہےورنہ اک ٹوٹے ہوئے شیشے کی کیا توقیر ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
- وہ ہم سے دور ہوتے جا رہے ہیںبہت مغرور ہوتے جا رہے ہیںShakeel Badayuni (1916–1970)
- وہ یوں کھو کے مجھے پایا کریں گےمرا افسانہ دہرایا کریں گےShakeel Badayuni (1916–1970)
- ہنگامۂ غم سے تنگ آ کر اظہار مسرت کر بیٹھےمشہور تھی اپنی زندہ دلی دانستہ شرارت کر بیٹھےShakeel Badayuni (1916–1970)
- ہوئی ہم سے یہ نادانی تری محفل میں آ بیٹھےزمیں کی خاک ہو کر آسماں سے دل لگا بیٹھےShakeel Badayuni (1916–1970)
- یہ دنیا ہے یہاں دل کو لگانا کس کو آتا ہےہزاروں پیار کرتے ہیں نبھانا کس کو آتا ہےShakeel Badayuni (1916–1970)