چاندنی میں رخ زیبا نہیں دیکھا جاتا

Shakeel Badayuni (1916–1970)

چاندنی میں رخ زیبا نہیں دیکھا جاتا

ماہ و خورشید کو یکجا نہیں دیکھا جاتا

یوں تو ان آنکھوں سے کیا کیا نہیں دیکھا جاتا

ہاں مگر اپنا ہی جلوہ نہیں دیکھا جاتا

دیدہ و دل کی تباہی مجھے منظور مگر

ان کا اترا ہوا چہرہ نہیں دیکھا جاتا

ضبط غم ہاں وہی اشکوں کا تلاطم اک بار

اب تو سوکھا ہوا دریا نہیں دیکھا جاتا

زندگی آ تجھے قاتل کے حوالے کر دوں

مجھ سے اب خون تمنا نہیں دیکھا جاتا

اب تو جھوٹی بھی تسلی بسر و چشم قبول

دل کا رہ رہ کے تڑپنا نہیں دیکھا جاتا