کوئی ساغر دل کو بہلاتا نہیں

Shakeel Badayuni (1916–1970)

کوئی ساغر دل کو بہلاتا نہیں

بے خودی میں بھی قرار آتا نہیں

میں کوئی پتھر نہیں انسان ہوں

کیسے کہہ دوں غم سے گھبراتا نہیں

کل تو سب تھے کارواں کے ساتھ ساتھ

آج کوئی راہ دکھلاتا نہیں

زندگی کے آئنے کو توڑ دو

اس میں اب کچھ بھی نظر آتا نہیں