Poetry
- بھٹک رہا ہوں خلاؤں میں گم شدہ کی طرحسکوت سنگ نے ٹھکرا دیا صدا کی طرحKailash Mahir (b. 1928)
- پورب دیس کی یادیں لایا پھر موسم کا تیکھا پنمجھ سے پہروں انس کرے ہے تنہائی کا سونا پنKailash Mahir (b. 1928)
- تاب فرقت بھی نہیں ضبط کا یارا بھی نہیںاسے گھبرا کے بھلا دیں یہ گوارا بھی نہیںKailash Mahir (b. 1928)
- تنہائی جہاں ذکر رخ یار کرے ہےہر غم کو چراغ سر دیوار کرے ہےKailash Mahir (b. 1928)
- جانے کیا سوچ کے ہم تجھ سے وفا کرتے ہیںقرض ہے پچھلے جنم کا سو ادا کرتے ہیںKailash Mahir (b. 1928)
- سائے ہیں گوش بر آواز ذرا آہستہمونسو آج کی شب ذکر وفا آہستہKailash Mahir (b. 1928)
- کچھ ہو ساقی یہ ترا جام عنایت تو نہیںدل میں حسرت ہے مگر ہاتھ میں طاقت تو نہیںKailash Mahir (b. 1928)
- کسی برگد کا سر راہ نہ احسان لیااپنا سایہ تھا کڑی دھوپ میں خود تان لیاKailash Mahir (b. 1928)
- کیسا جشن بہار ہے اپناگل پہ سایہ بھی بار ہے اپناKailash Mahir (b. 1928)
- لہو نہ آنکھ سے ٹپکا نہ زخم دل ابھرےبھری بہار کے یہ دن بہت گراں گزرےKailash Mahir (b. 1928)
- نیرنگیٔ بہار جنوں ہم بھی دیکھ لیںکیا گل کھلائے گریۂ شبنم بھی دیکھ لیںKailash Mahir (b. 1928)
- ہر خوشی کو غموں میں ڈھالا ہےآرزوؤں کا بول بالا ہےKailash Mahir (b. 1928)
- ہم نوا ملتا تو آواز کا سودا کرتےہم کہاں آ گئے پرچھائیں کا پیچھا کرتےKailash Mahir (b. 1928)
- یہ بھی کیا کم ہے کہ اس بزم سے ہشیار چلےپارسا آئے تھے ہم بن کے گنہ گار چلےKailash Mahir (b. 1928)
- ابھی فضاؤں میں طاری ہے مضطرب سا سکوںابھی خلاؤں میں آواز گونج جاتی ہےKailash Mahir (b. 1928)
- اپنے ماضی کا آئینہ لے کرجانے کب سے اداس بیٹھا ہوںKailash Mahir (b. 1928)
- راکھ ہی راکھ ہے اس ڈھیر میں کیا رکھا ہےکھوکھلی آنکھیں جہاں بہتا رہا آب حیاتKailash Mahir (b. 1928)
- مجھے ایسا محسوس ہونے لگا ہےکتابیں قلم میز کرسی یہ البمKailash Mahir (b. 1928)
- ہم سفر تو نے ادھر کاش نہ دیکھا ہوتاکم نگاہی نے تری کیسی کشش چھلکا دیKailash Mahir (b. 1928)
- یہ بھی کیا کم ہے کہ تو نے مجھے پہچان لیاوہ بھی کیا رات تھی جب تجھ سے ملاقات ہوئیKailash Mahir (b. 1928)
- طلوع صبح فردا کی منادی بھی ذرا سن لویہ ایٹم جب پھٹے گا تو قیامت چار سو ہوگیKailash Mahir (b. 1928)
- بہت دور کیوں بھیڑ سے میں کھڑا ہوںمجھے لوگ کیوں دیر سے تک رہے ہیںKailash Mahir (b. 1928)
- ذرا تم دریچے سے باہر تو جھانکوکون نالہ کناں ہے یہ کیسی فغاں ہےKailash Mahir (b. 1928)
- غزالہکئی بار پوچھا ہے میں نےKailash Mahir (b. 1928)
- فضائیں تلملا اٹھیں جو میں نے گنگنا دیاحیات رسمسا گئی جو میں نے مسکرا دیاKailash Mahir (b. 1928)
- یہ گو دھول بیلافضا جیسے گھر لوٹتی گائے بھینسوں کا ریوڑKailash Mahir (b. 1928)
- تم بھی اس شہر میں بن جاؤ گے پتھر جیسےہنسنے والا یہاں کوئی ہے نہ رونے والاKailash Mahir (b. 1928)