Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. بھٹک رہا ہوں خلاؤں میں گم شدہ کی طرحسکوت سنگ نے ٹھکرا دیا صدا کی طرحKailash Mahir (b. 1928)
  2. پورب دیس کی یادیں لایا پھر موسم کا تیکھا پنمجھ سے پہروں انس کرے ہے تنہائی کا سونا پنKailash Mahir (b. 1928)
  3. تاب فرقت بھی نہیں ضبط کا یارا بھی نہیںاسے گھبرا کے بھلا دیں یہ گوارا بھی نہیںKailash Mahir (b. 1928)
  4. تنہائی جہاں ذکر رخ یار کرے ہےہر غم کو چراغ سر دیوار کرے ہےKailash Mahir (b. 1928)
  5. جانے کیا سوچ کے ہم تجھ سے وفا کرتے ہیںقرض ہے پچھلے جنم کا سو ادا کرتے ہیںKailash Mahir (b. 1928)
  6. سائے ہیں گوش بر آواز ذرا آہستہمونسو آج کی شب ذکر وفا آہستہKailash Mahir (b. 1928)
  7. کچھ ہو ساقی یہ ترا جام عنایت تو نہیںدل میں حسرت ہے مگر ہاتھ میں طاقت تو نہیںKailash Mahir (b. 1928)
  8. کسی برگد کا سر راہ نہ احسان لیااپنا سایہ تھا کڑی دھوپ میں خود تان لیاKailash Mahir (b. 1928)
  9. کیسا جشن بہار ہے اپناگل پہ سایہ بھی بار ہے اپناKailash Mahir (b. 1928)
  10. لہو نہ آنکھ سے ٹپکا نہ زخم دل ابھرےبھری بہار کے یہ دن بہت گراں گزرےKailash Mahir (b. 1928)
  11. نیرنگیٔ بہار جنوں ہم بھی دیکھ لیںکیا گل کھلائے گریۂ شبنم بھی دیکھ لیںKailash Mahir (b. 1928)
  12. ہر خوشی کو غموں میں ڈھالا ہےآرزوؤں کا بول بالا ہےKailash Mahir (b. 1928)
  13. ہم نوا ملتا تو آواز کا سودا کرتےہم کہاں آ گئے پرچھائیں کا پیچھا کرتےKailash Mahir (b. 1928)
  14. یہ بھی کیا کم ہے کہ اس بزم سے ہشیار چلےپارسا آئے تھے ہم بن کے گنہ گار چلےKailash Mahir (b. 1928)
  15. ابھی فضاؤں میں طاری ہے مضطرب سا سکوںابھی خلاؤں میں آواز گونج جاتی ہےKailash Mahir (b. 1928)
  16. اپنے ماضی کا آئینہ لے کرجانے کب سے اداس بیٹھا ہوںKailash Mahir (b. 1928)
  17. راکھ ہی راکھ ہے اس ڈھیر میں کیا رکھا ہےکھوکھلی آنکھیں جہاں بہتا رہا آب حیاتKailash Mahir (b. 1928)
  18. مجھے ایسا محسوس ہونے لگا ہےکتابیں قلم میز کرسی یہ البمKailash Mahir (b. 1928)
  19. ہم سفر تو نے ادھر کاش نہ دیکھا ہوتاکم نگاہی نے تری کیسی کشش چھلکا دیKailash Mahir (b. 1928)
  20. یہ بھی کیا کم ہے کہ تو نے مجھے پہچان لیاوہ بھی کیا رات تھی جب تجھ سے ملاقات ہوئیKailash Mahir (b. 1928)
  21. طلوع صبح فردا کی منادی بھی ذرا سن لویہ ایٹم جب پھٹے گا تو قیامت چار سو ہوگیKailash Mahir (b. 1928)
  22. بہت دور کیوں بھیڑ سے میں کھڑا ہوںمجھے لوگ کیوں دیر سے تک رہے ہیںKailash Mahir (b. 1928)
  23. ذرا تم دریچے سے باہر تو جھانکوکون نالہ کناں ہے یہ کیسی فغاں ہےKailash Mahir (b. 1928)
  24. غزالہکئی بار پوچھا ہے میں نےKailash Mahir (b. 1928)
  25. فضائیں تلملا اٹھیں جو میں نے گنگنا دیاحیات رسمسا گئی جو میں نے مسکرا دیاKailash Mahir (b. 1928)
  26. یہ گو دھول بیلافضا جیسے گھر لوٹتی گائے بھینسوں کا ریوڑKailash Mahir (b. 1928)
  27. تم بھی اس شہر میں بن جاؤ گے پتھر جیسےہنسنے والا یہاں کوئی ہے نہ رونے والاKailash Mahir (b. 1928)