Poetry
- آج گلشن میں کس کا پرتو ہےہر کلی گل کی شمع کی لو ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- آئینۂ دل میں کچھ اگر ہےتیرا ہی جمال جلوہ گر ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- اپنی وہ بے ثبات ہستی ہےکہ سدا نیستی ہی ہنستی ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- اٹھ گئے یاں سے اپنے ہم دم توہاتھ ملتے ہی رہ گئے ہم توJoshish Azimabadi (d. 1830)
- اس تند خو سے جوں ہی مری آنکھ لڑ گئیاس دل سے اور عقل سے ووہیں بگڑ گئیJoshish Azimabadi (d. 1830)
- اس کمر کے خیال میں ہیں ہمبیٹھے کرتے ہیں سیر ملک عدمJoshish Azimabadi (d. 1830)
- ان دنوں وہ ادھر نہیں آتااپنا جینا نظر نہیں آتاJoshish Azimabadi (d. 1830)
- ان نے پہلے ہی پہل پی ہے شراب آج کے دنبولو دل کھول کر اے چنگ و رباب آج کے دنJoshish Azimabadi (d. 1830)
- اہل جہاں کے ملنے سے ہم احتراز کربیٹھے ہیں گوشہ گیر ہو اس دل سے ساز کرJoshish Azimabadi (d. 1830)
- اے زلف اس کے منہ سے تو تو لپٹ رہی ہےگیسو کو کاٹیو مت وہ آپ کٹ رہی ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- بڑھتی جاتی ہے میری اس کی چاہسچ ہے ہوتی ہے دل کو دل سے راہJoshish Azimabadi (d. 1830)
- پریشان اے زلف بہر دم نہ ہوسنان مژہ کی تو پرچم نہ ہوJoshish Azimabadi (d. 1830)
- پڑتی ہے نظر جب کہ پر و بال پر اپنےروتا ہوں قفس میں بہت احوال پر اپنےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- پیری میں بھلا ڈھونڈھئے کیا بخت جواں کواب قطع محبت ہی ہوئی جسم سے جاں کوJoshish Azimabadi (d. 1830)
- تجھ سے ظالم کو اپنا یار کیاہم نے کیا جبر اختیار کیاJoshish Azimabadi (d. 1830)
- تجھ سے ہی کیا وفا کی نہیں خوش نگاہ چشمجتنے سفید پوش ہیں سب ہیں سیاہ چشمJoshish Azimabadi (d. 1830)
- تجھے اے شعلہ رو کب چھوڑتا ہوںجلے دل کے پھپھولے پھوڑتا ہوںJoshish Azimabadi (d. 1830)
- تری طہارت کو شیخ کہہ تو کہاں سے لائیں اک آب جو ہمطواف دل کا ہے قصد ہم کو کریں ہیں آنسو سے نت وضو ہمJoshish Azimabadi (d. 1830)
- جب ہوئے تم چمن میں آن کھڑےووہیں ہو گئے گلوں کے کان کھڑےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- جلا بلا ہوں گرفتار حال اپنا ہوںبرنگ شمع سراپا وبال اپنا ہوںJoshish Azimabadi (d. 1830)
- چشم خونخوار ابروئے خم دار دونوں ایک ہیںہیں جدا لیکن بوقت کار دونوں ایک ہیںJoshish Azimabadi (d. 1830)
- چشم سے غافل نہ ہوا چاہئےاس کے مقابل نہ ہوا چاہئےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- چھوڑیئے کس طرح سے مے نوشیزور عالم رکھے ہے بے ہوشیJoshish Azimabadi (d. 1830)
- حال اب تنگ ہے زمانے کارنگ بے رنگ ہے زمانے کاJoshish Azimabadi (d. 1830)
- دامان دل سے گرد تعلق کو جھاڑئیےجوں سرو پاؤں باغ تجرد میں گاڑئیےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- دل میں ہر چند ہے خیال اس کانظر آتا نہیں جمال اس کاJoshish Azimabadi (d. 1830)
- دنیا کی جستجو تو ہم سے نہ ہو سکے گییہ منت آرزو تو ہم سے نہ ہو سکے گیJoshish Azimabadi (d. 1830)
- سامنے اس کے رو نہیں سکتاچپ رہوں یہ بھی ہو نہیں سکتاJoshish Azimabadi (d. 1830)
- شیخ کو کعبے سے جو مقصود ہےوہ کنشت دل ہی میں موجود ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- عیش و عشرت ہی میں کچھ ہے زندگیمرگ ہے بے یار و بے مے زندگیJoshish Azimabadi (d. 1830)
- کافر ہوں گر کسی کو دیوانہ جانتا ہوںاحوال قیس کا بھی افسانہ جانتا ہوںJoshish Azimabadi (d. 1830)
- کشتی ہے تباہ دل شدوں کیلینا خبر اپنے بے خودوں کیJoshish Azimabadi (d. 1830)
- کیا بدگمانیاں ہیں مری جان لیجئےیہ دل تو ہے وہی اسے پہچان لیجئےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- کیجئے رندی کا پیشہ شیشہ شیشہ ہے شرابلیجئے اک گھونٹ شیشہ شیشہ شیشہ ہے شرابJoshish Azimabadi (d. 1830)
- کیوں کہوں قامت کو تیرے اے بت رعنا الفاور کچھ خوبی نہیں رکھتا ہے اک سیدھا الفJoshish Azimabadi (d. 1830)
- گر کوئی کاٹ لے سر بھی ترے دیوانے کاپر یہ سودائے محبت ہے نہیں جانے کاJoshish Azimabadi (d. 1830)
- گو کہ محتاج ہیں گدا ہیں ہمبے نیازی کے بادشا ہیں ہمJoshish Azimabadi (d. 1830)
- لب پر جو مرے آہ غم آلود نہیں ہےاظہار محبت مجھے مقصود نہیں ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- لکھا خط اسے لے قلم اور کاغذجلے عشق سوزاں سے ہم اور کاغذJoshish Azimabadi (d. 1830)
- مر رہتے ہیں در پر ترے دو چار ہمیشہہے جور و جفا تجھ کو سزا وار ہمیشہJoshish Azimabadi (d. 1830)
- مرنا تو بہتر ہے جو مر جائیےجی سے کسی کے نہ اتر جائیےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- مرے جب تک کہ دم میں دم رہے گایہی رونا یہی ماتم رہے گاJoshish Azimabadi (d. 1830)
- منہ بنائے ہوئے پھرتا ہے وہ کل سے ہم سےکوئی آج اس کو ملا دے کسی کل سے ہم سےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- نالۂ دل کی تو کوتاہی نہیںپر اثر کچھ اس کو ہوتا ہی نہیںJoshish Azimabadi (d. 1830)
- نوبت اپنی تو جان تک پہنچیحیف اس کے نہ کان تک پہنچیJoshish Azimabadi (d. 1830)
- نہیں معتقد جو ترے دید کامیں دیوانہ ہوں اس کی فہمید کاJoshish Azimabadi (d. 1830)
- وہ سعی قفس میں کر کہ ٹوٹےاس میں رہے بال و پر کہ ٹوٹےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- ہر چند کہ دیکھے ہے وہ پیار کی آنکھوں سےپر نکلے ہے بے رنگی اس پار کی آنکھوں سےJoshish Azimabadi (d. 1830)
- ہم ہی کرتے نہیں زلفوں کو تری ہار پسندشیخ صاحب کو بھی آتا ہے یہ زنار پسندJoshish Azimabadi (d. 1830)
- ہیں دل جگر ہمارے یہ مہر و ماہ دونوںپہنچے ہیں آسماں پہ ہمراہ آہ دونوںJoshish Azimabadi (d. 1830)