Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آج گلشن میں کس کا پرتو ہےہر کلی گل کی شمع کی لو ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
  2. آئینۂ دل میں کچھ اگر ہےتیرا ہی جمال جلوہ گر ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
  3. اپنی وہ بے ثبات ہستی ہےکہ سدا نیستی ہی ہنستی ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
  4. اٹھ گئے یاں سے اپنے ہم دم توہاتھ ملتے ہی رہ گئے ہم توJoshish Azimabadi (d. 1830)
  5. اس تند خو سے جوں ہی مری آنکھ لڑ گئیاس دل سے اور عقل سے ووہیں بگڑ گئیJoshish Azimabadi (d. 1830)
  6. اس کمر کے خیال میں ہیں ہمبیٹھے کرتے ہیں سیر ملک عدمJoshish Azimabadi (d. 1830)
  7. ان دنوں وہ ادھر نہیں آتااپنا جینا نظر نہیں آتاJoshish Azimabadi (d. 1830)
  8. ان نے پہلے ہی پہل پی ہے شراب آج کے دنبولو دل کھول کر اے چنگ و رباب آج کے دنJoshish Azimabadi (d. 1830)
  9. اہل جہاں کے ملنے سے ہم احتراز کربیٹھے ہیں گوشہ گیر ہو اس دل سے ساز کرJoshish Azimabadi (d. 1830)
  10. اے زلف اس کے منہ سے تو تو لپٹ رہی ہےگیسو کو کاٹیو مت وہ آپ کٹ رہی ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
  11. بڑھتی جاتی ہے میری اس کی چاہسچ ہے ہوتی ہے دل کو دل سے راہJoshish Azimabadi (d. 1830)
  12. پریشان اے زلف بہر دم نہ ہوسنان مژہ کی تو پرچم نہ ہوJoshish Azimabadi (d. 1830)
  13. پڑتی ہے نظر جب کہ پر و بال پر اپنےروتا ہوں قفس میں بہت احوال پر اپنےJoshish Azimabadi (d. 1830)
  14. پیری میں بھلا ڈھونڈھئے کیا بخت جواں کواب قطع محبت ہی ہوئی جسم سے جاں کوJoshish Azimabadi (d. 1830)
  15. تجھ سے ظالم کو اپنا یار کیاہم نے کیا جبر اختیار کیاJoshish Azimabadi (d. 1830)
  16. تجھ سے ہی کیا وفا کی نہیں خوش نگاہ چشمجتنے سفید پوش ہیں سب ہیں سیاہ چشمJoshish Azimabadi (d. 1830)
  17. تجھے اے شعلہ رو کب چھوڑتا ہوںجلے دل کے پھپھولے پھوڑتا ہوںJoshish Azimabadi (d. 1830)
  18. تری طہارت کو شیخ کہہ تو کہاں سے لائیں اک آب جو ہمطواف دل کا ہے قصد ہم کو کریں ہیں آنسو سے نت وضو ہمJoshish Azimabadi (d. 1830)
  19. جب ہوئے تم چمن میں آن کھڑےووہیں ہو گئے گلوں کے کان کھڑےJoshish Azimabadi (d. 1830)
  20. جلا بلا ہوں گرفتار حال اپنا ہوںبرنگ شمع سراپا وبال اپنا ہوںJoshish Azimabadi (d. 1830)
  21. چشم خونخوار ابروئے خم دار دونوں ایک ہیںہیں جدا لیکن بوقت کار دونوں ایک ہیںJoshish Azimabadi (d. 1830)
  22. چشم سے غافل نہ ہوا چاہئےاس کے مقابل نہ ہوا چاہئےJoshish Azimabadi (d. 1830)
  23. چھوڑیئے کس طرح سے مے نوشیزور عالم رکھے ہے بے ہوشیJoshish Azimabadi (d. 1830)
  24. حال اب تنگ ہے زمانے کارنگ بے رنگ ہے زمانے کاJoshish Azimabadi (d. 1830)
  25. دامان دل سے گرد تعلق کو جھاڑئیےجوں سرو پاؤں باغ تجرد میں گاڑئیےJoshish Azimabadi (d. 1830)
  26. دل میں ہر چند ہے خیال اس کانظر آتا نہیں جمال اس کاJoshish Azimabadi (d. 1830)
  27. دنیا کی جستجو تو ہم سے نہ ہو سکے گییہ منت آرزو تو ہم سے نہ ہو سکے گیJoshish Azimabadi (d. 1830)
  28. سامنے اس کے رو نہیں سکتاچپ رہوں یہ بھی ہو نہیں سکتاJoshish Azimabadi (d. 1830)
  29. شیخ کو کعبے سے جو مقصود ہےوہ کنشت دل ہی میں موجود ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
  30. عیش و عشرت ہی میں کچھ ہے زندگیمرگ ہے بے یار و بے مے زندگیJoshish Azimabadi (d. 1830)
  31. کافر ہوں گر کسی کو دیوانہ جانتا ہوںاحوال قیس کا بھی افسانہ جانتا ہوںJoshish Azimabadi (d. 1830)
  32. کشتی ہے تباہ دل شدوں کیلینا خبر اپنے بے خودوں کیJoshish Azimabadi (d. 1830)
  33. کیا بدگمانیاں ہیں مری جان لیجئےیہ دل تو ہے وہی اسے پہچان لیجئےJoshish Azimabadi (d. 1830)
  34. کیجئے رندی کا پیشہ شیشہ شیشہ ہے شرابلیجئے اک گھونٹ شیشہ شیشہ شیشہ ہے شرابJoshish Azimabadi (d. 1830)
  35. کیوں کہوں قامت کو تیرے اے بت رعنا الفاور کچھ خوبی نہیں رکھتا ہے اک سیدھا الفJoshish Azimabadi (d. 1830)
  36. گر کوئی کاٹ لے سر بھی ترے دیوانے کاپر یہ سودائے محبت ہے نہیں جانے کاJoshish Azimabadi (d. 1830)
  37. گو کہ محتاج ہیں گدا ہیں ہمبے نیازی کے بادشا ہیں ہمJoshish Azimabadi (d. 1830)
  38. لب پر جو مرے آہ غم آلود نہیں ہےاظہار محبت مجھے مقصود نہیں ہےJoshish Azimabadi (d. 1830)
  39. لکھا خط اسے لے قلم اور کاغذجلے عشق سوزاں سے ہم اور کاغذJoshish Azimabadi (d. 1830)
  40. مر رہتے ہیں در پر ترے دو چار ہمیشہہے جور و جفا تجھ کو سزا وار ہمیشہJoshish Azimabadi (d. 1830)
  41. مرنا تو بہتر ہے جو مر جائیےجی سے کسی کے نہ اتر جائیےJoshish Azimabadi (d. 1830)
  42. مرے جب تک کہ دم میں دم رہے گایہی رونا یہی ماتم رہے گاJoshish Azimabadi (d. 1830)
  43. منہ بنائے ہوئے پھرتا ہے وہ کل سے ہم سےکوئی آج اس کو ملا دے کسی کل سے ہم سےJoshish Azimabadi (d. 1830)
  44. نالۂ دل کی تو کوتاہی نہیںپر اثر کچھ اس کو ہوتا ہی نہیںJoshish Azimabadi (d. 1830)
  45. نوبت اپنی تو جان تک پہنچیحیف اس کے نہ کان تک پہنچیJoshish Azimabadi (d. 1830)
  46. نہیں معتقد جو ترے دید کامیں دیوانہ ہوں اس کی فہمید کاJoshish Azimabadi (d. 1830)
  47. وہ سعی قفس میں کر کہ ٹوٹےاس میں رہے بال و پر کہ ٹوٹےJoshish Azimabadi (d. 1830)
  48. ہر چند کہ دیکھے ہے وہ پیار کی آنکھوں سےپر نکلے ہے بے رنگی اس پار کی آنکھوں سےJoshish Azimabadi (d. 1830)
  49. ہم ہی کرتے نہیں زلفوں کو تری ہار پسندشیخ صاحب کو بھی آتا ہے یہ زنار پسندJoshish Azimabadi (d. 1830)
  50. ہیں دل جگر ہمارے یہ مہر و ماہ دونوںپہنچے ہیں آسماں پہ ہمراہ آہ دونوںJoshish Azimabadi (d. 1830)