Poetry
- آپ سے شرح آرزو تو کریںآپ تکلیف گفتگو تو کریںFani Badayuni (1879–1941)
- آنکھ اٹھائی ہی تھی کہ کھائی چوٹبچ گئی آنکھ دل پہ آئی چوٹFani Badayuni (1879–1941)
- آہ اب تک تو بے اثر نہ ہوئیکچھ تمہیں کو مری خبر نہ ہوئیFani Badayuni (1879–1941)
- آہ سے یا آہ کی تاثیر سےجی بہل جاتا کسی تدبیر سےFani Badayuni (1879–1941)
- اب انہیں اپنی اداؤں سے حجاب آتا ہےچشم بد دور دلہن بن کے شباب آتا ہےFani Badayuni (1879–1941)
- ابتدائے عشق ہے لطف شباب آنے کو ہےصبر رخصت ہو رہا ہے اضطراب آنے کو ہےFani Badayuni (1879–1941)
- اب لب پہ وہ ہنگامۂ فریاد نہیں ہےاللہ رے تری یاد کہ کچھ یاد نہیں ہےFani Badayuni (1879–1941)
- ادا سے آڑ میں خنجر کے منہ چھپائے ہوئےمری قضا کو وہ لائے دلہن بنائے ہوئےFani Badayuni (1879–1941)
- اک فسانہ سن گئے اک کہہ گئےمیں جو رویا مسکرا کر رہ گئےFani Badayuni (1879–1941)
- اے اجل اے جان فانیؔ تو نے یہ کیا کر دیامار ڈالا مرنے والے کو کہ اچھا کر دیاFani Badayuni (1879–1941)
- اے موت تجھ پہ عمر ابد کا مدار ہےتو اعتبار ہستی بے اعتبار ہےFani Badayuni (1879–1941)
- بجلیاں ٹوٹ پڑیں جب وہ مقابل سے اٹھامل کے پلٹی تھیں نگاہیں کہ دھواں دل سے اٹھاFani Badayuni (1879–1941)
- بے اجل کام نہ اپنا کسی عنواں نکلادم تو نکلا مگر آزردۂ احساں نکلاFani Badayuni (1879–1941)
- بے خودی پہ تھا فانیؔ کچھ نہ اختیار اپناعمر بھر کیا ناحق ہم نے انتظار اپناFani Badayuni (1879–1941)
- بے ذوق نظر بزم تماشا نہ رہے گیمنہ پھیر لیا ہم نے تو دنیا نہ رہے گیFani Badayuni (1879–1941)
- تری ترچھی نظر کا تیر ہے مشکل سے نکلے گادل اس کے ساتھ نکلے گا اگر یہ دل سے نکلے گاFani Badayuni (1879–1941)
- تیرا نگاہ شوق کوئی راز داں نہ تھاآنکھوں کو ورنہ جلوۂ جاناں کہاں نہ تھاFani Badayuni (1879–1941)
- جب پرسش حال وہ فرماتے ہیں جانیے کیا ہو جاتا ہےکچھ یوں بھی زباں نہیں کھلتی کچھ درد سوا ہو جاتا ہےFani Badayuni (1879–1941)
- جب دل میں ترے غم نے حسرت کی بنا ڈالیدنیا مری راحت کی قسمت نے مٹا ڈالیFani Badayuni (1879–1941)
- جذب دل جب بروئے کار آیاہر نفس سے پیام یار آیاFani Badayuni (1879–1941)
- جستجوئے نشاط مبہم کیادل میسر ہے لذت غم کیاFani Badayuni (1879–1941)
- جن خاک کے ذروں پر وہ سایۂ محمل تھاجو خاک کا ذرہ تھا وحشت کدۂ دل تھاFani Badayuni (1879–1941)
- جی ڈھونڈھتا ہے گھر کوئی دونوں جہاں سے دوراس آپ کی زمیں سے الگ آسماں سے دورFani Badayuni (1879–1941)
- جینے کی ہے امید نہ مرنے کا یقیں ہےاب دل کا یہ عالم ہے نہ دنیا ہے نہ دیں ہےFani Badayuni (1879–1941)
- حاصل علم بشر جہل کا عرفاں ہوناعمر بھر عقل سے سیکھا کیے ناداں ہوناFani Badayuni (1879–1941)
- خدا اثر سے بچائے اس آستانے کودعا چلی ہے مری قسمت آزمانے کوFani Badayuni (1879–1941)
- خلق کہتی ہے جسے دل ترے دیوانے کاایک گوشہ ہے یہ دنیا اسی ویرانے کاFani Badayuni (1879–1941)
- خود مسیحا خود ہی قاتل ہیں تو وہ بھی کیا کریںزخم پیدا کریں یا زخم دل اچھا کریںFani Badayuni (1879–1941)
- خوشی سے رنج کا بدلا یہاں نہیں ملتاوہ مل گئے تو مجھے آسماں نہیں ملتاFani Badayuni (1879–1941)
- دل کی ہر لرزش مضطر پہ نظر رکھتے ہیںوہ میری بے خبری کی بھی خبر رکھتے ہیںFani Badayuni (1879–1941)
- دنیائے حسن و عشق میں کس کا ظہور تھاہر آنکھ برق پاش تھی ہر ذرہ طور تھاFani Badayuni (1879–1941)
- دیر میں یا حرم میں گزرے گیعمر تیرے ہی غم میں گزرے گیFani Badayuni (1879–1941)
- ڈرو نہ تم کہ نہ سن لے کہیں خدا میریکہ روشناس اجابت نہیں دعا میریFani Badayuni (1879–1941)
- رہ جائے یا بلا سے یہ جان رہ نہ جائےتیرا تو اے ستمگر ارمان رہ نہ جائےFani Badayuni (1879–1941)
- زباں مدعا آشنا چاہتا ہوںدل اب زندگی سے خفا چاہتا ہوںFani Badayuni (1879–1941)
- زندگی جبر ہے اور جبر کے آثار نہیںہائے اس قید کو زنجیر بھی درکار نہیںFani Badayuni (1879–1941)
- زیست کا حاصل بنایا دل جو گویا کچھ نہ تھاغم نے دل کو دل بنایا ورنہ کیا تھا کچھ نہ تھاFani Badayuni (1879–1941)
- ستم ایجاد رہوگے ستم ایجاد رہےاس میں اب شاد رہے یا کوئی ناشاد رہےFani Badayuni (1879–1941)
- سنگ در دیکھ کے سر یاد آیاکوئی دیوانہ مگر یاد آیاFani Badayuni (1879–1941)
- سوال دید پہ تیوری چڑھائی جاتی ہےمجال دید پہ بجلی گرائی جاتی ہےFani Badayuni (1879–1941)
- شباب ہوش کہ فی الجملہ یادگار ہوئیجو عمر صرف تماشائے حسن یار ہوئیFani Badayuni (1879–1941)
- شوق سے ناکامی کی بدولت کوچۂ دل ہی چھوٹ گیاساری امیدیں ٹوٹ گئیں دل بیٹھ گیا جی چھوٹ گیاFani Badayuni (1879–1941)
- ضبط اپنا شعار تھا نہ رہادل پہ کچھ اختیار تھا نہ رہاFani Badayuni (1879–1941)
- عشق عشق ہو شاید حسن میں فنا ہو کرانتہا ہوئی غم کی دل کی ابتدا ہو کرFani Badayuni (1879–1941)
- قسم نہ کھاؤ تغافل سے باز آنے کیکہ دل میں اب نہیں طاقت ستائے جانے کیFani Badayuni (1879–1941)
- قصۂ زیست مختصر کرتےکچھ تو اپنی سی چارہ گر کرتےFani Badayuni (1879–1941)
- قطرہ دریائے آشنائی ہےکیا تری شان کبریائی ہےFani Badayuni (1879–1941)
- کچھ بس ہی نہ تھا ورنہ یہ الزام نہ لیتےہم تجھ سے چھپا کر بھی ترا نام نہ لیتےFani Badayuni (1879–1941)
- کچھ کم تو ہوا رنج فراوان تمناآغاز جنوں گو نہیں پایان تمناFani Badayuni (1879–1941)
- کسی کے ایک اشارے میں کس کو کیا نہ ملابشر کو زیست ملی موت کو بہانہ ملاFani Badayuni (1879–1941)