Poetry
- اب کسی تصویر کی رعنائیاں باتیں کریںمیں تو چپ ہوں اب مری تنہائیاں باتیں کریںFaisal Azeem (b. 1974)
- اسے معلوم ہے سب کچھ وہی ہے رازداں اپنامگر مجھ سے ہی سننا چاہتا ہے وہ بیاں اپناFaisal Azeem (b. 1974)
- اک ہاتھ پہ آنکھیں رکھی ہیں اک ہاتھ پہ چہرا ہوتا ہےہر گام مداری بیٹھے ہیں ہر وقت تماشا ہوتا ہےFaisal Azeem (b. 1974)
- بھری ہے آگ جیبوں میں کف افسوس ملتے ہیںہماری ہی کمائی سے ہمارے ہاتھ جلتے ہیںFaisal Azeem (b. 1974)
- پلکیں نیند سے بوجھل ہیں یا اب منظر کی تاب نہیںکیوں ان جلتی آنکھوں میں اب رنگ برنگے خواب نہیںFaisal Azeem (b. 1974)
- تری تلخی کو چکھوں یا ترے حسن معانی کوکتاب زندگی کس نے لکھا میری کہانی کوFaisal Azeem (b. 1974)
- تصویر نا مکمل اک تشنگی کا خاکہپر پھڑپھڑا رہا ہے عنقا مری صدا کاFaisal Azeem (b. 1974)
- جسے کل رات بھر پوجا گیا تھاوہ بت کیوں صبح کو ٹوٹا ہوا تھاFaisal Azeem (b. 1974)
- خیالوں کو ترے مہلت اگر دیںیہ آنکھوں میں لہو کا رنگ بھر دیںFaisal Azeem (b. 1974)
- دل پر دھڑکن دھڑکن پر وہم اتارے جاتے ہیںہم اپنے ہی خوف کے ہاتھوں مارے جاتے ہیںFaisal Azeem (b. 1974)
- کٹ گئیں جب جوش اظہار ہنر میں انگلیاںتب کہیں ڈوبیں مرے خون جگر میں انگلیاںFaisal Azeem (b. 1974)
- کون سی مخلوق ہے یہ خاک پرچاہتی ہے تھوکنا افلاک پرFaisal Azeem (b. 1974)
- گو تار عنکبوت آیا نہیں اب تک گمانوں میںمگر کچھ مکڑیوں کی سرسراہٹ سی ہے کانوں میںFaisal Azeem (b. 1974)
- نہ چہرے سے نہ آنکھوں سے عیاں عشقابھی دل پر ترے اترا کہاں عشقFaisal Azeem (b. 1974)
- یہ منتر بھی پرانے جام جم بھیبہت دیکھے ہیں یہ نقش قدم بھیFaisal Azeem (b. 1974)
- آج کی انتہائے کرممعذرتFaisal Azeem (b. 1974)
- پانی اچھا خاصہ گلے تک آ پہنچا تھااچھی خاصی ڈوب گئی تھی ساری بستیFaisal Azeem (b. 1974)
- پینے والے دہن لب دریاپیاس بجھنے کے منظروں کا فشارFaisal Azeem (b. 1974)
- خواب ہے یا کوئی تصور ہےیہ توازن یہ فکر کا میزانFaisal Azeem (b. 1974)
- دھول ہی نہیں چبھتیگر بدن سے چپکے ہوںFaisal Azeem (b. 1974)
- کیا پہننے کو اس پری کے پاسایک بھی ڈھنگ کا نہیں ہے لباسFaisal Azeem (b. 1974)
- آج کی رات بھیدر کوئی وا نہیںFaisal Azeem (b. 1974)
- ایک دیواراور اس پر وہ مرے نقش و نگارFaisal Azeem (b. 1974)
- تو مری نظم ہےخود میں مربوط گم اپنی دھن میں رواںFaisal Azeem (b. 1974)
- روشنی پر دھند کی تہآئنے کے نقش پھیکےFaisal Azeem (b. 1974)
- کوئی آگے نہ پیچھے بہت دور تکایک لمبی سڑکFaisal Azeem (b. 1974)
- میں اپنے پیچھے پیچھے چل رہا تھابڑھا کر ہاتھ جو شانے پہ رکھاFaisal Azeem (b. 1974)
- اشاروں کی رانیسر اپنا ہلا کرFaisal Azeem (b. 1974)
- اک روز اپنے آپ کو میں نےخلا کی وسعتوں سے جھانک کر دیکھاFaisal Azeem (b. 1974)
- جھلملوں کی آڑ میں رقصاںدرد کی آندھیFaisal Azeem (b. 1974)
- خوشیعدم کے کسی جھروکےFaisal Azeem (b. 1974)
- رسی کا پلدیکھا بھالاFaisal Azeem (b. 1974)
- سخت سفاکخود میں سمٹ کر چٹختی ہوئی برفFaisal Azeem (b. 1974)
- شمال میں برف تیزی سے گھل رہی ہےزمیں کا نقشہ بدل رہا ہےFaisal Azeem (b. 1974)
- لباس جل کر مرے بدن پر چپک گیا ہےبدن مسلسل سلگ رہا ہےFaisal Azeem (b. 1974)
- ماہ کامل حیرت کی تصویر ہو جیسےحد چاہ نخشب عالمگیر ہو جیسےFaisal Azeem (b. 1974)
- مجسم تقدس سفیدی میں ڈوبابڑی شان سے چھوٹی کھڑکی میں آیاFaisal Azeem (b. 1974)
- وہ شیشے کا بلب اور کوئی اس کے اندربہت ہانپتا گول دیواروں کوFaisal Azeem (b. 1974)