تصویر نا مکمل اک تشنگی کا خاکہ

Faisal Azeem (b. 1974)

تصویر نا مکمل اک تشنگی کا خاکہ

پر پھڑپھڑا رہا ہے عنقا مری صدا کا

سب کیوں دکھا رہے ہیں موہوم سی خراشیں

پوچھا تھا صرف میں نے بیمار سے دوا کا

آنکھیں ہی اب ملی ہیں اندھا تھا میں سدا کا

ہاتھوں کو جانے کب سے بس دھوئے جا رہا ہوں

سادہ سے کینوس پر سایہ سا ہے ہوا کا

چھیڑو نہ ان رگوں کو شاخیں یہ پھول سی ہیں

مرہم نہ مل سکے گا پھر زخم ناروا کا

وہموں کی سو ہیں شکلیں لکڑی کے ایک گھر میں

کیا کیا نہیں دکھاتا یہ رات کا کھٹاکا

اک بے دماغ ہاتھی لشکر سے آ ملا ہے

اب یہ دماغ ہوگا لشکر کے نقش پا کا