آج کی رات بھی

Faisal Azeem (b. 1974)

آج کی رات بھی

در کوئی وا نہیں

ہے اگر در کوئی

جس کے کھلنے کا امکان ہو

آسماں کی طرف ہاتھ نظریں سبھی

پر کوئی وا نہیں

سامنے وہ جو در

وہ جو دروازے کا قفل

کھلنے کا امکان ہے منتظر

جس میں انگڑائیاں ٹوٹتی ہیں تھکن

ہاتھ اکڑے ہوئے ہیں جو ناپید در کی طرف

ہڈیاں ان کی چٹخی نہیں ہیں ابھی

ان کی انگڑائیاں ہیں ادھر منتظر