Poetry

Poet
Meter
  1. ہے مجھ کو ربط بسکہ غزالان رم کے ساتھچونکوں ہوں دیکھ سائے کو اپنے قدم کے ساتھInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  2. یاس و امید و شادی و غم نے دھوم اٹھائی سینہ میںخوب مجھے ہے آج دھما دھم مار کٹائی سینہ میںInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  3. یاں زخمیٔ نگاہ کے جینے پہ حرف ہےہے دل پر اپنے زخم کہ سینے پہ حرف ہےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  4. یا وصل میں رکھیے مجھے یا اپنی ہوس میںجو چاہئے سو کیجیے ہوں آپ کے بس میںInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  5. یہ کیا کہ ان کے دل کو نہ زنہار توڑیئےسو بار جا کے جوڑئیے سو بار توڑیئےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  6. یہ نہیں برق اک فرنگی ہےرعد و باراں فسون جنگی ہےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  7. اشک مژگان تر کی پونجی ہےیہ ثمر اس شجر کی پونجی ہےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  8. پکڑی کسی سے جاوے نسیم اور صبا بندھےمولیٰ کرے کچھ اپنی بھی اب تو ہوا بندھےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  9. ترک کر اپنے ننگ و نام کو ہمجاتے ہیں واں فقط سلام کو ہمInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  10. جاڑے میں کیا مزہ ہو وہ تو سمٹ رہے ہوںاور کھول کر رضائی ہم بھی لپٹ رہے ہوںInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  11. چاہتا ہوں تجھے نبیؐ کی قسمحضرت مرتضیٰ علی کی قسمInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  12. دھوم اتنی ترے دیوانے مچا سکتے ہیںکہ ابھی عرش کو چاہیں تو ہلا سکتے ہیںInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  13. مجھے کیوں نہ آوے ساقی نظر آفتاب الٹاکہ پڑا ہے آج خم میں قدح شراب الٹاInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  14. مل مجھ سے اے پری تجھے قرآن کی قسمدیتا ہوں تجھ کو تخت سلیمان کی قسمInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  15. یہ جو مجھ سے اور جنوں سے یاں بڑی جنگ ہوتی ہے دیر سےسو کچھ ایسی ڈھب سے لڑائی ہے لڑے شیر جیسے کہ شیر سےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  16. یہ کس سے چاندنی میں ہم بہ زیر آسماں لپٹےکہ باہم عرش پر مارے خوشی کے قدسیاں لپٹےInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
  17. اس شعلہ رو سے جب سے مری آنکھ جا لگیکیا جانے تب سے سینہ میں کیا آگ آ لگیGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
  18. اس کی صورت کا تصور دل میں جب لاتے ہیں ہمخود بہ خود اپنے سے ہمدم آپ گھبراتے ہیں ہمGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
  19. اس کے کوچہ میں گیا میں سو پھر آیا نہ گیامیں وہاں آپ کو ڈھونڈا تو میں پایا نہ گیاGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
  20. جو نہ وہم و گمان میں آوےکس طرح تیرے دھیان میں آوےGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
  21. شمع رو عاشق کو اپنے یوں جلانا چاہیئےکچھ ہنسانا چاہیئے اور کچھ رلانا چاہیئےGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
  22. مجھ سے آزردہ جو اس گل رو کو اب پاتے ہیں لوگاور ہی رنگت سے کچھ کچھ آ کے فرماتے ہیں لوگGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
  23. مرا اس کے پس دیوار گھر ہوتا تو کیا ہوتاقضا سے اے فلک گر اس قدر ہوتا تو کیا ہوتاGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
  24. مکھڑا وہ بت جدھر کرے گابندہ سجدہ ادھر کرے گاGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
  25. میں نے ہر چند کہ اس کوچے میں جانا چھوڑاپر تصور میں مرے اس نے نہ آنا چھوڑاGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
  26. نہ پوچھ ہجر میں جو حال اب ہمارا ہےامید وصل ہی پر ان دنوں گزارا ہےGhamgeen Dehlvi (1753–1851)
  27. اٹھتی گھٹا ہے کس طرح بولے وہ زلف اٹھا کہ یوںبرق چمکتی کیونکہ ہے ہنس کے یہ پھر کہا کہ یوںShah Naseer (1756–1838)
  28. ادھر ابر لے چشم نم کو چلاادھر ساقیا! میں بھی یم کو چلاShah Naseer (1756–1838)
  29. اس دل کو ہمکنار کیا ہم نے کیا کیادشمن کو دوست دار کیا ہم نے کیا کیاShah Naseer (1756–1838)
  30. اس کاکل پر خم کا خلل جائے تو اچھادل سر سے بلا تیرے یہ ٹل جائے تو اچھاShah Naseer (1756–1838)
  31. اک قافلہ ہے بن ترے ہمراہ سفر میںاشک آنکھ میں ہے دل میں ہے داغ آہ جگر میںShah Naseer (1756–1838)
  32. بادہ کشی کے سکھلاتے ہیں کیا ہی قرینے ساون بھادوںکیفیت کے ہم نے جو دیکھا دو ہیں مہینے ساون بھادوںShah Naseer (1756–1838)
  33. بیاباں مرگ ہے مجنون خاک آلودہ تن کس کاسیے ہے سوزن خار مغیلاں تو کفن کس کاShah Naseer (1756–1838)
  34. بے سبب ہاتھ کٹاری کو لگانا کیا تھاقتل عشاق پہ بیڑا یہ اٹھانا کیا تھاShah Naseer (1756–1838)
  35. بے مہر و وفا ہے وہ دل آرام ہماراکیا جانے کیا ہووے گا انجام ہماراShah Naseer (1756–1838)
  36. پامال راہ عشق ہیں خلقت کی کھا ٹھوکر بھی ہمجوں شیشہ نازک تر تھے کیا سختی میں ہیں پتھر بھی ہمShah Naseer (1756–1838)
  37. ترے دانت سارے سفید ہیں پئے زیب پان سے مل کر آنہیں دیکھے آج تک ابر میں مجھے اب دکھانے کو اختر آShah Naseer (1756–1838)
  38. ترے ہے زلف و رخ کی دید صبح و شام عاشق کایہی ہے کفر عاشق کا یہی اسلام عاشق کاShah Naseer (1756–1838)
  39. تو ضد سے شب وصل نہ آیا تو ہوا کیاہم مر نہ گئے دل کو کڑھایا تو ہوا کیاShah Naseer (1756–1838)
  40. ٹانکوں سے زخم پہلو لگتا ہے کنکھجورامت چھیڑ میرے دل کو بیٹھا ہے کنکھجوراShah Naseer (1756–1838)
  41. جب تلک چرب نہ جوں شمع زباں کیجئے گاسرگزشت اپنی کا کیا خاک بیاں کیجئے گاShah Naseer (1756–1838)
  42. جدا نہیں ہے ہر اک موج دیکھ آب کے بیچحباب بحر میں ہے بحر ہے حباب کے بیچShah Naseer (1756–1838)
  43. جسم اس کے غم میں زرد از ناتوانی ہو گیاجامۂ عریانی اپنا زعفرانی ہو گیاShah Naseer (1756–1838)
  44. جگر کا جوں شمع کاش یارب ہو داغ روشن مراد حاصلکہ دل کو لو لگ رہی یہی ہے چراغ روشن مراد حاصلShah Naseer (1756–1838)
  45. جو رقیبوں نے کہا تو وہی بد ظن سمجھادوست افسوس نہ سمجھا مجھے دشمن سمجھاShah Naseer (1756–1838)
  46. جو عین وصل میں آرام سے نہیں واقفوہ مطلب دل خود کام سے نہیں واقفShah Naseer (1756–1838)
  47. جو گزرے ہے بر عاشق کامل نہیں معلومجبریل ہے ہر آن میں نازل نہیں معلومShah Naseer (1756–1838)
  48. جوں ذرہ نہیں ایک جگہ خاک نشیں ہماے مہر جہاں تاب جہاں تو ہے وہیں ہمShah Naseer (1756–1838)
  49. چشم میں کب اشک بھر لاتے ہیں ہمرات دن موتی ہی برساتے ہیں ہمShah Naseer (1756–1838)
  50. چھوڑا نہ تجھے نے رام کیا یہ بھی نہ ہوا وہ بھی نہ ہواہم سے تو بت کافر بہ خدا یہ بھی نہ ہوا وہ بھی نہ ہواShah Naseer (1756–1838)