Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. حرم کو شیخ مت جا ہے بت دل خواہ صورت میںاگر ہے مرد معنی دیکھ لے اللہ صورت میںShah Naseer (1756–1838)
  2. خال رخ اس نے دکھایا نہ دوبارا اپناچندے اک اور ہے گردش میں ستارا اپناShah Naseer (1756–1838)
  3. خال مشاطہ بنا کاجل کا چشم یار پرزاغ کو بہر تصدق رکھ سر بیمار پرShah Naseer (1756–1838)
  4. خاندان قیس کا میں تو سدا سے پیر ہوںسلسلہ جنبان شور خانۂ زنجیر ہوںShah Naseer (1756–1838)
  5. خدا کے واسطے چہرے سے ٹک نقاب اٹھایہ درمیان سے اب پردۂ حجاب اٹھاShah Naseer (1756–1838)
  6. دکھا دو گر مانگ اپنی شب کو تو حشر برپا ہو کہکشاں پرچنو جبیں پر کبھی جو افشاں تو نکلیں تارے نہ آسماں پرShah Naseer (1756–1838)
  7. دل جلوہ گاہ صورت جانانہ ہو گیاشیشہ یہ ایک دم میں پری خانہ ہو گیاShah Naseer (1756–1838)
  8. دل کو کس صورت سے کیجے چشم دلبر سے جداشیشۂ مے کو نہیں رکھتے ہیں ساغر سے جداShah Naseer (1756–1838)
  9. دل میں ہے کیا جانئے کس کا خیال نقش پالگ گئیں آنکھیں زمیں سے جو مثال نقش پاShah Naseer (1756–1838)
  10. دم لے اے کوہ کن اب تیشہ زنی خوب نہیںجان شیریں کو نہ کھو کوہ کنی خوب نہیںShah Naseer (1756–1838)
  11. دیکھ تو یار بادہ کش! میں نے بھی کام کیا کیادے کے کباب دل تجھے حق نمک ادا کیاShah Naseer (1756–1838)
  12. رنگ میلا نہ ہوا جامۂ عریانی کاسر و ساماں ہے ہمیں بے سر و سامانی کاShah Naseer (1756–1838)
  13. زلف کا کیا اس کی چٹکا لگ گیازور دل کے ہاتھ لٹکا لگ گیاShah Naseer (1756–1838)
  14. سدا ہے اس آہ و چشم تر سے فلک پہ بجلی زمیں پہ باراںنکل کے دیکھو تم اپنے گھر سے فلک پہ بجلی زمیں پہ باراںShah Naseer (1756–1838)
  15. سرزمین زلف میں کیا دل ٹھکانے لگ گیااک مسافر تھا سر منزل ٹھکانے لگ گیاShah Naseer (1756–1838)
  16. شب جو رخ پر خال سے وہ برقعہ کو اتارے سوتے ہیںچشم قمر لگتی ہی نہیں کیا بلکہ نہ تارے سوتے ہیںShah Naseer (1756–1838)
  17. شمیم زلف معنبر جو روئے یار سے لوںتو پھر خطا ہے مری مشک گر تتار سے لوںShah Naseer (1756–1838)
  18. صبح گلشن میں ہو گر وہ گل خنداں پیدابیضۂ غنچہ سے ہو بلبل نالاں پیداShah Naseer (1756–1838)
  19. طلب میں بوسے کی کیا ہے حجت سوال دیگر جواب دیگرسمجھ کے کہہ بات بے مروت سوال دیگر جواب دیگرShah Naseer (1756–1838)
  20. غرق نہ کر دکھلا کر دل کو کان کا بالا زلف کا حلقہبحر حسن کے ہیں یہ بھنور دو کان کا بالا زلف کا حلقہShah Naseer (1756–1838)
  21. فرصت ایک دم کی ہے جوں حباب پانی یاںخاک سیر ہو کیجے سیر زندگانی یاںShah Naseer (1756–1838)
  22. قدم نہ رکھ مری چشم پرآب کے گھر میںبھرا ہے موج کا طوفاں حباب کے گھر میںShah Naseer (1756–1838)
  23. کبھو نہ اس رخ روشن پہ چھائیاں دیکھیںگھٹائیں چاند پہ سو بار چھائیاں دیکھیںShah Naseer (1756–1838)
  24. کچھ سرگزشت کہہ نہ سکے روبرو قلمگردش نصیب روز ازل سے ہے تو قلمShah Naseer (1756–1838)
  25. کر کے آزاد ہر اک شہپر بلبل کتراآج صیاد نے ایک اور نیا گل کتراShah Naseer (1756–1838)
  26. کیوں نہ کہیں بشر کو ہم آتش و آب و خاک و بادقدرت حق سے ہیں بہم آتش و آب و خاک و بادShah Naseer (1756–1838)
  27. لگا جب عکس ابرو دیکھنے دل دار پانی میںبہم ہر موج سے چلنے لگی تلوار پانی میںShah Naseer (1756–1838)
  28. لیا نہ ہاتھ سے جس نے سلام عاشق کاوہ کان دھر کے سنے کیا پیام عاشق کاShah Naseer (1756–1838)
  29. مل بیٹھنے یہ دے ہے فلک ایک دم کہاںکیا جانے تم کہاں ہو کوئی دم کو ہم کہاںShah Naseer (1756–1838)
  30. میری تربت پر چڑھانے ڈھونڈتا ہے کس کے پھولتیری آنکھوں کا ہوں کشتہ رکھ دے دو نرگس کے پھولShah Naseer (1756–1838)
  31. میں ضعف سے جوں نقش قدم اٹھ نہیں سکتابیٹھا ہوں سر خاک پہ جم اٹھ نہیں سکتاShah Naseer (1756–1838)
  32. میں نے بٹھلا کے جو پاس اس کو کھلایا بیڑاقتل پر میرے رقیبوں نے اٹھایا بیڑاShah Naseer (1756–1838)
  33. نکہت گل ہیں یا صبا ہیں ہمنہیں معلوم کچھ کہ کیا ہیں ہمShah Naseer (1756–1838)
  34. نہ دکھائیو ہجر کا درد و الم تجھے دیتا ہوں چرخ خدا کی قسممرے یار کو مجھ سے نہ کیجو جدا تجھے سرور ہر دوسرا کی قسمShah Naseer (1756–1838)
  35. نہ ذکر آشنا نے قصۂ بیگانہ رکھتے ہیںحدیث یار رکھتے ہیں یہی افسانہ رکھتے ہیںShah Naseer (1756–1838)
  36. واں کمر باندھے ہیں مژگاں قتل پر دونوں طرفیاں صف عشاق ہیں زیر و زبر دونوں طرفShah Naseer (1756–1838)
  37. ہاتھوں کو اٹھا جان سے آخر کو رہوں گاپر دل ہے رفیق اس کو کبھی تجھ کو نہ دوں گاShah Naseer (1756–1838)
  38. ہم پھڑک کر توڑتے ساری قفس کی تیلیاںپر نہیں اے ہم صفیرو! اپنے بس کی تیلیاںShah Naseer (1756–1838)
  39. ہوا اشک گلگوں بہار گریباںبرنگ رگ گل ہے تار گریباںShah Naseer (1756–1838)
  40. ہو چکی باغ میں بہار افسوسآہ اے بلبلو ہزار افسوسShah Naseer (1756–1838)
  41. یارو نہیں اتنا مجھے قاتل نے ستایاجتنا کہ مرے دشمن جاں دل نے ستایاShah Naseer (1756–1838)
  42. یاں سے دیں گے نہ تم کو جانے آجلاکھ اب تم کرو بہانے آجShah Naseer (1756–1838)
  43. بعد مجنوں کیوں نہ ہوں میں کار فرمائے جنوںعشق کی سرکار سے ملبوس رسوائی ملاShah Naseer (1756–1838)
  44. دل عشق خوش قداں میں جو خواہان نالہ تھانالے سے میرے کیا ہے ہوائی کو ہم سریShah Naseer (1756–1838)
  45. زلف چھٹتی ترے رخ پر تو دل اپنا پھرتاگھر کو بے شام نہیں صبح کا بھولا پھرتاShah Naseer (1756–1838)
  46. گو سیہ بخت ہوں پر یار لبھا لیتا ہےشکل سایہ کے مجھے ساتھ لگا لیتا ہےShah Naseer (1756–1838)
  47. نہ کیوں کہ اشک مسلسل ہو رہنما دل کاطریق عشق میں جاری ہے سلسلہ دل کاShah Naseer (1756–1838)
  48. ہار بنا ان پارۂ دل کا مانگ نہ گجرا پھولوں کااور کہاں سے عاشق مفلس لائے یہ گہنہ پھولوں کاShah Naseer (1756–1838)
  49. اڑے ہیں کوچۂ دلبر میں جان سے گزرےیہ جان کیا ہے کہ دونوں جہان سے گزرےLutfunnisa Imtiyaz (b. 1761)
  50. ایک ہوں نالاں قفس میں ہائے اے بلبل خموشسن ترا آواز اور صحرا ہوا ہے سبز پوشLutfunnisa Imtiyaz (b. 1761)