ملتی ہے اسے گوہر شب تاب کی میراث

Waliullah Muhib

ملتی ہے اسے گوہر شب تاب کی میراث

لی مجھ دل صد پارہ نے سیماب کی میراث

حسرت سے تری چشم کی نرگس نے چمن میں

پائی ہے کسی دیدۂ بے خواب کی میراث

یاں جو دل روشن کہ وہ خالی ہے خودی سے

پہنچائی فلک نے اسے مہتاب کی میراث

اک بیڑۂ پاں ہاتھ سے تو اپنے جو بخشے

طوطی کو ملے غیب سے سرخاب کی میراث

پاسنگ ہیں لعل اس کے بھی جس سنگ کو پہنچے

اک قطرہ مرے اشک کے خونباب کی میراث

رو رو کے مری چشم نے اس بحر جہاں سے

لی خانہ خرابی کے لئے آب کی میراث

یہ درد و غم عشق دلا جان غنیمت

پہنچی تری حب سے تجھے احباب کی میراث

دریائے محبت سے محبؔ لے ہی کے چھوڑی

مجھ اشک نے آخر در نایاب کی میراث