یوں گھر سے محبت کے کیا بھاگ چلے جانا

Waliullah Muhib

یوں گھر سے محبت کے کیا بھاگ چلے جانا

کچھ اس میں سمجھتا ہے دے آگ چلے جانا

تا شہر عدم ہم کو مشکل نظر آتا ہے

آلائش ہستی سے بے لاگ چلے جانا

کوچے سے ترے گاہے گھر شب کو جو آتا ہوں

پھر صبح ہوئے سوتے اٹھ جاگ چلے جانا

اس زلف کے افعی نے مارا ہے جسے اس کے

اشک آنکھ سے اور منہ سے ہیں جھاگ چلے جانا

جاتے تو ہو مے خانے مسجد میں بھی یک ساعت

واعظ کا محب سنتے کھڑاگ چلے جانا