Poetry
Poet
Meter
- نگہ کیا اور مژہ کیا اے صنم اس کو بھی اس کو بھیسمجھتے ہیں قضا کا تیر ہم اس کو بھی اس کو بھیمرزا آسمان جاہ انجم
- نہ تھا دل ہمارا کبھی غم سے واقفمگر اب ہوا آپ کے دم سے واقفمرزا آسمان جاہ انجم
- نہ ہوئی صاف طبیعت ہی تو ہےرہ گئی دل میں کدورت ہی تو ہےمرزا آسمان جاہ انجم
- وہ چال اٹکھیلیوں سے چل کر دل و جگر روندے ڈالتے ہیںابھی جوانی کا ہے جو عالم نہ دیکھتے ہیں نہ بھالتے ہیںمرزا آسمان جاہ انجم
- ہٹا دو چہرے سے گر دوپٹہ تم اپنے اے لالہ فام آدھاتو ہو یہ ثابت کہ نکلا ابر سیہ سے ماہ تمام آدھامرزا آسمان جاہ انجم
- ہم سے نہ ہوگی ترک وفا یہ اور کسی کو سنائیں آپہم نہ سنیں گے حضرت ناصح لاکھ ہمیں سمجھائیں آپمرزا آسمان جاہ انجم
- ہمیں زاہد جو کافر جانتا ہےتو پھر پتھر کو تو کیوں مانتا ہےمرزا آسمان جاہ انجم
- یاں کفر سے غرض ہے نہ اسلام سے غرضبس ہے اگر غرض تو ترے نام سے غرضمرزا آسمان جاہ انجم
- یوں تو ان آنکھوں سے ہم نے او بت کہنے کو دنیا دیکھیلیکن ساری خدائی بھر تیری صورت یکتا دیکھیمرزا آسمان جاہ انجم
- یہ بھی نہ پوچھا تم نے انجمؔ جیتا ہے یا مرتا ہےواہ جی وا عاشق سے کوئی ایسی غفلت کرتا ہےمرزا آسمان جاہ انجم
- صنم ہے یا خدا کیا جانے کیا ہےہمارا دل ربا کیا جانے کیا ہےمرزا آسمان جاہ انجم
- غم ہجر کے گئے دن گزر ہوا آخر اپنا وصال ہیپہ یہ کیا غضب ہے پئے خدا تجھے آج تک ہے ملال ہیمرزا آسمان جاہ انجم
- مثال چرخ رہا آسماںؔ سر گرداںپر آج تک نہ کھلا یہ کہ جستجو کیا ہےمرزا آسمان جاہ انجم
- اس سے پھر کیا گلا کرے کوئیجو کہے سن کے کیا کرے کوئینظام رامپوری
- اس قدر آپ کا عتاب رہےدل کو میرے نہ اضطراب رہےنظام رامپوری
- اور اب کیا کہیں کہ کیا ہیں ہمآپ ہی اپنے مدعا ہیں ہمنظام رامپوری
- ترے آگے عدو کو نامہ بر مارا تو کیا مارانہ مارا جاں سے جس دم اس کو گر مارا تو کیا مارانظام رامپوری
- تصور آپ کا ہے اور میں ہوںیہی اب مشغلا ہے اور میں ہوںنظام رامپوری
- تم سے کچھ کہنے کو تھا بھول گیاہاے کیا بات تھی کیا بھول گیانظام رامپوری
- تمہیں ہاں کسی سے محبت کہاں ہےذرا دیکھیے تو وہ صورت کہاں ہےنظام رامپوری
- جب تو میں ہوں آہ میں ایسا اثر پیدا کروںاے ستم گر تیرے دل میں اپنا گھر پیدا کروںنظام رامپوری
- جو چپ رہوں تو بتائیں وہ گھنگنیاں منہ میںجو کچھ کہوں تو کہیں قینچی ہے زباں منہ میںنظام رامپوری
- جو سرگزشت اپنی ہم کہیں گے کوئی سنے گا تو کیا کریں گےجو یاد آئیں گی تیری باتیں تو چپ ہی پہروں رہا کریں گےنظام رامپوری
- چھیڑ منظور ہے کیا عاشق دلگیر کے ساتھخط بھی آیا کبھی تو غیر کی تحریر کے ساتھنظام رامپوری
- حال دل تم سے مری جاں نہ کہا کون سے دنمیرے کہنے کو بھلا تم نے سنا کون سے دننظام رامپوری
- خبر نہیں کئی دن سے وہ دق ہے یا خوش ہےخوشی تبھی ہو کہ جب سن لوں دل ربا خوش ہےنظام رامپوری
- دل پہ جو گزرے ہے میرے آہ میں کس سے کہوںکیا کروں میں اے مرے اللہ میں کس سے کہوںنظام رامپوری
- دل لگے ہجر میں کیوں کر میرادل ترا سا نہیں پتھر میرانظام رامپوری
- دیکھ اپنے قرار کرنے کواور مرے انتظار کرنے کونظام رامپوری
- دیکھیے تو خیال خام مراآپ سے اور برائی کام مرانظام رامپوری
- صاف باتوں میں تو کدورت ہےاور لگاوٹ سے ظاہر الفت ہےنظام رامپوری
- صدمے یوں غیر پر نہیں آتےتمہیں جور اس قدر نہیں آتےنظام رامپوری
- ضائع نہیں ہوتی کبھی تدبیر کسی کیمیری سی خدایا نہ ہو تقدیر کسی کینظام رامپوری
- فکر یہی ہے ہر گھڑی غم یہی صبح و شام ہےگر نہ ملا وہ کچھ دنوں کام یہاں تمام ہےنظام رامپوری
- کہنے سے نہ منع کر کہوں گاتو میری نہ سن مگر کہوں گانظام رامپوری
- کہیے گر ربط مدعی سے ہےکہتے ہیں دوستی تجھی سے ہےنظام رامپوری
- کیوں کرتے ہو اعتبار میرامعلوم ہے تم کو پیار میرانظام رامپوری
- کیوں ناصحا ادھر کو نہ منہ کر کے سوئیےدل تو کہے ہے ساتھ ہی دل بر کے سوئیےنظام رامپوری
- مجھ سے کیوں کہتے ہو مضموں غیر کی تحریر کاجانتا ہوں مدعا میں آپ کی تقریر کانظام رامپوری
- محفل میں آتے جاتے ہیں انساں نئے نئےاب تو چلن لیے ہیں مری جاں نئے نئےنظام رامپوری
- مزا کیا جو یوں ہی سحر ہو گئینہیں بھی پہر دو پہر ہو گئینظام رامپوری
- نہیں سوجھتا کوئی چارا مجھےتمہاری جدائی نے مارا مجھےنظام رامپوری
- وہ ایسے بگڑے ہوئے ہیں کئی مہینے سےکہ جاں پہ بن گئی تنگ آ گیا میں جینے سےنظام رامپوری
- وہی لوگ پھر آنے جانے لگےمرے پاس کیوں آپ آنے لگےنظام رامپوری
- ہلتی ہے زلف جنبش گردن کے ساتھ ساتھناگن بھی ہے لگی ہوئی رہزن کے ساتھ ساتھنظام رامپوری
- ہم کو شب وصال بھی رنج و محن ہواقسمت خلاف طبع ہوا جو سخن ہوانظام رامپوری
- ہو کے بس انسان حیراں سر پکڑ کر بیٹھ جائےکیا بن آئے اس گھڑی جب وہ بگڑ کر بیٹھ جائےنظام رامپوری
- یاں کسے غم ہے جو گریہ نے اثر چھوڑ دیاہم نے تو شغل ہی اے دیدۂ تر چھوڑ دیانظام رامپوری
- یہ عجب تم نے نکالا سونارات کا جاگنا دن کا سونانظام رامپوری
- انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھدیکھا جو مجھ کو چھوڑ دیئے مسکرا کے ہاتھنظام رامپوری