Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. نگہ کیا اور مژہ کیا اے صنم اس کو بھی اس کو بھیسمجھتے ہیں قضا کا تیر ہم اس کو بھی اس کو بھیمرزا آسمان جاہ انجم
  2. نہ تھا دل ہمارا کبھی غم سے واقفمگر اب ہوا آپ کے دم سے واقفمرزا آسمان جاہ انجم
  3. نہ ہوئی صاف طبیعت ہی تو ہےرہ گئی دل میں کدورت ہی تو ہےمرزا آسمان جاہ انجم
  4. وہ چال اٹکھیلیوں سے چل کر دل و جگر روندے ڈالتے ہیںابھی جوانی کا ہے جو عالم نہ دیکھتے ہیں نہ بھالتے ہیںمرزا آسمان جاہ انجم
  5. ہٹا دو چہرے سے گر دوپٹہ تم اپنے اے لالہ فام آدھاتو ہو یہ ثابت کہ نکلا ابر سیہ سے ماہ تمام آدھامرزا آسمان جاہ انجم
  6. ہم سے نہ ہوگی ترک وفا یہ اور کسی کو سنائیں آپہم نہ سنیں گے حضرت ناصح لاکھ ہمیں سمجھائیں آپمرزا آسمان جاہ انجم
  7. ہمیں زاہد جو کافر جانتا ہےتو پھر پتھر کو تو کیوں مانتا ہےمرزا آسمان جاہ انجم
  8. یاں کفر سے غرض ہے نہ اسلام سے غرضبس ہے اگر غرض تو ترے نام سے غرضمرزا آسمان جاہ انجم
  9. یوں تو ان آنکھوں سے ہم نے او بت کہنے کو دنیا دیکھیلیکن ساری خدائی بھر تیری صورت یکتا دیکھیمرزا آسمان جاہ انجم
  10. یہ بھی نہ پوچھا تم نے انجمؔ جیتا ہے یا مرتا ہےواہ جی وا عاشق سے کوئی ایسی غفلت کرتا ہےمرزا آسمان جاہ انجم
  11. صنم ہے یا خدا کیا جانے کیا ہےہمارا دل ربا کیا جانے کیا ہےمرزا آسمان جاہ انجم
  12. غم ہجر کے گئے دن گزر ہوا آخر اپنا وصال ہیپہ یہ کیا غضب ہے پئے خدا تجھے آج تک ہے ملال ہیمرزا آسمان جاہ انجم
  13. مثال چرخ رہا آسماںؔ سر گرداںپر آج تک نہ کھلا یہ کہ جستجو کیا ہےمرزا آسمان جاہ انجم
  14. اس سے پھر کیا گلا کرے کوئیجو کہے سن کے کیا کرے کوئینظام رامپوری
  15. اس قدر آپ کا عتاب رہےدل کو میرے نہ اضطراب رہےنظام رامپوری
  16. اور اب کیا کہیں کہ کیا ہیں ہمآپ ہی اپنے مدعا ہیں ہمنظام رامپوری
  17. ترے آگے عدو کو نامہ بر مارا تو کیا مارانہ مارا جاں سے جس دم اس کو گر مارا تو کیا مارانظام رامپوری
  18. تصور آپ کا ہے اور میں ہوںیہی اب مشغلا ہے اور میں ہوںنظام رامپوری
  19. تم سے کچھ کہنے کو تھا بھول گیاہاے کیا بات تھی کیا بھول گیانظام رامپوری
  20. تمہیں ہاں کسی سے محبت کہاں ہےذرا دیکھیے تو وہ صورت کہاں ہےنظام رامپوری
  21. جب تو میں ہوں آہ میں ایسا اثر پیدا کروںاے ستم گر تیرے دل میں اپنا گھر پیدا کروںنظام رامپوری
  22. جو چپ رہوں تو بتائیں وہ گھنگنیاں منہ میںجو کچھ کہوں تو کہیں قینچی ہے زباں منہ میںنظام رامپوری
  23. جو سرگزشت اپنی ہم کہیں گے کوئی سنے گا تو کیا کریں گےجو یاد آئیں گی تیری باتیں تو چپ ہی پہروں رہا کریں گےنظام رامپوری
  24. چھیڑ منظور ہے کیا عاشق دلگیر کے ساتھخط بھی آیا کبھی تو غیر کی تحریر کے ساتھنظام رامپوری
  25. حال دل تم سے مری جاں نہ کہا کون سے دنمیرے کہنے کو بھلا تم نے سنا کون سے دننظام رامپوری
  26. خبر نہیں کئی دن سے وہ دق ہے یا خوش ہےخوشی تبھی ہو کہ جب سن لوں دل ربا خوش ہےنظام رامپوری
  27. دل پہ جو گزرے ہے میرے آہ میں کس سے کہوںکیا کروں میں اے مرے اللہ میں کس سے کہوںنظام رامپوری
  28. دل لگے ہجر میں کیوں کر میرادل ترا سا نہیں پتھر میرانظام رامپوری
  29. دیکھ اپنے قرار کرنے کواور مرے انتظار کرنے کونظام رامپوری
  30. دیکھیے تو خیال خام مراآپ سے اور برائی کام مرانظام رامپوری
  31. صاف باتوں میں تو کدورت ہےاور لگاوٹ سے ظاہر الفت ہےنظام رامپوری
  32. صدمے یوں غیر پر نہیں آتےتمہیں جور اس قدر نہیں آتےنظام رامپوری
  33. ضائع نہیں ہوتی کبھی تدبیر کسی کیمیری سی خدایا نہ ہو تقدیر کسی کینظام رامپوری
  34. فکر یہی ہے ہر گھڑی غم یہی صبح و شام ہےگر نہ ملا وہ کچھ دنوں کام یہاں تمام ہےنظام رامپوری
  35. کہنے سے نہ منع کر کہوں گاتو میری نہ سن مگر کہوں گانظام رامپوری
  36. کہیے گر ربط مدعی سے ہےکہتے ہیں دوستی تجھی سے ہےنظام رامپوری
  37. کیوں کرتے ہو اعتبار میرامعلوم ہے تم کو پیار میرانظام رامپوری
  38. کیوں ناصحا ادھر کو نہ منہ کر کے سوئیےدل تو کہے ہے ساتھ ہی دل بر کے سوئیےنظام رامپوری
  39. مجھ سے کیوں کہتے ہو مضموں غیر کی تحریر کاجانتا ہوں مدعا میں آپ کی تقریر کانظام رامپوری
  40. محفل میں آتے جاتے ہیں انساں نئے نئےاب تو چلن لیے ہیں مری جاں نئے نئےنظام رامپوری
  41. مزا کیا جو یوں ہی سحر ہو گئینہیں بھی پہر دو پہر ہو گئینظام رامپوری
  42. نہیں سوجھتا کوئی چارا مجھےتمہاری جدائی نے مارا مجھےنظام رامپوری
  43. وہ ایسے بگڑے ہوئے ہیں کئی مہینے سےکہ جاں پہ بن گئی تنگ آ گیا میں جینے سےنظام رامپوری
  44. وہی لوگ پھر آنے جانے لگےمرے پاس کیوں آپ آنے لگےنظام رامپوری
  45. ہلتی ہے زلف جنبش گردن کے ساتھ ساتھناگن بھی ہے لگی ہوئی رہزن کے ساتھ ساتھنظام رامپوری
  46. ہم کو شب وصال بھی رنج و محن ہواقسمت خلاف طبع ہوا جو سخن ہوانظام رامپوری
  47. ہو کے بس انسان حیراں سر پکڑ کر بیٹھ جائےکیا بن آئے اس گھڑی جب وہ بگڑ کر بیٹھ جائےنظام رامپوری
  48. یاں کسے غم ہے جو گریہ نے اثر چھوڑ دیاہم نے تو شغل ہی اے دیدۂ تر چھوڑ دیانظام رامپوری
  49. یہ عجب تم نے نکالا سونارات کا جاگنا دن کا سونانظام رامپوری
  50. انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھدیکھا جو مجھ کو چھوڑ دیئے مسکرا کے ہاتھنظام رامپوری