Poetry

Poet
Meter
  1. جو پری بھی روبرو ہو تو پری کو میں نہ دیکھوںمری آنکھیں بند کر دو کہ کسی کو میں نہ دیکھوںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  2. جُو پھرا کہ اس نے منہ کو بہ قفا نقاب الٹاادھر آسمان الٹا ادھر آفتاب الٹاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  3. جو دم حقے کا دوں بولے کہ ”میں حقا نہیں پیتا”بھروں جلدی سے گر سلفا، کہے ”سلفا نہیں پیتا”Mushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  4. جوں ہی زنجیر کے پاس آئے پاؤںدیکھ اس کو مرے تھرائے پاؤںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  5. جیتا رہوں کہ ہجر میں مر جاؤں کیا کروںتو ہی بتا مجھے میں کدھر جاؤں کیا کروںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  6. جی سے مجھے چاہ ہے کسی کیکیا جانے کوئی کسی کی جی کیMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  7. چشم نے کی گوہر افشانی صریحہو گئی یہ ہم سے نادانی صریحMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  8. چکھی نہ جس نے کبھی لذت سنان نگاہمزہ دے پھر اسے کیا تیغ خوں چکان نگاہMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  9. چلے لے کے سر پر گناہوں کی گٹھریسفر میں یہ ہے رو سیاہوں کی گٹھریMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  10. چھریاں چلیں شب دل و جگر پرلعنت ہے اس آہ بے اثر پرMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  11. حال دل بے قرار ہے اورشاید کہ خیال یار ہے اورMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  12. خدا کی قسم پھر تو کیا خیر ہووےہم اور تم اکیلے ہوں اور سیر ہووےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  13. خریدار اپنا ہم کو جانتے ہوبھلا اتنا تو تم پہچانتے ہوMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  14. خواب تھا یا خیال تھا کیا تھاہجر تھا یا وصال تھا کیا تھاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  15. خواریاں بدنامیاں رسوائیاںعشق نے شکلیں یہ سب دکھلائیاںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  16. خوش طالعی میں شمس و قمر دونوں ایک ہیںدن رات کا تو فرق ہے پر دونوں ایک ہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  17. در تلک آ کے ٹک آواز سنا جاؤ جیاپنے مشتاق کو اتنا بھی نہ ترساؤ جیMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  18. در تلک جانے کی ہے اس کے مناہی ہم کواپنی بس اب نظر آتی ہے تباہی ہم کوMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  19. دریاے عاشقی میں جو تھے گھاٹ گھاٹ سانپلے گئے سپیرے واں سے بہت بھر کے باٹ سانپMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  20. دلبر کی تمنائے بر دوش میں مر جائےکیا یوں ہی کوئی حسرت آغوش میں مر جائےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  21. دل چرانا یہ کام ہے تیرالے گیا ہے تو نام ہے تیراMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  22. دل خوش نہ ہوا زلف پریشاں سے نکل کرپچھتائے ہم اس شام غریباں سے نکل کرMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  23. دل سینے میں بیتاب ہے دل دار کدھر ہےکوئی مجھ کو بتا دو وہ مرا یار کدھر ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  24. دل کو یہ اضطرار کیسا ہےدیکھیو بے قرار کیسا ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  25. دل کے نگر میں چار طرف جب غم کی دہائی بیٹھ گئیسر پہ ہمارے دست قضا سے تیغ جدائی بیٹھ گئیMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  26. دل میں مرغان چمن کے تو گماں اور ہی ہےپر دل زار کا انداز فغاں اور ہی ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  27. دل میں ہے اس کے مدعی کا عشقخاک سمجھے ہے وہ کسی کا عشقMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  28. دلی ہوئی ہے ویراں سونے کھنڈر پڑے ہیںویران ہیں محلے سنسان گھر پڑے ہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  29. دم غنیمت ہے کہ وقت خوش دلی ملتا نہیںیہ سماں یہ چین دنیا میں کبھی ملتا نہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  30. دور سے مجھ کو نہ منہ اپنا دکھاؤ جاؤبس جی بس دیکھ لیا میں تمہیں جاؤ جاؤMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  31. دوکان مے فروش پہ گر آئے محتسبدن عید کے تو خوب گھڑا جائے محتسبMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  32. دیکھ اس کو اک آہ ہم نے کر لیحسرت سے نگاہ ہم نے کر لیMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  33. رات پردے سے ذرا منہ جو کسو کا نکلاشعلہ سمجھا تھا اسے میں پہ بھبھوکا نکلاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  34. رات کرتا تھا وہ اک مرغ گرفتار سے بحثمیں بھی تا صبح رکھی بلبل گل زار سے بحثMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  35. رات کے رہنے کا نہ ڈر کیجیےایک تو شب یاں بھی سحر کیجیےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  36. رحمت تری اے ناقہ کش محمل حاجیچاہے تو کرے راہب بت خانہ کو ناجیMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  37. رخ زلف میں بے نقاب دیکھامیں تیرہ شب آفتاب دیکھاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  38. رکھیں ہیں جی میں مگر مجھ سے بد گمانی آپجو میرے ہاتھ سے پیتے نہیں ہیں پانی آپMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  39. رو کے ان آنکھوں نے دریا کر دیاابر کو پانی سے پتلا کر دیاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  40. زخم ہے اور نمک فشانی ہےدوستی دشمنیٔ جانی ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  41. زلف اگر دل کو پھنسا رکھتی ہےآنکھ پردوں میں چھپا رکھتی ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  42. زلفوں کا بکھرنا اک تو بلا، عارض کی جھلک پھر ویسی ہیآنکھوں کا مٹکنا ہوش ربا، ہر ایک پلک پھر ویسی ہیMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  43. زیر نقاب آب گوں ہائے رے ان کی جالیاںہم کو تو بس ڈبو گئیں نیل کے کٹرے والیاںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  44. سامنے آنکھوں کے ہر دم تری تمثال ہے آجدل بھرا آئے نہ کیونکر کہ برا حال ہے آجMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  45. سخن میں کامرانی کر رہا ہوںضعیفی میں جوانی کر رہا ہوںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  46. سدا فکر روزی ہے تا زندگی ہےجو جینا یہی ہے تو کیا زندگی ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  47. سدھاری قوت دل تاب اور طاقت سے کہہ دیجوہوئے ہیں ناتواں ہم بستر راحت سے کہہ دیجوMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  48. سر اپنے کو تجھ پر فدا کر چکے ہمحق آشنائی ادا کر چکے ہمMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  49. سر شام اس نے منہ سے جو رخ نقاب الٹانہ غروب ہونے پایا وہیں آفتاب الٹاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
  50. سوتے ہیں ہم زمیں پر کیا خاک زندگی ہےماٹی میں سن رہے ہیں ناپاک زندگی ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)