Poetry
Poet
Meter
- سیراب آب جو سے قدح اور قدح سے ہمسر خوش گلوں کی بو سے قدح اور قدح سے ہمMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- سینہ ہے پرزے پرزے جائے رفو نہیں یاںٹانکے لگاویں کس کو دل کی تو بو نہیں یاںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- شب شوق لے گیا تھا ہمیں اس کے گھر تلکپر غش سا آ گیا ووہیں پہنچے جو در تلکMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- شب میں واں جاؤں تو جاؤں کس طرحبخت خفتہ کو جگاؤں کس طرحMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- شب ہجراں تھی میں تھا اور تنہائی کا عالم تھاغرض اس شب عجب ہی بے سر و پائی کا عالم تھاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- شب ہجر صحرائے ظلمات نکلیمیں جب آنکھ کھولی بہت رات نکلیMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- شب ہم کو جو اس کی دھن رہی ہےکیا جی میں ادھیڑ بن رہی ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- شعر دولت ہے کہاں کی دولتمیں غنی ہوں تو زباں کی دولتMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- شعر کیا جس میں نوک جھوک نہ ہومرغ پھر کیا لڑے جو نوک نہ ہوMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- صحبت ہے ترے خیال کے ساتھہے ہجر کی شب وصال کے ساتھMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- طرح اولے کی جو خلقت میں ہم آبی ہوتےاپنے ہی واسطے بنیاد خرابی ہوتےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- طور پر اپنے کسی دن بھی خور و خواب ہے یاںزندگانی کا بھلا کون سا اسباب ہے یاںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- ظلمات شب ہجر کی آفات ہے اور توجو دم ہے غنیمت ہے کہ پھر رات ہے اور توMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- عاشق تو ملیں گے تجھے انساں نہ ملے گامجھ سا تو کوئی بندۂ فرماں نہ ملے گاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- عاشق کہیں ہیں جن کو وہ بے ننگ لوگ ہیںمعشوق جن کا نام ہے وہ سنگ لوگ ہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- عقل گئی ہے سب کی کھوئی کیا یہ خلق دوانی ہےآپ حلال میں ہوتا ہوں ان لوگوں کو قربانی ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- عمر پس ماندہ کچھ دلیل سی ہےزندگانی بھی اب قلیل سی ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- غصے کو جانے دیجے نہ تیوری چڑھائیےمیں گالیاں بھی آپ کی کھائیں اب آئیےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- غم ترا دل میں مرے پھر آگ سلگانے لگاپھر دھواں سا اس سے کچھ اٹھتا نظر آنے لگاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- غم دل کا بیان چھوڑ گئےہم یہ اپنا نشان چھوڑ گئےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- غیر کے گھر تو نہ رہ رات کو مہمان کہیںتا نا اس بات کا چرچا ہو مری جان کہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- فہمیدہ ہے جو تجھ کو تو فہمید سے نکلاور دید کا جو شوق ہے تو دید سے نکلMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کام میں اپنے ظہور حق ہے آپحضرت آدم کے تو ماں تھی نہ باپMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کب خوں میں بھرا دامن قاتل نہیں معلومکس وقت یہ دل ہو گیا بسمل نہیں معلومMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کبریائی کی ادا تجھ میں ہےگرچہ تو بت ہے خدا تجھ میں ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کب صبا سوئے اسیران قفس آتی ہےکب یہ ان تک خبر آمد گل لاتی ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کب لگ سکے جفا کو اس کی وفائے عالمہے جس کا ہر کرشمہ صبر آزمائے عالمMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کبھو تک کے در کو کھڑے رہے کبھو آہ بھر کے چلے گئےترے کوچے میں جو ہم آئے بھی تو ٹھہر ٹھہر کے چلے گئےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کبھی تو بیٹھوں ہوں جا اور کبھی اٹھ آتا ہوںمنوں ہوں آپ ہی پھر آپھی روٹھ جاتا ہوںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کبھی وفائیں کبھی بے وفائیاں دیکھیںمیں ان بتوں کی غرض آشنائیاں دیکھیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کپڑے بدل کے آئے تھے آگ مجھے لگا گئےاپنے لباس سرخ کی مجھ کو بھڑک دکھا گئےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کچھ اپنی جو حرمت تجھے منظور ہو اے شیختو بحث نہ مے خواروں سے چل دور ہو اے شیخMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کدھر جائیے اور کہاں بیٹھیےپرچتا نہیں دل جہاں بیٹھیےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کس راہ گیا لیلیٰ کا محمل نہیں معلومہے بادیہ ریگ اور ہمیں منزل نہیں معلومMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کل تو کھیلے تھا وہ گلی ڈنڈاڈنڈ پیل آج ہو گیا سنڈاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کہتی ہے نماز صبح کی بانگاٹھ صبح ہوئی ہے کچھ دعا مانگMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کہہ گیا کچھ تو زیر لب کوئیجان دیتا ہے بے سبب کوئیMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کھا لیتے ہیں غصے میں تلوار کٹاری کیاہم لوگ ہیں سودائی اوقات ہماری کیاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کھیل جاتے ہیں جان پر عاشقجان دیتے ہیں آن پر عاشقMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کی آہ ہم نے لیکن اس نے ادھر نہ دیکھااس آہ میں تو ہم نے کچھ بھی اثر نہ دیکھاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کیا دخل کسی سے مرض عشق شفا ہوممکن ہے کہ اس درد کی دنیا میں دوا ہوMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کیا کریں جا کے گلستاں میں ہمہیں بہ کنج قفس فغاں میں ہمMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کیا کھینچے ہے خود کو دور اللہاللہ رے ترا غرور اللہMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کیا میں جاتا ہوں صنم چھٹ ترے در اور کہیںلے قسم مجھ سے جو میرا ہو گزر اور کہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کیجیے ظلم سزا وار جفا ہم ہی ہیںکھینچیے تیغ کہ مدت سے فدا ہم ہی ہیںMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- کیوں کہ کہیے کہ ادا بندی ہےشاعری کیا ہے ہوا بندی ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- گر ابر گھرا ہوا کھڑا ہےآنسو بھی تلا ہوا کھڑا ہےMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- گر اور بھی مری تربت پہ یار ٹھہرے گاتو زیر خاک نہ یہ بے قرار ٹھہرے گاMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- گرچہ اے دل عاشق شیدا ہے تولیکن اپنے کام میں یکتا ہے توMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)
- گر ہم سے نہ ہو وہ دل ستاں ایککر دیجے زمیں و آسماں ایکMushafi Ghulam Hamdani (1751–1824)