ڈوبتے ڈوبتے سورج نے ضیائیں دیں ہیں

Aamir Shauqi (b. 1997)

ڈوبتے ڈوبتے سورج نے ضیائیں دیں ہیں

تیری یادوں نے بہت دل کو صدائیں دیں ہیں

یہ عدالت کسی تحریر کی محتاج نہیں

وقت نے ہر کس و ناکس کو سزائیں دیں ہیں

زندگی تجھ کو برہنہ نہیں رکھا ہے کبھی

ہم نے ہر درد کو لفظوں کی قبائیں دیں ہیں

صرف فیاضی کے قصے نہ مؤرخ لکھنا

بجھتے شعلوں کو بھی تو اس نے ہوائیں دیں ہیں

شاعری یوں ہی نہیں پختہ مری اے شوقیؔ

میرے استاد نے کچھ ایسی دعائیں دیں ہیں