قافیہ پر قافیہ حضرت رقم کرتے گئے

Tahir Saood Kiratpuri (b. 1993)

قافیہ پر قافیہ حضرت رقم کرتے گئے

اور غزل کے ہاتھ پیروں کو قلم کرتے گئے

ویسے ویسے سب عزیزوں کے چہیتے ہو گئے

جیسے جیسے چائے پانی محترم کرتے گئے

سمت منزل چلتے چلتے پاؤں روکے بار بار

اس کے طعنے روز لیکن تازہ دم کرتے گئے

کیا بتائیں آپ کو ان کی کرم فرمائیاں

ہم عنایت اور وہ ہم پر ستم کرتے گئے

جب سخن فہموں کی کم فہمی سے واقف ہو گئے

دن بہ دن ہم شعر گوئی کم سے کم کرتے گئے

جبکہ رسوائی ملا ہر خیر خواہی کا بدل

خیر خواہی پھر بھی ہم ہر ہر قدم کرتے گئے