ہم سفر ہو کے بھی اک گام نہیں چل سکتے

Umar Khaleeq Azmi (b. 1993)

ہم سفر ہو کے بھی اک گام نہیں چل سکتے

ہم ترے ساتھ سر عام نہیں چل سکتے

دن میں پھر لیتے ہیں پر یاد کی شدت کے سبب

ہم جنوں والے سر شام نہیں چل سکتے

آرزو میری بھی ہے ساتھ چلوں تیرے مگر

اتنے مہنگے ہیں ترے دام نہیں چل سکتے

ساتھ چلنے سے منع اس نے کیا تھا اک روز

آج ہم نے کہا مادام نہیں چل سکتے

عشق بھی تم سے کروں اور پڑھائی بھی کروں

ایک ہی ساتھ میں دو کام نہیں چل سکتے

آپ خوش فکر ہیں خوش رنگ بھی خوش نام بھی ہیں

پر کمائی میں ہیں نا کام نہیں چل سکتے