تمام آنسو اگر شبدوں میں ڈھل جاتے تو اچھا تھا

Updesh Vidyarthi (b. 1993)

تمام آنسو اگر شبدوں میں ڈھل جاتے تو اچھا تھا

تری یادوں سے ہم باہر نکل جاتے تو اچھا تھا

سر محفل بتا کر یوں ہوئے رسوا ہمیں تو ہیں

کہ سارے راز دل کے ہم نگل جاتے تو اچھا تھا

پرانی بات کو لے کر جو پچھتاؤ تو کیا حاصل

اگر تم وقت رہتے ہی سنبھل جاتے تو اچھا تھا

زمانے اور تھے ان کے محبت اور تھی ان کی

جو مہمانوں سے کہتے تھے کہ کل جاتے تو اچھا تھا

سجی ہے بزم الفت کی اگر اپدیشؔ ایسے میں

سبھی بے موسمی بادل بھی ٹل جاتے تو اچھا تھا