میں نے رشتوں سے نہ بڑھ کر کبھی پیسہ سمجھا
Tahir Saood Kiratpuri (b. 1993)میں نے رشتوں سے نہ بڑھ کر کبھی پیسہ سمجھا
تو نے پیسوں سے نہ بڑھ کر کبھی رشتہ سمجھا
باپ سمجھا تو کسی نے مجھے دادا سمجھا
ماں نے لیکن مجھے ہر حال میں بچہ سمجھا
پیار تھا جس میں اسی آنکھ نے خوبی دیکھی
ورنہ دنیا نے نہ جانے مجھے کیا کیا سمجھا
ہر گلی چوک پہ رویا میں غم دل کے سبب
مرے جذبات کو سمجھا تو پرندہ سمجھا
دیکھتے دیکھتے وہ ہو گیا سچ کا قاتل
میں نے جس شخص کو ہر حال میں سچا سمجھا
گھر کے اندر کئی افراد سیاست داں تھے
بھائی بیٹا نہ سمجھ کر مجھے مہرہ سمجھا
اس کی کیوں سادہ مزاجی پہ نہ مر جاؤں سعودؔ
کم بھی پایا تو اسے اس نے زیادہ سمجھا