جب کبھی درد کا بازار دکھائی دے دے

Umar Khaleeq Azmi (b. 1993)

جب کبھی درد کا بازار دکھائی دے دے

دفعتاً مجھ کو وہ کردار دکھائی دے دے

ایک لہجہ جو کبھی پھول ہوا کرتا تھا

اب جو بولے ہے تو تلوار دکھائی دے دے

اے خدا بس مجھے دنیا میں یہی خواہش ہے

مجھ کو اپنا کوئی غم خوار دکھائی دے دے

چاک پر ٹوٹے ہوئے دل بھی جڑا کرتے ہیں

میں یہ پوچھوں گا جو کمہار دکھائی دے دے

موت سے قبل مری آخری خواہش ہے یہی

کاش اک بار وہ رخسار دکھائی دے دے