دل مضطر کی آشنائی سے

Umar Khaleeq Azmi (b. 1993)

دل مضطر کی آشنائی سے

غم لگے اب ہیں پارسائی سے

تیری آنکھوں کی ایک دید کے بعد

کوئی شکوہ نہیں خدائی سے

دل نہیں لگ رہا تمہارے بغیر

جھوٹ بولے ہیں کس صفائی سے

اس سے پوچھو کہ کیا گزرتی ہے

جو گزرتا ہے بے وفائی سے

عشق والوں کو مشورہ ہے مرا

نیند بہتر ہے رت جگائی سے