ہوائیں بے عناں ہیں آج گھر سے دور مت جاؤ کہا تھا نا
Rafia Shabnam Abidi (b. 1943)ہوائیں بے عناں ہیں آج گھر سے دور مت جاؤ کہا تھا نا
اگر جاؤ چلے جانا مگر جلدی ہی لوٹ آؤ کہا تھا نا
کہا تھا نا یہ دنیا کب کسی کا ساتھ دیتی ہے فریبی ہے
کسی پر مت یقیں کرنا ذرا سوچو قسم کھاؤ کہا تھا نا
کہا تو تھا کہ باہر کے نظارے خوب صورت ہیں مگر سچ ہے
یہ سب پرچھائیاں ہیں ان سے دل اپنا نہ بہلاؤ کہا تھا نا
کہا یہ بھی تھا دشمن تیز ہے عیار ہے طرار و شاطر ہے
تم اپنے ہاتھ سے اپنے لیے مت جال پھیلاؤ کہا تھا نا
مری باتیں ہمیشہ ہی تمہیں یوں ہی سی لگتی ہیں تو مت سننا
مگر کچھ ہو ہی جائے تو نہ پچھتاؤ نہ گھبراؤ کہا تھا نا
کہا سب کچھ تو تھا اس دن کہاں لیکن تمہیں سننا گوارا تھا
بلاؤں سے جو بچنا ہو مرے دامن میں آ جاؤ کہا تھا نا
خبر ہے نا پتہ ہے نا یہ دامن دھوپ سے تم کو بچا لے گا
کہ اب تو میری باتوں پر یقیں کر لو ادھر آؤ نہ پچھتاؤ کہا تھا نا