پر رنگ ہوس نے پھڑپھڑائے
Rafia Shabnam Abidi (b. 1943)پر رنگ ہوس نے پھڑپھڑائے
بڑھنے لگے نشے کے سائے
گھبرا گئی زمین ڈر سے
کلیوں کے ان چھوٹے بدن پر
بھونرے کی نگاہ پڑ نہ جائے
موسم نے کر دیا اشارہ
بادل نے تان دی ہے چادر
شاخوں نے کھینچ دیں طنابیں
پتے لگا چکے قناتیں
لو نسب ہو گیا ہے خیمہ
ہر خار دے رہا ہے پہرہ
اب کچھ خطر ضرر نہ ڈر ہے
خوابیدہ حسن بے خبر ہے
رہزن کے راستے ہیں مسدود
ہے جرأت بے پناہ محدود
فطرت کے دست پر ہنر میں
معصومیت ہو گئی ہے محفوظ