Poetry
Nazeer Akbarabadi
نظیر اکبر آبادی- جب اس کی زلف کے حلقے میں ہم اسیر ہوئےشکن کے عادی ہوئے خم کے خو پذیر ہوئےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- جب اس کے ہی ملنے سے ناکام آیاتو یارب یہ دل میرا کس کام آیاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- جب میں سنا کہ یار کا دل مجھ سے ہٹ گیاسنتے ہی اس کے میرا کلیجہ الٹ گیاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- جب ہم نشیں ہمارا بھی عہد شباب تھاکیا کیا نشاط و عیش سے دل کامیاب تھاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- جدا کسی سے کسی کا غرض حبیب نہ ہویہ داغ وہ ہے کہ دشمن کو بھی نصیب نہ ہوNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- جن دنوں ہم کو اس سے تھا اخلاصکھل رہا تھا وہ جا بجا اخلاصNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- جو آوے منہ پہ ترے ماہتاب ہے کیا چیزغرض یہ ماہ تو کیا آفتاب ہے کیا چیزNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- جو پوچھا میں نے یاں آنا مرا منظور رکھیے گاتو سن کر یوں کہا یہ بات دل سے دور رکھیے گاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- جو تم نے پوچھا تو حرف الفت بر آیا صاحب ہمارے لب سےسو اس کو سن کر ہوے خفا تم نہ کہتے تھے ہم اسی سبب سےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- جُو تُو کہتا ہے اے غافل یہ مرا ہے یہ ترا ہےیہ جس کا ہے اسی کا ہے نہ ترا ہے نہ مرا ہےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- جو دل کو دیجے تو دل میں خوش ہو کرے ہے کس کس طرح سے ہلچلاگر نہ دیجے تو وو ہیں کیا کیا جتاوے خفگی عتاب اکڑ بلNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- جو کچھ ہے حسن میں ہر مہ لقا کو عیش و طربوہی ہے عشق میں ہر مبتلا کو عیش و طربNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- جو کہتے ہو چلیں ہم بھی ترے ہم راہ بسم اللہپھر اس میں دیر کیا اور پوچھنا کیا واہ بسم اللہNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- جہاں ہے قد اس کا جلوہ فرما تو سرو واں کس حساب میں ہےوہ قامت ایسا ہے کچھ قیامت قیامت اس کی رکاب میں ہےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- جھمک دکھاتے ہی اس دل ربا نے لوٹ لیاہمیں تو پہلے ہی اس کی ادا نے لوٹ لیاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- چاہت کے اب افشا کن اسرار تو ہم ہیںکیوں دل سے جھگڑتے ہو گنہ گار تو ہم ہیںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- چاہ میں اس کی دل نے ہمارے نام کو چھوڑا نام کیاشغل میں اس کے شوق بڑھا کر کام کو چھوڑا کام کیاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- چتون درست سین بجا باتیں ٹھیک ٹھیکناز و ادا کی اس میں ہیں سب باتیں ٹھیک ٹھیکNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- چتون کی کہوں کہ اشارات کی گرمیہے نام خدا اس میں ہر ایک بات کی گرمیNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- چتون میں شرارت ہے اور سین بھی چنچل ہےکافر تری نظروں میں کچھ اور ہی چھل بل ہےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- چھوٹا بڑا نہ کم نہ منجھولا ازار بندہے اس پری کا سب سے امولا ازار بندNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- حسن اس شوخ کا اہا ہاہاجن نے دیکھا کہا اہا ہاہاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- خط کی رخساروں پر اِس گُل کہ جُو تحریریں ہیں دوہے وُہ مصحف رخ کے جس کہ ساتھ تفسیریں ہیں دوNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- خیال یار سدا چشم نم کے ساتھ رہامرا جو چاہ میں دم تھا وہ دم کے ساتھ رہاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- دامان و کنار اشک سے کب تر نہ ہوے آہدو چار بھی آنسو مرے گوہر نہ ہوے آہNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- دریا و کوہ و دشت و ہوا ارض اور سمادیکھا تو ہر مکاں میں وہی ہے رہا سماNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- دکھا کر اک نظر دل کو نہایت کر گیا بے کلپری رو تند خو سرکش ہٹیلا چلبلا چنچلNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- دل ٹھہرا ایک تبسم پر کچھ اور بہا اے جان نہیںگر ہنس دیجے اور لے لیجے تو فائدہ ہے نقصان نہیںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- دل کو چشم یار نے جب جام مے اپنا دیاان سے خوش ہو کر لیا اور کہہ کے بسم اللہ پیاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- دل کو لے کر ہم سے اب جاں بھی طلب کرتے ہیں آپلیجئے حاضر ہے پر یہ تو غضب کرتے ہیں آپNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- دل نہ لو دل کا یہ لینا ہے نہ اخفا ہوگااس کو دل کہتے ہیں بس لیتے ہی چرچا ہوگاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- دل ہر گھڑی کہتا ہے یوں جس طور سے اب ہو سکےاٹھ اور سنبھل گھر سے نکل اور پاس اس چنچل کے چلNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- دل ہم نے جو چشم بت بے باک سے باندھاپھر نشۂ صہبا سے نہ تریاک سے باندھاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- دل یار کی گلی میں کر آرام رہ گیاپایا جہاں فقیر نے بسرام رہ گیاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- دور سے آئے تھے ساقی سن کے مے خانے کو ہمبس ترستے ہی چلے افسوس پیمانے کو ہمNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- دوستو کیا کیا دوالی میں نشاط و عیش ہےسب مہیا ہے جو اس ہنگام کے شایاں ہے شےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- دھواں کلیجے سے میرے نکلا جلا جو دل بس کہ رشک کھا کروہ رشک یہ تھا کہ غیر سے ٹک ہنسا تھا چنچل مسی لگا کرNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- دیا جو ساقی نے ساغر مے دکھا کے آن اک ہمیں لبالباگرچہ مے کش تو ہم نئے تھے پہ لب پہ رکھتے ہی پی گئے سبNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- دیکھ عقد ثریا ہمیں انگور کی سوجھیکیوں بادہ کشاں ہم کو بھی کیا دور کی سوجھیNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- دیکھ کر کرتی گلے میں سبز دھانی آپ کیدھان کے بھی کھیت نے اب آن مانی آپ کیNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- دیکھ لے جو عالم اس کے حسن بالا دست کاحوصلہ اتنا کہاں اپنی نگاہ پست کاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- رتبہ کچھ عاشقی میں نہ کم ہے فقیر کاہیں جس کے سب صنم وہ صنم ہے فقیر کاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- رخ پری چشم پری زلف پری آن پریکیوں نہ اب نام خدا ہو ترے قربان پریNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- رکھتا ہے صدا ہونٹ کو جوں گل کی کلی چپوہ غنچہ دہن آہ یہ سیکھا ہے بھلی چپNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- رکھتا ہے گو قدیم سے بنیاد آگرہاکبر کے نام سے ہوا آباد آگرہNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- رکھی ہرگز نہ ترے رخ نے رخ بدر کی قدرکھوئی کاکل نے بھی آخر کو شب قدر کی قدرNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- رہوں کاہے کو دِل خستہ پھروں کاہے کو آوارہاگر آں ترک شیرازی بدست آرد دِل ما راNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- رہے جو شب کو ہم اس گل کے سات کوٹھے پرتو کیا بہار سے گزری ہے رات کوٹھے پرNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- زاہدو روضۂ رضواں سے کہو عشق اللہعاشقو کوچۂ جاناں سے کہو عشق اللہNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- ساقی شراب ہے تو غنیمت ہے اب کی ابپھر بزم ہوگی جب تو سمجھ لیجو جب کی جبNazeer Akbarabadi (1735–1830)