جو کچھ ہے حسن میں ہر مہ لقا کو عیش و طرب

Nazeer Akbarabadi (1735–1830)

جو کچھ ہے حسن میں ہر مہ لقا کو عیش و طرب

وہی ہے عشق میں ہر مبتلا کو عیش و طرب

اگرچہ اہل نوا خوش ہیں ہر طرح لیکن

زیادہ ان سے ہے ہر بے نوا کو عیش و طرب

وہ میکدے میں حلاوت ہے رند میکش کو

جو خانقاہ میں ہے پارسا کو عیش و طرب

رکھے ہے ہر تن عریاں برہنہ پائی وہی

جو کچھ ہے صاحب اسپ و قبا کو عیش و طرب

کمال قدرت حق ہے نظیرؔ کیا کہئے

جو شاہ کو ہے وہی ہے گدا کو عیش و طرب