خط کی رخساروں پر اِس گُل کہ جُو تحریریں ہیں دو

Nazeer Akbarabadi (1735–1830)

خط کی رخساروں پر اِس گُل کہ جُو تحریریں ہیں دو

ہے وُہ مصحف رخ کے جس کہ ساتھ تفسیریں ہیں دو

حُسن وُہ ترک ستم گر ہے کے جس کہ پاس چار

ترکشیں مژگاں کی اُور ابرو کی شمشیریں ہیں دو

یا بلاؤ ہم کو پنہاں یا تم آؤ چھپ کہ یاں

گر ملا چاہو تُو ملنے کی یہ تدبیریں ہیں دو

فی الحقیقت فیض جذب عشق سے باہم ہیں ایک

لیلیٰ و مجنُوں کی گو ظاہر میں تصویریں ہیں دو

دِل دیا اور کی وفا اس کی جفاؤں پر نظیرؔ

غور سے دیکھا تُو یہ اپنی ہی تقصیریں ہیں دو