جب ہم نشیں ہمارا بھی عہد شباب تھا
Nazeer Akbarabadi (1735–1830)جب ہم نشیں ہمارا بھی عہد شباب تھا
کیا کیا نشاط و عیش سے دل کامیاب تھا
حیرت ہے اس کی زود روی کیا کہیں ہم آہ
نقش طلسم تھا وہ کوئی یا حباب تھا
تھا جب وہ جلوہ گر تو دل و جاں میں دم بدم
عشرت کی حد نہ عیش و طرب کا حساب تھا
تھے باغ زندگی کے اسی سے ہی آب و رنگ
اپنی تو فہم میں وہی ہنگام اے نظیرؔ
مجموعۂ حیات کا لب لباب تھا