Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. جو ہو سکتا ہے اس سے وہ کسی سے ہو نہیں سکتامگر دیکھو تو پھر کچھ آدمی سے ہو نہیں سکتاDagh Dehlvi (1831–1905)
  2. چاک‌ ہو پردہ وحشت مجھے منظور نہیںورنہ یہ ہاتھ گریبان سے کچھ دور نہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
  3. چھک گئے ہیں آج اک ساغر سے ہمہاتھ دھو بیٹھے مئے کوثر سے ہمDagh Dehlvi (1831–1905)
  4. چھوڑتا مجھ کو نہ بسمل وہ مگر چھوڑ دیاسر پہ احسان رہے اس لیے سر چھوڑ دیاDagh Dehlvi (1831–1905)
  5. خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیاجھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیاDagh Dehlvi (1831–1905)
  6. خوب ہی چلتی ہوئی وہ نرگس مستانہ ہےآشنا سے آشنا بیگانے سے بیگانہ ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
  7. داغ اس بزم میں میہمان کہاں جاتا ہےتیرا اللہ نگہبان کہاں جاتا ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
  8. دعا مانگے دل غمگیں کہاں تککہوں میں دم بہ دم آمیں کہاں تکDagh Dehlvi (1831–1905)
  9. دل بے تاب مرا وہ نہ پھنسانے پائےدو ہی جھٹکے جو ذرا زلف دوتا نے پائےDagh Dehlvi (1831–1905)
  10. دل پریشان ہوا جاتا ہےاور سامان ہوا جاتا ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
  11. دل چرا کر نظر چرائی ہےلٹ گئے لٹ گئے دہائی ہےDagh Dehlvi (1831–1905)
  12. دل کو کیا ہو گیا خدا جانےکیوں ہے ایسا اداس کیا جانےDagh Dehlvi (1831–1905)
  13. دل گیا تم نے لیا ہم کیا کریںجانے والی چیز کا غم کیا کریںDagh Dehlvi (1831–1905)
  14. دل لے چلا ہے باندھ کے دل بر کے روبروجاتا ہے اک اسیر ستم گر کے روبروDagh Dehlvi (1831–1905)
  15. دل مبتلائے لذت آزار ہی رہامرنا فراق یار میں دشوار ہی رہاDagh Dehlvi (1831–1905)
  16. دل مکدر مدام کا نکلاکب یہ آئینہ کام کا نکلاDagh Dehlvi (1831–1905)
  17. دل میں ہے غم و رنج و الم حرص و ہوا بنددنیا میں مخمس کا ہمارے نہ کھلا بندDagh Dehlvi (1831–1905)
  18. دل ناکام کے ہیں کام خرابکر لیا عاشقی میں نام خرابDagh Dehlvi (1831–1905)
  19. دیر سے کعبے کو ڈرتے ہوئے ہم جاتے ہیںدیکھ لیتا ہے جو کوئی وہیں تھم جاتے ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
  20. دیکھا نہ ہم نے رشک سے اغیار کی طرفمنہ پھیر بیٹھے بزم میں دیوار کی طرفDagh Dehlvi (1831–1905)
  21. دیکھ کر جوبن ترا کس کس کو حیرانی ہوئیاس جوانی پر جوانی آپ دیوانی ہوئیDagh Dehlvi (1831–1905)
  22. ڈرتے ہیں چشم و زلف و نگاہ و ادا سے ہمہر دم پناہ مانگتے ہیں ہر بلا سے ہمDagh Dehlvi (1831–1905)
  23. راہ پر ان کو لگا لائے تو ہیں باتوں میںاور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میںDagh Dehlvi (1831–1905)
  24. رشک سے غیروں کے جی کھوتے ہیں ہمکیا بروں کی جان کو روتے ہیں ہمDagh Dehlvi (1831–1905)
  25. رنج کی جب گفتگو ہونے لگیآپ سے تم تم سے تو ہونے لگیDagh Dehlvi (1831–1905)
  26. زاہد نہ کہہ بری کہ یہ مستانے آدمی ہیںتجھ کو لپٹ پڑیں گے دیوانے آدمی ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
  27. ساز یہ کینہ ساز کیا جانیںناز والے نیاز کیا جانیںDagh Dehlvi (1831–1905)
  28. ساقیا ابر ہے دے جام شتاب ایک پر ایکآج محفل میں گرے مست شراب ایک پر ایکDagh Dehlvi (1831–1905)
  29. سب سے تم اچھے ہو تم سے مری قسمت اچھییہی کم بخت دکھا دیتی ہے صورت اچھیDagh Dehlvi (1831–1905)
  30. سبق ایسا پڑھا دیا تو نےدل سے سب کچھ بھلا دیا تو نےDagh Dehlvi (1831–1905)
  31. سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیںہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
  32. ستم ہی کرنا جفا ہی کرنا نگاہ الفت کبھی نہ کرناتمہیں قسم ہے ہمارے سر کی ہمارے حق میں کمی نہ کرناDagh Dehlvi (1831–1905)
  33. سچ ہے تیری ہی آرزو مجھ کوکہیں جینے دے یوں ہی تو مجھ کوDagh Dehlvi (1831–1905)
  34. سو حسرتیں تو آئیں گیا ایک دل گیاملنا تھا جو مجھے مری قسمت کا مل گیاDagh Dehlvi (1831–1905)
  35. سودا ہے جو دل دے کے خریدار سے الجھےسلجھے ہوئے ہم سے نہ کبھی یار سے الجھےDagh Dehlvi (1831–1905)
  36. سوز و گداز عشق کا لذت چشیدہ ہوںمانند آبلہ ہمہ تن آب دیدہ ہوںDagh Dehlvi (1831–1905)
  37. شب وصل بھی لب پہ آئے گئے ہیںیہ نالے بہت منہ لگائے گئے ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
  38. شب وصل ضد میں بسر ہو گئینہیں ہوتے ہوتے سحر ہو گئیDagh Dehlvi (1831–1905)
  39. شکوہ نہیں کسی کی ملاقات کا مجھےتم جانتے ہو وہم ہے جس بات کا مجھےDagh Dehlvi (1831–1905)
  40. شمع روشن ہے ہماری آہ سےلو لگائے بیٹھے ہیں اللہ سےDagh Dehlvi (1831–1905)
  41. شوق ہے اس کو خود نمائی کااب خدا حافظ اس خدائی کاDagh Dehlvi (1831–1905)
  42. صاف کب امتحان لیتے ہیںوہ تو دم دے کے جان لیتے ہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
  43. طبیعت کوئی دن میں بھر جائے گیچڑھی ہے یہ آندھی اتر جائے گیDagh Dehlvi (1831–1905)
  44. طرز قدسی میں کبھی شیوۂ انساں میں کبھیہم بھی اک چیز تھے اس عالم امکاں میں کبھیDagh Dehlvi (1831–1905)
  45. عاشق کے دل میں اور تری آرزو نہ ہواس باغ کا تو پھول ہو پھر اس میں بو نہ ہوDagh Dehlvi (1831–1905)
  46. عالم یاس میں گھبرائے نہ انسان بہتدل سلامت ہے تو حسرت بہت ارمان بہتDagh Dehlvi (1831–1905)
  47. عجب اپنا حال ہوتا جو وصال یار ہوتاکبھی جان صدقے ہوتی کبھی دل نثار ہوتاDagh Dehlvi (1831–1905)
  48. عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیںباعث ترک ملاقات بتاتے بھی نہیںDagh Dehlvi (1831–1905)
  49. عذر ان کی زبان سے نکلاتیر گویا کمان سے نکلاDagh Dehlvi (1831–1905)
  50. غربت کے رنج فاقہ کشی کے ملال کھینچاے داغؔ پر زمانے سے دست سوال کھینچDagh Dehlvi (1831–1905)