Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. آج کی راتMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  2. دلی سے واپسیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  3. مادامMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  4. شمع رہگزرMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  5. وطن آشوبMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  6. نذر علی گڑھMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  7. آوارہMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  8. ہمارا جھنڈاMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  9. طفلی کے خوابMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  10. لکھنؤMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  11. آجMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  12. سرمایہ داریMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  13. حسن و عشقMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  14. مجھے جانا ہے اک دنMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  15. شکوہ مختصرMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  16. مزدوروں کا گیتMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  17. ساقی (مجاز لکھنوی)Majaz Lakhnawi (1911–1955)
  18. ایک غمگین یادMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  19. مسافرMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  20. خواب سحرMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  21. مجبوریاںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  22. عشرت تنہائیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  23. آج بھیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  24. فکرMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  25. نمائش میںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  26. نوراMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  27. ایک دوست کی خوش مذاقی پرMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  28. گریزMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  29. ادھر بھی آMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  30. عیادتMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  31. ڈبو دی تھی جہاں طوفاں نے کشتیوہاں سب تھے خدا کیا نا خدا کیاMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  32. عشق کا ذوق نظارہ مفت میں بدنام ہےحسن خود بے تاب ہے جلوہ دکھانے کے لیےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  33. وقت کی سعیٔ مسلسل کارگر ہوتی گئیزندگی لحظہ بہ لحظہ مختصر ہوتی گئیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  34. یا تو کسی کو جرأت دیدار ہی نہ ہویا پھر مری نگاہ سے دیکھا کرے کوئیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
  35. آج سے پہلے ترے مستوں کی یہ خواری نہ تھیمے بڑی افراط سے تھی پھر بھی سرشاری نہ تھیAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  36. ایک دیوانے کو اتنا ہی شرف کیا کم ہےزلف و زنجیر سے یک گونہ شغف کیا کم ہےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  37. تو پیمبر سہی یہ معجزہ کافی تو نہیںشاعری زیست کے زخموں کی تلافی تو نہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  38. جبر حالات کا تو نام لیا ہے تم نےاپنے سر بھی کبھی الزام لیا ہے تم نےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  39. جب کبھی بات کسی کی بھی بری لگتی ہےایسا لگتا ہے کہ سینے میں چھری لگتی ہےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  40. جس نے کیے ہیں پھول نچھاور کبھی کبھیآئے ہیں اس کی سمت سے پتھر کبھی کبھیAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  41. خدا پرست ملے اور نہ بت پرست ملےملے جو لوگ وہ اپنے نشے میں مست ملےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  42. خشک کھیتی ہے مگر اس کو ہری کہتے ہیںکم نگاہی کو بھی وہ دیدہ وری کہتے ہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  43. خیال جن کا ہمیں روز و شب ستاتا ہےکبھی انہیں بھی ہمارا خیال آتا ہےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  44. داستان شوق کتنی بار دہرائی گئیسننے والوں میں توجہ کی کمی پائی گئیAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  45. دل دادگان لذت ایجاد کیا کریںسیلاب اشک و آہ پہ بنیاد کیا کریںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  46. زنجیر سے جنوں کی خلش کم نہ ہو سکیبھڑکی اگر یہ آنچ تو مدھم نہ ہو سکیAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  47. سفر طویل سہی حاصل سفر کیا تھاہمارے پاس بجز دولت نظر کیا تھاAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  48. شگفتگیٔ دل ویراں میں آج آ ہی گئیگھٹا چمن پہ بہاروں کو لے کے چھا ہی گئیAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  49. فغان درد میں بھی درد کی خلش ہی نہیںدلوں میں آگ لگی ہے مگر تپش ہی نہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  50. کچھ لوگ تغیر سے ابھی کانپ رہے ہیںہم ساتھ چلے تو ہیں مگر ہانپ رہے ہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)