Poetry
Poet
Meter
- آج کی راتMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- دلی سے واپسیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- مادامMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- شمع رہگزرMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- وطن آشوبMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- نذر علی گڑھMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- آوارہMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- ہمارا جھنڈاMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- طفلی کے خوابMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- لکھنؤMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- آجMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- سرمایہ داریMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- حسن و عشقMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- مجھے جانا ہے اک دنMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- شکوہ مختصرMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- مزدوروں کا گیتMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- ساقی (مجاز لکھنوی)Majaz Lakhnawi (1911–1955)
- ایک غمگین یادMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- مسافرMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- خواب سحرMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- مجبوریاںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- عشرت تنہائیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- آج بھیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- فکرMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- نمائش میںMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- نوراMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- ایک دوست کی خوش مذاقی پرMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- گریزMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- ادھر بھی آMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- عیادتMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- ڈبو دی تھی جہاں طوفاں نے کشتیوہاں سب تھے خدا کیا نا خدا کیاMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- عشق کا ذوق نظارہ مفت میں بدنام ہےحسن خود بے تاب ہے جلوہ دکھانے کے لیےMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- وقت کی سعیٔ مسلسل کارگر ہوتی گئیزندگی لحظہ بہ لحظہ مختصر ہوتی گئیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- یا تو کسی کو جرأت دیدار ہی نہ ہویا پھر مری نگاہ سے دیکھا کرے کوئیMajaz Lakhnawi (1911–1955)
- آج سے پہلے ترے مستوں کی یہ خواری نہ تھیمے بڑی افراط سے تھی پھر بھی سرشاری نہ تھیAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- ایک دیوانے کو اتنا ہی شرف کیا کم ہےزلف و زنجیر سے یک گونہ شغف کیا کم ہےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- تو پیمبر سہی یہ معجزہ کافی تو نہیںشاعری زیست کے زخموں کی تلافی تو نہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- جبر حالات کا تو نام لیا ہے تم نےاپنے سر بھی کبھی الزام لیا ہے تم نےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- جب کبھی بات کسی کی بھی بری لگتی ہےایسا لگتا ہے کہ سینے میں چھری لگتی ہےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- جس نے کیے ہیں پھول نچھاور کبھی کبھیآئے ہیں اس کی سمت سے پتھر کبھی کبھیAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- خدا پرست ملے اور نہ بت پرست ملےملے جو لوگ وہ اپنے نشے میں مست ملےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- خشک کھیتی ہے مگر اس کو ہری کہتے ہیںکم نگاہی کو بھی وہ دیدہ وری کہتے ہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- خیال جن کا ہمیں روز و شب ستاتا ہےکبھی انہیں بھی ہمارا خیال آتا ہےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- داستان شوق کتنی بار دہرائی گئیسننے والوں میں توجہ کی کمی پائی گئیAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- دل دادگان لذت ایجاد کیا کریںسیلاب اشک و آہ پہ بنیاد کیا کریںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- زنجیر سے جنوں کی خلش کم نہ ہو سکیبھڑکی اگر یہ آنچ تو مدھم نہ ہو سکیAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- سفر طویل سہی حاصل سفر کیا تھاہمارے پاس بجز دولت نظر کیا تھاAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- شگفتگیٔ دل ویراں میں آج آ ہی گئیگھٹا چمن پہ بہاروں کو لے کے چھا ہی گئیAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- فغان درد میں بھی درد کی خلش ہی نہیںدلوں میں آگ لگی ہے مگر تپش ہی نہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- کچھ لوگ تغیر سے ابھی کانپ رہے ہیںہم ساتھ چلے تو ہیں مگر ہانپ رہے ہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)