Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. لو اندھیروں نے بھی انداز اجالوں کے لیےکیسی افتاد پڑی دیکھنے والوں کے لیےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  2. لوگ تنہائی کا کس درجہ گلا کرتے ہیںاور فن کار تو تنہا ہی رہا کرتے ہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  3. نوائے شوق میں شورش بھی ہے قرار بھی ہےخرد کا پاس بھی خوابوں کا کاروبار بھی ہےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  4. وہ احتیاط کے موسم بدل گئے کیسےچراغ دل کے اندھیرے میں جل گئے کیسےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  5. وہ جئیں کیا جنہیں جینے کا ہنر بھی نہ ملادشت میں خاک اڑاتے رہے گھر بھی نہ ملاAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  6. ہر اک جنت کے رستے ہو کے دوزخ سے نکلتے ہیںانہیں کا حق ہے پھولوں پر جو انگاروں پہ چلتے ہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  7. ہمارے ہاتھ میں جب کوئی جام آیا ہےتو لب پہ کتنے ہی پیاسوں کا نام آیا ہےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  8. ہم برق و شرر کو کبھی خاطر میں نہ لائےاس فتنۂ دوراں کو مگر دیکھ نہ پائےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  9. ہم نہ اس ٹولی میں تھے یارو نہ اس ٹولی میں تھےنے کسی کی جیب میں تھے نہ کسی جھولی میں تھےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  10. ہمیں تو مے کدے کا یہ نظام اچھا نہیں لگتانہ ہو سب کے لیے گردش میں جام اچھا نہیں لگتاAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  11. یوں جو افتاد پڑے ہم پہ وہ سہہ جاتے ہیںہاں کبھی بات جو کہنے کی ہے کہہ جاتے ہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  12. تین فتنوں کا قصہ پرانا ہواچار فتنوں کا سنیے ذرا ماجراAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  13. گو رات کی جبیں سے سیاہی نہ دھل سکیلیکن مرا چراغ برابر جلا کیاAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  14. میری بیٹی جب بڑی ہو جائے گیسارے گھر میں چاندنی پھیلائے گیAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  15. نمبر ایک بڑا ہی نیککھائے کیک پئے ملک شیکAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  16. یہ نئی پود الحفیظ و الاماںرعد ہے طوفان ہے آتش فشاںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  17. یوں تو بچے اور بھی ہیںلمبے اور چوکور بھی ہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  18. آج پی کر بھی وہی تشنہ لبی ہے ساقیلطف میں تیرے کہیں کوئی کمی ہے ساقیAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  19. ابھی آتے نہیں اس رند کو آداب مے خانہجو اپنی تشنگی کو فیض ساقی کی کمی سمجھےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  20. تمہاری مصلحت اچھی کہ اپنا یہ جنوں بہترسنبھل کر گرنے والو ہم تو گر گر کر سنبھلے ہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  21. ساحل کے سکوں سے کسے انکار ہے لیکنطوفان سے لڑنے میں مزا اور ہی کچھ ہےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  22. کچھ تو ہے ویسے ہی رنگیں لب و رخسار کی باتاور کچھ خون جگر ہم بھی ملا دیتے ہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
  23. آغاز گل ہے شوق مگر تیز ابھی سے ہےیعنی ہوائے باغ جنوں خیز ابھی سے ہےTabish Dehlvi (1911–2004)
  24. ایک جلوہ بصد انداز نظر دیکھ لیاتجھ کو ہی دیکھا کئے تجھ کو اگر دیکھ لیاTabish Dehlvi (1911–2004)
  25. باغ میں جوشِ بہار آخر یہاں تک آ گیابڑھتے بڑھتے شعلہ گُل آشیاں تک آ گیاTabish Dehlvi (1911–2004)
  26. بند غم مشکل سے مشکل تر کھلاہم سے جب کوئی پری پیکر کھلاTabish Dehlvi (1911–2004)
  27. بہت جبین و رخ و لب بہت قد و گیسوطلب ہے شرط سکوں کے ہزار ہا پہلوTabish Dehlvi (1911–2004)
  28. پابندیٔ حدود سے بیگانہ چاہئےداماں بقدر وحشت‌ دیوانہ چاہئےTabish Dehlvi (1911–2004)
  29. تابشؔ ہوس لذت آزار کہاں تکراحت سے یہ غم پھر بھی مرے یار کہاں تکTabish Dehlvi (1911–2004)
  30. ٹوٹ کر عہد تمنا کی طرحمعتبر ہم رہے فردا کی طرحTabish Dehlvi (1911–2004)
  31. دھومیں مچائیں سبزہ روندیں پھولوں کو پامال کریںجوش جنوں کا یہ عالم ہے اب کیا اپنا حال کریںTabish Dehlvi (1911–2004)
  32. دیکھیے اہل محبت ہمیں کیا دیتے ہیںکوچۂ یار میں ہم کب سے صدا دیتے ہیںTabish Dehlvi (1911–2004)
  33. زیر لب رہا نالہ درد کی دوا ہو کرآہ نے سکوں بخشا آہ نارسا ہو کرTabish Dehlvi (1911–2004)
  34. سب غم کہیں جسے کہ تمنا کہیں جسےوہ اضطراب شوق ہے ہم کیا کہیں جسےTabish Dehlvi (1911–2004)
  35. سب نے مجھ ہی کو در بدر دیکھابے گھری نے مرا ہی گھر دیکھاTabish Dehlvi (1911–2004)
  36. سوز پرور نگاہ رکھتے ہیںہم نظر میں بھی آہ رکھتے ہیںTabish Dehlvi (1911–2004)
  37. شرمندہ ہم جنوں سے ہیں ایک ایک تار کےکیا کیجیئے کہ دن ہیں ابھی تک بہار کےTabish Dehlvi (1911–2004)
  38. عذاب ٹوٹے دلوں کو ہر اک نفس گزراشکستہ پا تھے گراں مژدۂ جرس گزراTabish Dehlvi (1911–2004)
  39. کسی مسکین کا گھر کھلتا ہےیا کوئی زخم نظر کھلتا ہےTabish Dehlvi (1911–2004)
  40. منزلوں کو نظر میں رکھا ہےجب قدم رہ گزر میں رکھا ہےTabish Dehlvi (1911–2004)
  41. مہ و پرویں تہ کمند رہےکن فضاؤں میں ہم بلند رہےTabish Dehlvi (1911–2004)
  42. نفس کی زد پہ ہر اک شعلۂ تمنا ہےہوا کے سامنے کس کا چراغ جلتا ہےTabish Dehlvi (1911–2004)
  43. ہمہ تن گوش اک زمانہ تھامیرے لب پر ترا فسانہ تھاTabish Dehlvi (1911–2004)
  44. یوں نقاب رخ مقابل سے اٹھیچشم صد نظارہ مشکل سے اٹھیTabish Dehlvi (1911–2004)
  45. آئینہ جب بھی رو بہ رو آیااپنا چہرہ چھپا لیا ہم نےTabish Dehlvi (1911–2004)
  46. ذرے میں گم ہزار صحراقطرے میں محیط لاکھ قلزمTabish Dehlvi (1911–2004)
  47. شاہوں کی بندگی میں سر بھی نہیں جھکایاتیرے لیے سراپا آداب ہو گئے ہمTabish Dehlvi (1911–2004)
  48. اٹھ از سر نو دہر کے حالات بدل ڈالتدبیر سے تقدیر کے دن رات بدل ڈالFaiz Ludhianvi (1911–1995)
  49. اس میں کیا شک ہے تجارت بادشاہی کاج ہےغور کر کے دیکھ لو تاجر کے سر پر تاج ہےFaiz Ludhianvi (1911–1995)
  50. اے کہ تو غفلت میں ہے ڈوبا ہواکام کرنا سیکھ تجھ کو کیا ہواFaiz Ludhianvi (1911–1995)