Poetry
Poet
Meter
- لو اندھیروں نے بھی انداز اجالوں کے لیےکیسی افتاد پڑی دیکھنے والوں کے لیےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- لوگ تنہائی کا کس درجہ گلا کرتے ہیںاور فن کار تو تنہا ہی رہا کرتے ہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- نوائے شوق میں شورش بھی ہے قرار بھی ہےخرد کا پاس بھی خوابوں کا کاروبار بھی ہےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- وہ احتیاط کے موسم بدل گئے کیسےچراغ دل کے اندھیرے میں جل گئے کیسےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- وہ جئیں کیا جنہیں جینے کا ہنر بھی نہ ملادشت میں خاک اڑاتے رہے گھر بھی نہ ملاAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- ہر اک جنت کے رستے ہو کے دوزخ سے نکلتے ہیںانہیں کا حق ہے پھولوں پر جو انگاروں پہ چلتے ہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- ہمارے ہاتھ میں جب کوئی جام آیا ہےتو لب پہ کتنے ہی پیاسوں کا نام آیا ہےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- ہم برق و شرر کو کبھی خاطر میں نہ لائےاس فتنۂ دوراں کو مگر دیکھ نہ پائےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- ہم نہ اس ٹولی میں تھے یارو نہ اس ٹولی میں تھےنے کسی کی جیب میں تھے نہ کسی جھولی میں تھےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- ہمیں تو مے کدے کا یہ نظام اچھا نہیں لگتانہ ہو سب کے لیے گردش میں جام اچھا نہیں لگتاAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- یوں جو افتاد پڑے ہم پہ وہ سہہ جاتے ہیںہاں کبھی بات جو کہنے کی ہے کہہ جاتے ہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- تین فتنوں کا قصہ پرانا ہواچار فتنوں کا سنیے ذرا ماجراAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- گو رات کی جبیں سے سیاہی نہ دھل سکیلیکن مرا چراغ برابر جلا کیاAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- میری بیٹی جب بڑی ہو جائے گیسارے گھر میں چاندنی پھیلائے گیAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- نمبر ایک بڑا ہی نیککھائے کیک پئے ملک شیکAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- یہ نئی پود الحفیظ و الاماںرعد ہے طوفان ہے آتش فشاںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- یوں تو بچے اور بھی ہیںلمبے اور چوکور بھی ہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- آج پی کر بھی وہی تشنہ لبی ہے ساقیلطف میں تیرے کہیں کوئی کمی ہے ساقیAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- ابھی آتے نہیں اس رند کو آداب مے خانہجو اپنی تشنگی کو فیض ساقی کی کمی سمجھےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- تمہاری مصلحت اچھی کہ اپنا یہ جنوں بہترسنبھل کر گرنے والو ہم تو گر گر کر سنبھلے ہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- ساحل کے سکوں سے کسے انکار ہے لیکنطوفان سے لڑنے میں مزا اور ہی کچھ ہےAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- کچھ تو ہے ویسے ہی رنگیں لب و رخسار کی باتاور کچھ خون جگر ہم بھی ملا دیتے ہیںAale Ahmad Suroor (1911–2002)
- آغاز گل ہے شوق مگر تیز ابھی سے ہےیعنی ہوائے باغ جنوں خیز ابھی سے ہےTabish Dehlvi (1911–2004)
- ایک جلوہ بصد انداز نظر دیکھ لیاتجھ کو ہی دیکھا کئے تجھ کو اگر دیکھ لیاTabish Dehlvi (1911–2004)
- باغ میں جوشِ بہار آخر یہاں تک آ گیابڑھتے بڑھتے شعلہ گُل آشیاں تک آ گیاTabish Dehlvi (1911–2004)
- بند غم مشکل سے مشکل تر کھلاہم سے جب کوئی پری پیکر کھلاTabish Dehlvi (1911–2004)
- بہت جبین و رخ و لب بہت قد و گیسوطلب ہے شرط سکوں کے ہزار ہا پہلوTabish Dehlvi (1911–2004)
- پابندیٔ حدود سے بیگانہ چاہئےداماں بقدر وحشت دیوانہ چاہئےTabish Dehlvi (1911–2004)
- تابشؔ ہوس لذت آزار کہاں تکراحت سے یہ غم پھر بھی مرے یار کہاں تکTabish Dehlvi (1911–2004)
- ٹوٹ کر عہد تمنا کی طرحمعتبر ہم رہے فردا کی طرحTabish Dehlvi (1911–2004)
- دھومیں مچائیں سبزہ روندیں پھولوں کو پامال کریںجوش جنوں کا یہ عالم ہے اب کیا اپنا حال کریںTabish Dehlvi (1911–2004)
- دیکھیے اہل محبت ہمیں کیا دیتے ہیںکوچۂ یار میں ہم کب سے صدا دیتے ہیںTabish Dehlvi (1911–2004)
- زیر لب رہا نالہ درد کی دوا ہو کرآہ نے سکوں بخشا آہ نارسا ہو کرTabish Dehlvi (1911–2004)
- سب غم کہیں جسے کہ تمنا کہیں جسےوہ اضطراب شوق ہے ہم کیا کہیں جسےTabish Dehlvi (1911–2004)
- سب نے مجھ ہی کو در بدر دیکھابے گھری نے مرا ہی گھر دیکھاTabish Dehlvi (1911–2004)
- سوز پرور نگاہ رکھتے ہیںہم نظر میں بھی آہ رکھتے ہیںTabish Dehlvi (1911–2004)
- شرمندہ ہم جنوں سے ہیں ایک ایک تار کےکیا کیجیئے کہ دن ہیں ابھی تک بہار کےTabish Dehlvi (1911–2004)
- عذاب ٹوٹے دلوں کو ہر اک نفس گزراشکستہ پا تھے گراں مژدۂ جرس گزراTabish Dehlvi (1911–2004)
- کسی مسکین کا گھر کھلتا ہےیا کوئی زخم نظر کھلتا ہےTabish Dehlvi (1911–2004)
- منزلوں کو نظر میں رکھا ہےجب قدم رہ گزر میں رکھا ہےTabish Dehlvi (1911–2004)
- مہ و پرویں تہ کمند رہےکن فضاؤں میں ہم بلند رہےTabish Dehlvi (1911–2004)
- نفس کی زد پہ ہر اک شعلۂ تمنا ہےہوا کے سامنے کس کا چراغ جلتا ہےTabish Dehlvi (1911–2004)
- ہمہ تن گوش اک زمانہ تھامیرے لب پر ترا فسانہ تھاTabish Dehlvi (1911–2004)
- یوں نقاب رخ مقابل سے اٹھیچشم صد نظارہ مشکل سے اٹھیTabish Dehlvi (1911–2004)
- آئینہ جب بھی رو بہ رو آیااپنا چہرہ چھپا لیا ہم نےTabish Dehlvi (1911–2004)
- ذرے میں گم ہزار صحراقطرے میں محیط لاکھ قلزمTabish Dehlvi (1911–2004)
- شاہوں کی بندگی میں سر بھی نہیں جھکایاتیرے لیے سراپا آداب ہو گئے ہمTabish Dehlvi (1911–2004)
- اٹھ از سر نو دہر کے حالات بدل ڈالتدبیر سے تقدیر کے دن رات بدل ڈالFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- اس میں کیا شک ہے تجارت بادشاہی کاج ہےغور کر کے دیکھ لو تاجر کے سر پر تاج ہےFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- اے کہ تو غفلت میں ہے ڈوبا ہواکام کرنا سیکھ تجھ کو کیا ہواFaiz Ludhianvi (1911–1995)