Poetry
Poet
Meter
- شوق دیتا ہے مجھے پیغام عشقہاتھ میں لبریز لے کر جام عشقWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- شوق نے عشرت کا ساماں کر دیادل کو محو روئے جاناں کر دیاWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- ضبط کی کوشش ہے جان ناتواں مشکل میں ہےکیوں عیاں ہو آنکھ سے وہ غم جو پنہاں دل میں ہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- کسی صورت سے اس محفل میں جا کرمقدر ہم بھی دیکھیں آزما کرWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- کسی طرح دن تو کٹ رہے ہیں فریب امید کھا رہا ہوںہزارہا نقش آرزو کے بنا رہا ہوں مٹا رہا ہوںWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- کہتے ہو اب مرے مظلوم پہ بیداد نہ ہوستم ایجاد ہو پھر کیوں ستم ایجاد نہ ہوWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- کیا ہے کہ آج چلتے ہو کترا کے راہ سےدیکھو ادھر نگاہ ملا کر نگاہ سےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- لطف نہاں سے جب جب وہ مسکرا دئیے ہیںمیں نے بھی زخم دل کے ان کو دکھا دئیے ہیںWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- لگاؤ نہ جب دل تو پھر کیوں لگاوٹنہیں مجھ کو بھاتی تمہاری بناوٹWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- لوٹا ہے مجھے اس کی ہر ادا نےانداز نے ناز نے حیا نےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- مروت کا پاس اور وفا کا لحاظکرے آشنا آشنا کا لحاظWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- میں نے مانا کام ہے نالہ دل ناشاد کاہے تغافل شیوہ آخر کس ستم ایجاد کاWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- نالوں سے اگر میں نے کبھی کام لیا ہےخود ہی اثر نالہ سے دل تھام لیا ہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- نہیں کہ عشق نہیں ہے گل و سمن سے مجھےدل فسردہ لیے جاتا ہے چمن سے مجھےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- نہیں ممکن لب عاشق سے حرف مدعا نکلےجسے تم نے کیا خاموش اس سے کیا صدا نکلےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- وحشتؔ مبتلا خدا کے لیےجان دیتا ہے کیوں وفا کے لیےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- وفائے دوستاں کیسی جفائے دشمناں کیسینہ پوچھا ہو کسی نے جس کو اس کی داستاں کیسیWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- ہوئے ہیں گم جس کی جستجو میں اسی کی ہم جستجو کریں گےرکھا ہے محروم جس نے ہم کو اسی کی ہم آرزو کریں گےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- یہاں ہر آنے والا بن کے عبرت کا نشاں آیاگیا زیر زمیں جو کوئی زیر آسماں آیاWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- یہی ہے عشق کی مشکل تو مشکل آساں ہےملا ہے درد وہ دل کو جو راحت جاں ہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- بے سمجھے نہ جام غم پیا تھا میں نےیہ کام تو جان کر کیا تھا میں نےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- کیوں غمزۂ جاں ستاں کو خنجر نہ کہیںکیوں عشوۂ دل نشیں کو نشتر نہ کہیںWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- مجھ سے جو نہ ملتے وہ کوئی رات نہ تھیمجھ سے جو نہ کہتے وہ کوئی بات نہ تھیWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- آپ اپنا روئے زیبا دیکھیےیا مجھے محو تماشا دیکھیےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- اور عشرت کی تمنا کیا کریںسامنے تو ہو تجھے دیکھا کریںWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- تلخی کش نومیدئ دیدار بہت ہیںاس نرگس بیمار کے بیمار بہت ہیںWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- دل کے کہنے پہ چلوں عقل کا کہنا نہ کروںمیں اسی سوچ میں ہوں کیا کروں اور کیا نہ کروںWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- کس نام مبارک نے مزہ منہ کو دیا ہےکیوں لب پہ مرے زمزمۂ صل علیٰ ہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- لبریز حقیقت گو افسانۂ موسیٰ ہےاے حسن حجاب آرا کس نے تجھے دیکھا ہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- آ کہ ہستی بے لب و بے گوش ہے تیرے بغیرکائنات اک محشر خاموش ہے تیرے بغیرSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- آنکھ سے ٹپکا جو آنسو وہ ستارا ہو گیامیرا دامن آج دامان ثریا ہو گیاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- آؤ پھر گرمی دیار عشق میں پیدا کریںطور کی مٹی سے تخلیق ید بیضا کریںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- اب اے بے درد کیا اس کے لئے ارشاد ہوتا ہےپھر اپنی خاک سے پیدا دل برباد ہوتا ہےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- اجازت دے کہ اپنی داستان غم بیاں کر لیںترے احساس اور اپنی زباں کا امتحاں کر لیںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- ادراک خود آشنا نہیں ہےورنہ انساں میں کیا نہیں ہےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- افسوس گزر گئی جوانیوہ لمحۂ کیف و شادمانیSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- بدن سے روح رخصت ہو رہی ہےمکمل قید غربت ہو رہی ہےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- بڑی دلچسپیوں سے صبح شام زندگی ہوگیمیں دیکھوں گا انہیں اور ساری دنیا دیکھتی ہوگیSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- بقدر شوق اقرار وفا کیاہمارے شوق کی ہے انتہا کیاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- جاگ اور دیکھ ذرا عالم ویراں میراصبح کے بھیس میں نکلا ہے گریباں میراSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- جب تک غم الفت کا عنصر نہ ملا ہوگاانسان کے پہلو میں دل بن نہ سکا ہوگاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- جرس ہے کاروان اہل عالم میں فغاں میریجگا دیتی ہے دنیا کو صدائے الاماں میریSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- جس جگہ جمع ترے خاک نشیں ہوتے ہیںغالباً سب میں نمودار ہمیں ہوتے ہیںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- جو انساں باریاب پردۂ اسرار ہو جائےتو اس باطل کدے میں زندگی دشوار ہو جائےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- جو سالک ہے تو اپنے نفس کا عرفان پیدا کرحقیقت تیری کیا ہے پہلے یہ پہچان پیدا کرSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- جو عمر تیری طلب میں گنوائے جاتے ہیںکچھ ایسے لوگ بھی دنیا میں پائے جاتے ہیںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- جو میرے تنگنائے دل میں تجھ کو جلوہ گر دیکھامری نظروں نے حیرت سے مجھی کو عمر بھر دیکھاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- جہان رنگ و بو میں مستقل تخلیق مستی ہےچمن میں رات بھر بنتی ہے اور دن بھر برستی ہےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- چمک جگنو کی برق بے اماں معلوم ہوتی ہےقفس میں رہ کے قدر آشیاں معلوم ہوتی ہےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- چھپاتا ہوں مگر چھپتا نہیں درد نہاں پھر بھینگاہ یاس ہو جاتی ہے دل کی ترجماں پھر بھیSeemab Akbarabadi (1882–1951)