Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. شوق دیتا ہے مجھے پیغام عشقہاتھ میں لبریز لے کر جام عشقWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  2. شوق نے عشرت کا ساماں کر دیادل کو محو روئے جاناں کر دیاWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  3. ضبط کی کوشش ہے جان ناتواں مشکل میں ہےکیوں عیاں ہو آنکھ سے وہ غم جو پنہاں دل میں ہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  4. کسی صورت سے اس محفل میں جا کرمقدر ہم بھی دیکھیں آزما کرWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  5. کسی طرح دن تو کٹ رہے ہیں فریب امید کھا رہا ہوںہزارہا نقش آرزو کے بنا رہا ہوں مٹا رہا ہوںWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  6. کہتے ہو اب مرے مظلوم پہ بیداد نہ ہوستم ایجاد ہو پھر کیوں ستم ایجاد نہ ہوWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  7. کیا ہے کہ آج چلتے ہو کترا کے راہ سےدیکھو ادھر نگاہ ملا کر نگاہ سےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  8. لطف نہاں سے جب جب وہ مسکرا دئیے ہیںمیں نے بھی زخم دل کے ان کو دکھا دئیے ہیںWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  9. لگاؤ نہ جب دل تو پھر کیوں لگاوٹنہیں مجھ کو بھاتی تمہاری بناوٹWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  10. لوٹا ہے مجھے اس کی ہر ادا نےانداز نے ناز نے حیا نےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  11. مروت کا پاس اور وفا کا لحاظکرے آشنا آشنا کا لحاظWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  12. میں نے مانا کام ہے نالہ دل ناشاد کاہے تغافل شیوہ آخر کس ستم ایجاد کاWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  13. نالوں سے اگر میں نے کبھی کام لیا ہےخود ہی اثر نالہ سے دل تھام لیا ہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  14. نہیں کہ عشق نہیں ہے گل و سمن سے مجھےدل فسردہ لیے جاتا ہے چمن سے مجھےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  15. نہیں ممکن لب عاشق سے حرف مدعا نکلےجسے تم نے کیا خاموش اس سے کیا صدا نکلےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  16. وحشتؔ مبتلا خدا کے لیےجان دیتا ہے کیوں وفا کے لیےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  17. وفائے دوستاں کیسی جفائے دشمناں کیسینہ پوچھا ہو کسی نے جس کو اس کی داستاں کیسیWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  18. ہوئے ہیں گم جس کی جستجو میں اسی کی ہم جستجو کریں گےرکھا ہے محروم جس نے ہم کو اسی کی ہم آرزو کریں گےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  19. یہاں ہر آنے والا بن کے عبرت کا نشاں آیاگیا زیر زمیں جو کوئی زیر آسماں آیاWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  20. یہی ہے عشق کی مشکل تو مشکل آساں ہےملا ہے درد وہ دل کو جو راحت جاں ہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  21. بے سمجھے نہ جام غم پیا تھا میں نےیہ کام تو جان کر کیا تھا میں نےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  22. کیوں غمزۂ جاں ستاں کو خنجر نہ کہیںکیوں عشوۂ دل نشیں کو نشتر نہ کہیںWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  23. مجھ سے جو نہ ملتے وہ کوئی رات نہ تھیمجھ سے جو نہ کہتے وہ کوئی بات نہ تھیWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  24. آپ اپنا روئے زیبا دیکھیےیا مجھے محو تماشا دیکھیےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  25. اور عشرت کی تمنا کیا کریںسامنے تو ہو تجھے دیکھا کریںWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  26. تلخی کش نومیدئ دیدار بہت ہیںاس نرگس بیمار کے بیمار بہت ہیںWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  27. دل کے کہنے پہ چلوں عقل کا کہنا نہ کروںمیں اسی سوچ میں ہوں کیا کروں اور کیا نہ کروںWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  28. کس نام مبارک نے مزہ منہ کو دیا ہےکیوں لب پہ مرے زمزمۂ صل علیٰ ہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  29. لبریز حقیقت گو افسانۂ موسیٰ ہےاے حسن حجاب آرا کس نے تجھے دیکھا ہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  30. آ کہ ہستی بے لب و بے گوش ہے تیرے بغیرکائنات اک محشر خاموش ہے تیرے بغیرSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  31. آنکھ سے ٹپکا جو آنسو وہ ستارا ہو گیامیرا دامن آج دامان ثریا ہو گیاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  32. آؤ پھر گرمی دیار عشق میں پیدا کریںطور کی مٹی سے تخلیق ید بیضا کریںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  33. اب اے بے درد کیا اس کے لئے ارشاد ہوتا ہےپھر اپنی خاک سے پیدا دل برباد ہوتا ہےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  34. اجازت دے کہ اپنی داستان غم بیاں کر لیںترے احساس اور اپنی زباں کا امتحاں کر لیںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  35. ادراک خود آشنا نہیں ہےورنہ انساں میں کیا نہیں ہےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  36. افسوس گزر گئی جوانیوہ لمحۂ کیف و شادمانیSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  37. بدن سے روح رخصت ہو رہی ہےمکمل قید غربت ہو رہی ہےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  38. بڑی دلچسپیوں سے صبح شام زندگی ہوگیمیں دیکھوں گا انہیں اور ساری دنیا دیکھتی ہوگیSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  39. بقدر شوق اقرار وفا کیاہمارے شوق کی ہے انتہا کیاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  40. جاگ اور دیکھ ذرا عالم ویراں میراصبح کے بھیس میں نکلا ہے گریباں میراSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  41. جب تک غم الفت کا عنصر نہ ملا ہوگاانسان کے پہلو میں دل بن نہ سکا ہوگاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  42. جرس ہے کاروان اہل عالم میں فغاں میریجگا دیتی ہے دنیا کو صدائے الاماں میریSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  43. جس جگہ جمع ترے خاک نشیں ہوتے ہیںغالباً سب میں نمودار ہمیں ہوتے ہیںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  44. جو انساں باریاب پردۂ اسرار ہو جائےتو اس باطل کدے میں زندگی دشوار ہو جائےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  45. جو سالک ہے تو اپنے نفس کا عرفان پیدا کرحقیقت تیری کیا ہے پہلے یہ پہچان پیدا کرSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  46. جو عمر تیری طلب میں گنوائے جاتے ہیںکچھ ایسے لوگ بھی دنیا میں پائے جاتے ہیںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  47. جو میرے تنگنائے دل میں تجھ کو جلوہ گر دیکھامری نظروں نے حیرت سے مجھی کو عمر بھر دیکھاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  48. جہان رنگ و بو میں مستقل تخلیق مستی ہےچمن میں رات بھر بنتی ہے اور دن بھر برستی ہےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  49. چمک جگنو کی برق بے اماں معلوم ہوتی ہےقفس میں رہ کے قدر آشیاں معلوم ہوتی ہےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  50. چھپاتا ہوں مگر چھپتا نہیں درد نہاں پھر بھینگاہ یاس ہو جاتی ہے دل کی ترجماں پھر بھیSeemab Akbarabadi (1882–1951)