Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. دیکھیے پار ہو کس طرح سے بیڑا اپنامجھ کو طوفاں کی خبر دیدۂ تر دیتے ہیںAagha Akbarabadi (b. 1879)
  2. زاہدو کعبہ کی جانب کھینچتے ہو کیوں مجھےجی نہیں لگتا کبھی مزدور کا بیگار میںAagha Akbarabadi (b. 1879)
  3. صنم پرستی کروں ترک کیوں کر اے واعظبتوں کا ذکر خدا کی کتاب میں دیکھاAagha Akbarabadi (b. 1879)
  4. طواف کعبہ کو کیا جائیں حج نہیں واجبکلال خانہ کے کچھ دین دار ہم بھی ہیںAagha Akbarabadi (b. 1879)
  5. کچھ ایسی پلا دے مجھے اے پیر مغاں آجقینچی کی طرح چلنے لگی میری زباں آجAagha Akbarabadi (b. 1879)
  6. مے کشو دیر ہے کیا دور چلے بسم اللہآئی ہے شیشہ و ساغر کی طلب گار گھٹاAagha Akbarabadi (b. 1879)
  7. ہاتھ دونوں مری گردن میں حمائل کیجےاور غیروں کو دکھا دیجے انگوٹھا اپناAagha Akbarabadi (b. 1879)
  8. ہمیں تو ان کی محبت ہے کوئی کچھ سمجھےہمارے ساتھ محبت انہیں نہیں تو نہیںAagha Akbarabadi (b. 1879)
  9. طریق عشق میں دیکھا ہے کیا کہیں کیوں کرہماری آنکھ کھلی ہے مقام حیرت میںKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  10. عرصۂ ہر دو جہاں عالم تنہائی ہےکہ جدھر دیکھیے تو ہے تری یکتائی ہےKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  11. گنجائش کلام کہاں خیر و شر میں ہےجب تم بشر میں ہو تو سبھی کچھ بشر میں ہےKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  12. نثار اس پر نہ ہونے سے نہ تنگ آیا نہ عار آئیمرے کس کام آخر زندگئ مستعار آئیKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  13. وہ امنگیں ہیں نہ وہ دل ہے نہ اب وہ جوش ہےحسن بار چشم ہے نغمہ وبال گوش ہےKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  14. ہر طور ہر طرح کی جو ذلت مجھی کو ہےدنیا میں کیا کسی سے محبت مجھی کو ہےKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  15. گندی لڑکیKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  16. صاف لڑکیKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  17. اپنا خط آپ دیا ان کو مگر یہ کہہ کرخط تو پہچانئے یہ خط مجھے گمنام ملاKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  18. اور بھی تو ہیں زمانے میں تمہارے عاشقایک میں ہی تمہیں کیا قابل الزام ملاKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  19. خم سبو ساغر صراحی جام پیمانہ مرامیرے ساقی جب مرا تو ہے تو مے خانہ مراKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  20. دل لینے کے انداز بھی کچھ سیکھ گیا ہوںصحبت میں حسینوں کی بہت روز رہا ہوںKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  21. رقیب دونوں جہاں میں ذلیل کیوں ہوتاکسی کے بیچ میں کمبخت اگر نہیں آتاKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  22. صبح کو کھل جائے گا دونوں میں کیا یارانہ ہےشمع پروانہ کی ہے یا شمع کا پروانہ ہےKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  23. محبت میں کیا کیا نہ کچھ جور ہوگاابھی کیا ہوا ہے ابھی اور ہوگاKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  24. مزا ہے ترے بسملوں کو تڑپ میںتڑپ میں نہیں بسملوں میں مزا ہےKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  25. وہ اب کیا خاک آئے ہائے قسمت میں ترسنا تھاتجھے اے ابر رحمت آج ہی اتنا برسنا تھاKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  26. وہی نظر میں ہے لیکن نظر نہیں آتاسمجھ رہا ہوں سمجھ میں مگر نہیں آتاKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  27. ہم آپ کو دیکھتے تھے پہلےاب آپ کی راہ دیکھتے ہیںKaifi Hyderabadi (1880–1920)
  28. آزاد اس سے ہیں کہ بیاباں ہی کیوں نہ ہوپھاڑیں گے جیب گوشۂ زنداں ہی کیوں نہ ہوWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  29. آنکھ میں جلوہ ترا دل میں تری یاد رہےیہ میسر ہو تو پھر کیوں کوئی ناشاد رہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  30. آہ شب نالۂ سحر لے کرنکلے ہم توشۂ سفر لے کرWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  31. آئینۂ خیال تھا عکس پذیر راز کاطور شہید ہو گیا جلوۂ دل نواز کاWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  32. اے اہل وفا خاک بنے کام تمہاراآغاز بتا دیتا ہے انجام تمہاراWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  33. بہار آئی ہے آرائش چمن کے لیےمری بھی طبع کو تحریک ہے سخن کے لیےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  34. پوشیدہ دیکھتی ہے کسی کی نظر مجھےدیکھ اے نگاہ شوق تو رسوا نہ کر مجھےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  35. پیمان وفائے یار ہیں ہمیعنی ناپائیدار ہیں ہمWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  36. ترے آشفتہ سے کیا حال بیتابی بیاں ہوگاجبین شوق ہوگی اور تیرا آستاں ہوگاWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  37. تو ہے اور عیش ہے اور انجمن آرائی ہےمیں ہوں اور رنج ہے اور گوشۂ تنہائی ہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  38. تیر نظر نے ظلم کو احساں بنا دیاترکیب دل نے درد کو درماں بنا دیاWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  39. جان اس کی اداؤں پر نکلتی ہی رہے گییہ چھیڑ جو چلتی ہے سو چلتی ہی رہے گیWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  40. جدا کریں گے نہ ہم دل سے حسرت دل کوعزیز کیوں نہ رکھیں زندگی کے حاصل کوWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  41. جو تجھ سے شور تبسم ذرا کمی ہوگیہمارے زخم جگر کی بڑی ہنسی ہوگیWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  42. چلا جاتا ہے کاروان نفسنہ بانگ درا ہے نہ صوت جرسWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  43. درد آ کے بڑھا دو دل کا تم یہ کام تمہیں کیا مشکل ہےبیمار بنانا آساں ہے ہر چند مداوا مشکل ہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  44. درد کا میرے یقیں آپ کریں یا نہ کریںعرض اتنی ہے کہ اس راز کا چرچا نہ کریںWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  45. دیکھنا وہ گریۂ حسرت مآل آ ہی گیابیکسی میں کوئی تو پرسان حال آ ہی گیاWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  46. زمیں روئی ہمارے حال پر اور آسماں رویاہماری بیکسی کو دیکھ کر سارا جہاں رویاWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  47. سرور افزا ہوئی آخر شراب آہستہ آہستہہوا وہ بزم مے میں بے حجاب آہستہ آہستہWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  48. سنگ طفلاں فدائے سر نہ ہواآج اس کوچے میں گزر نہ ہواWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  49. شرمندہ کیا جوہر بالغ نظری نےاس جنس کو بازار میں پوچھا نہ کسی نےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
  50. شوق پھر کوچۂ جاناں کا ستاتا ہے مجھےمیں کہاں جاتا ہوں کوئی لیے جاتا ہے مجھےWahshat Kalkatvi (1881–1956)