Poetry
Poet
Meter
- دیکھیے پار ہو کس طرح سے بیڑا اپنامجھ کو طوفاں کی خبر دیدۂ تر دیتے ہیںAagha Akbarabadi (b. 1879)
- زاہدو کعبہ کی جانب کھینچتے ہو کیوں مجھےجی نہیں لگتا کبھی مزدور کا بیگار میںAagha Akbarabadi (b. 1879)
- صنم پرستی کروں ترک کیوں کر اے واعظبتوں کا ذکر خدا کی کتاب میں دیکھاAagha Akbarabadi (b. 1879)
- طواف کعبہ کو کیا جائیں حج نہیں واجبکلال خانہ کے کچھ دین دار ہم بھی ہیںAagha Akbarabadi (b. 1879)
- کچھ ایسی پلا دے مجھے اے پیر مغاں آجقینچی کی طرح چلنے لگی میری زباں آجAagha Akbarabadi (b. 1879)
- مے کشو دیر ہے کیا دور چلے بسم اللہآئی ہے شیشہ و ساغر کی طلب گار گھٹاAagha Akbarabadi (b. 1879)
- ہاتھ دونوں مری گردن میں حمائل کیجےاور غیروں کو دکھا دیجے انگوٹھا اپناAagha Akbarabadi (b. 1879)
- ہمیں تو ان کی محبت ہے کوئی کچھ سمجھےہمارے ساتھ محبت انہیں نہیں تو نہیںAagha Akbarabadi (b. 1879)
- طریق عشق میں دیکھا ہے کیا کہیں کیوں کرہماری آنکھ کھلی ہے مقام حیرت میںKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- عرصۂ ہر دو جہاں عالم تنہائی ہےکہ جدھر دیکھیے تو ہے تری یکتائی ہےKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- گنجائش کلام کہاں خیر و شر میں ہےجب تم بشر میں ہو تو سبھی کچھ بشر میں ہےKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- نثار اس پر نہ ہونے سے نہ تنگ آیا نہ عار آئیمرے کس کام آخر زندگئ مستعار آئیKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- وہ امنگیں ہیں نہ وہ دل ہے نہ اب وہ جوش ہےحسن بار چشم ہے نغمہ وبال گوش ہےKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- ہر طور ہر طرح کی جو ذلت مجھی کو ہےدنیا میں کیا کسی سے محبت مجھی کو ہےKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- گندی لڑکیKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- صاف لڑکیKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- اپنا خط آپ دیا ان کو مگر یہ کہہ کرخط تو پہچانئے یہ خط مجھے گمنام ملاKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- اور بھی تو ہیں زمانے میں تمہارے عاشقایک میں ہی تمہیں کیا قابل الزام ملاKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- خم سبو ساغر صراحی جام پیمانہ مرامیرے ساقی جب مرا تو ہے تو مے خانہ مراKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- دل لینے کے انداز بھی کچھ سیکھ گیا ہوںصحبت میں حسینوں کی بہت روز رہا ہوںKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- رقیب دونوں جہاں میں ذلیل کیوں ہوتاکسی کے بیچ میں کمبخت اگر نہیں آتاKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- صبح کو کھل جائے گا دونوں میں کیا یارانہ ہےشمع پروانہ کی ہے یا شمع کا پروانہ ہےKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- محبت میں کیا کیا نہ کچھ جور ہوگاابھی کیا ہوا ہے ابھی اور ہوگاKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- مزا ہے ترے بسملوں کو تڑپ میںتڑپ میں نہیں بسملوں میں مزا ہےKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- وہ اب کیا خاک آئے ہائے قسمت میں ترسنا تھاتجھے اے ابر رحمت آج ہی اتنا برسنا تھاKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- وہی نظر میں ہے لیکن نظر نہیں آتاسمجھ رہا ہوں سمجھ میں مگر نہیں آتاKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- ہم آپ کو دیکھتے تھے پہلےاب آپ کی راہ دیکھتے ہیںKaifi Hyderabadi (1880–1920)
- آزاد اس سے ہیں کہ بیاباں ہی کیوں نہ ہوپھاڑیں گے جیب گوشۂ زنداں ہی کیوں نہ ہوWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- آنکھ میں جلوہ ترا دل میں تری یاد رہےیہ میسر ہو تو پھر کیوں کوئی ناشاد رہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- آہ شب نالۂ سحر لے کرنکلے ہم توشۂ سفر لے کرWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- آئینۂ خیال تھا عکس پذیر راز کاطور شہید ہو گیا جلوۂ دل نواز کاWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- اے اہل وفا خاک بنے کام تمہاراآغاز بتا دیتا ہے انجام تمہاراWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- بہار آئی ہے آرائش چمن کے لیےمری بھی طبع کو تحریک ہے سخن کے لیےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- پوشیدہ دیکھتی ہے کسی کی نظر مجھےدیکھ اے نگاہ شوق تو رسوا نہ کر مجھےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- پیمان وفائے یار ہیں ہمیعنی ناپائیدار ہیں ہمWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- ترے آشفتہ سے کیا حال بیتابی بیاں ہوگاجبین شوق ہوگی اور تیرا آستاں ہوگاWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- تو ہے اور عیش ہے اور انجمن آرائی ہےمیں ہوں اور رنج ہے اور گوشۂ تنہائی ہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- تیر نظر نے ظلم کو احساں بنا دیاترکیب دل نے درد کو درماں بنا دیاWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- جان اس کی اداؤں پر نکلتی ہی رہے گییہ چھیڑ جو چلتی ہے سو چلتی ہی رہے گیWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- جدا کریں گے نہ ہم دل سے حسرت دل کوعزیز کیوں نہ رکھیں زندگی کے حاصل کوWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- جو تجھ سے شور تبسم ذرا کمی ہوگیہمارے زخم جگر کی بڑی ہنسی ہوگیWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- چلا جاتا ہے کاروان نفسنہ بانگ درا ہے نہ صوت جرسWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- درد آ کے بڑھا دو دل کا تم یہ کام تمہیں کیا مشکل ہےبیمار بنانا آساں ہے ہر چند مداوا مشکل ہےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- درد کا میرے یقیں آپ کریں یا نہ کریںعرض اتنی ہے کہ اس راز کا چرچا نہ کریںWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- دیکھنا وہ گریۂ حسرت مآل آ ہی گیابیکسی میں کوئی تو پرسان حال آ ہی گیاWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- زمیں روئی ہمارے حال پر اور آسماں رویاہماری بیکسی کو دیکھ کر سارا جہاں رویاWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- سرور افزا ہوئی آخر شراب آہستہ آہستہہوا وہ بزم مے میں بے حجاب آہستہ آہستہWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- سنگ طفلاں فدائے سر نہ ہواآج اس کوچے میں گزر نہ ہواWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- شرمندہ کیا جوہر بالغ نظری نےاس جنس کو بازار میں پوچھا نہ کسی نےWahshat Kalkatvi (1881–1956)
- شوق پھر کوچۂ جاناں کا ستاتا ہے مجھےمیں کہاں جاتا ہوں کوئی لیے جاتا ہے مجھےWahshat Kalkatvi (1881–1956)