Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. حد ہو کوئی تو صبر ترے ہجر پر کریںآخر ہم ایک حال میں کب تک بسر کریںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  2. حسن کے دل میں جگہ پاتے ہی دیوانہ بنےہم ابھی راز بنے ہی تھے کہ افسانہ بنےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  3. ختم اس طرح نزاع حق و باطل ہو جائےاک طرف دونوں جہاں ایک طرف دل ہو جائےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  4. خود اٹھ کے ہاتھ میرے گریباں میں آ گئےشاید قدم جنوں کے گلستاں میں آ گئےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  5. دل تیرے تغافل سے خبردار نہ ہو جائےیہ فتنہ کہیں خواب سے بیدار نہ ہو جائےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  6. دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میںاک آئینہ تھا ٹوٹ گیا دیکھ بھال میںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  7. رسماً ہی ان کو نالۂ دل کی خبر تو ہویعنی اثر نہ ہو تو فریب اثر تو ہوSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  8. روز فراق ہر طرف اک انتشار تھامیں بے قرار تھا تو جہاں بیقرار تھاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  9. زندان کائنات میں محصور کر دیامحفل سے اپنی تم نے بہت دور کر دیاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  10. سبو پر جام پر شیشے پہ پیمانے پہ کیا گزرینہ جانے میں نے توبہ کی تو مے خانے پہ کیا گزریSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  11. سکوں پذیر جنون شباب ہو نہ سکاشگفت موسم گل کامیاب ہو نہ سکاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  12. شام فرقت انتہائے گردش ایام ہےجتنی صبحیں ہو چکی ہیں آج سب کی شام ہےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  13. شاید جگہ نصیب ہو اس گل کے ہار میںمیں پھول بن کے آؤں گا اب کی بہار میںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  14. ضبط سے نا آشنا ہم صبر سے بیگانہ ہمکیوں کسی سے مانگتے جائیں چراغ خانہ ہمSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  15. عزم فریاد! انہیں اے دل ناشاد نہیںمسلک اہل وفا ضبط ہے فریاد نہیںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  16. عشق خود مائل حجاب ہے آجحسن مجبور اضطراب ہے آجSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  17. کمال علم و تحقیق مکمل کا یہ حاصل ہےترا ادراک مشکل تھا ترا ادراک مشکل ہےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  18. کھو کر تری گلی میں دل بے خبر کو میںفکر خودی سے چھوٹ گیا عمر بھر کو میںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  19. مجھے فکر و سر وفا ہے ہنوزبادۂ عشق نارسا ہے ہنوزSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  20. محفل عشق میں جب نام ترا لیتے ہیںپہلے ہم ہوش کو دیوانہ بنا لیتے ہیںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  21. مرتب ہو کے اک محشر غبار دل سے نکلے گانیا اک کارواں گرد رہ منزل سے نکلے گاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  22. میری رفعت پر جو حیراں ہے تو حیرانی نہیںتو ابھی انسان کی عظمت کا عرفانی نہیںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  23. ناحق شکایت غم دنیا کرے کوئیغم ہے بڑی خوشی جو گوارا کرے کوئیSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  24. نسیم صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہوگیکسی کی آخری ہچکی کسی کی دل لگی ہوگیSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  25. نہ وہ فریاد کا مطلب نہ منشائے فغاں سمجھےہم آج اپنی شب غم کی غلط سامانیاں سمجھےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  26. وسعتیں محدود ہیں ادراک انساں کے لئےورنہ ہر ذرہ ہے دنیا چشم عرفاں کے لئےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  27. وہ جب رنگ پریشانی کو خلوت گیر دیکھیں گےتو اپنے ہر تصور میں مری تصویر دیکھیں گےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  28. یہ کس نے شاخ گل لا کر قریب آشیاں رکھ دیکہ میں نے شوق گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دیSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  29. آ اپنے دل میں میری تمنا لیے ہوئےشوق کلام و ذوق تماشا لیے ہوئےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  30. اب کیا بتاؤں میں ترے ملنے سے کیا ملاعرفان غم ہوا مجھے اپنا پتا ملاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  31. انجام ہر اک شے کا بجز خاک نہیں ہےکیا ہے جو یہ عالم خس و خاشاک نہیں ہےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  32. دعا (سیماب اکبرآبادی)Seemab Akbarabadi (1882–1951)
  33. ماں کی لوریSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  34. برسات (سیماب اکبرآبادی, I)Seemab Akbarabadi (1882–1951)
  35. بقید وقت یہ مژدہ سنا رہا ہے کوئیکہ انقلاب کے پردے میں آ رہا ہے کوئیSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  36. بلبل اور گلابSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  37. تقدیر میں اضافۂ سوز وفا ہوادل میں جو تم نے آگ لگا دی تو کیا ہواSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  38. جگنو اور بچہSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  39. جلوہ گاہ دل میں مرتے ہی اندھیرا ہو گیاجس میں تھے جلوے ترے وہ آئنہ کیا ہو گیاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  40. گوتم بدھSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  41. شام کی دعاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  42. شکریہ ہستی کا! لیکن تم نے یہ کیا کر دیاپردے ہی پردے میں اپنا راز افشا کر دیاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  43. غم مجھے حسرت مجھے وحشت مجھے سودا مجھےایک دل دے کر خدا نے دے دیا کیا کیا مجھےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  44. میری ہولیSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  45. مزدورSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  46. ہستی کو مری مستئ پیمانہ بنا دےاے بے خبری حاصل مے خانہ بنا دےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  47. ہم ہیں سر تا بہ پا تمناکیسی امید کیا تمناSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  48. وطن کی لگنSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  49. سری کرشنSeemab Akbarabadi (1882–1951)
  50. یہ دور ترقی ہے رفعت کا زمانہ ہےذروں کو اٹھانا ہے تاروں سے ملانا ہےSeemab Akbarabadi (1882–1951)