Poetry
Poet
Meter
- حد ہو کوئی تو صبر ترے ہجر پر کریںآخر ہم ایک حال میں کب تک بسر کریںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- حسن کے دل میں جگہ پاتے ہی دیوانہ بنےہم ابھی راز بنے ہی تھے کہ افسانہ بنےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- ختم اس طرح نزاع حق و باطل ہو جائےاک طرف دونوں جہاں ایک طرف دل ہو جائےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- خود اٹھ کے ہاتھ میرے گریباں میں آ گئےشاید قدم جنوں کے گلستاں میں آ گئےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- دل تیرے تغافل سے خبردار نہ ہو جائےیہ فتنہ کہیں خواب سے بیدار نہ ہو جائےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میںاک آئینہ تھا ٹوٹ گیا دیکھ بھال میںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- رسماً ہی ان کو نالۂ دل کی خبر تو ہویعنی اثر نہ ہو تو فریب اثر تو ہوSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- روز فراق ہر طرف اک انتشار تھامیں بے قرار تھا تو جہاں بیقرار تھاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- زندان کائنات میں محصور کر دیامحفل سے اپنی تم نے بہت دور کر دیاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- سبو پر جام پر شیشے پہ پیمانے پہ کیا گزرینہ جانے میں نے توبہ کی تو مے خانے پہ کیا گزریSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- سکوں پذیر جنون شباب ہو نہ سکاشگفت موسم گل کامیاب ہو نہ سکاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- شام فرقت انتہائے گردش ایام ہےجتنی صبحیں ہو چکی ہیں آج سب کی شام ہےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- شاید جگہ نصیب ہو اس گل کے ہار میںمیں پھول بن کے آؤں گا اب کی بہار میںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- ضبط سے نا آشنا ہم صبر سے بیگانہ ہمکیوں کسی سے مانگتے جائیں چراغ خانہ ہمSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- عزم فریاد! انہیں اے دل ناشاد نہیںمسلک اہل وفا ضبط ہے فریاد نہیںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- عشق خود مائل حجاب ہے آجحسن مجبور اضطراب ہے آجSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- کمال علم و تحقیق مکمل کا یہ حاصل ہےترا ادراک مشکل تھا ترا ادراک مشکل ہےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- کھو کر تری گلی میں دل بے خبر کو میںفکر خودی سے چھوٹ گیا عمر بھر کو میںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- مجھے فکر و سر وفا ہے ہنوزبادۂ عشق نارسا ہے ہنوزSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- محفل عشق میں جب نام ترا لیتے ہیںپہلے ہم ہوش کو دیوانہ بنا لیتے ہیںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- مرتب ہو کے اک محشر غبار دل سے نکلے گانیا اک کارواں گرد رہ منزل سے نکلے گاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- میری رفعت پر جو حیراں ہے تو حیرانی نہیںتو ابھی انسان کی عظمت کا عرفانی نہیںSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- ناحق شکایت غم دنیا کرے کوئیغم ہے بڑی خوشی جو گوارا کرے کوئیSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- نسیم صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہوگیکسی کی آخری ہچکی کسی کی دل لگی ہوگیSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- نہ وہ فریاد کا مطلب نہ منشائے فغاں سمجھےہم آج اپنی شب غم کی غلط سامانیاں سمجھےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- وسعتیں محدود ہیں ادراک انساں کے لئےورنہ ہر ذرہ ہے دنیا چشم عرفاں کے لئےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- وہ جب رنگ پریشانی کو خلوت گیر دیکھیں گےتو اپنے ہر تصور میں مری تصویر دیکھیں گےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- یہ کس نے شاخ گل لا کر قریب آشیاں رکھ دیکہ میں نے شوق گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دیSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- آ اپنے دل میں میری تمنا لیے ہوئےشوق کلام و ذوق تماشا لیے ہوئےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- اب کیا بتاؤں میں ترے ملنے سے کیا ملاعرفان غم ہوا مجھے اپنا پتا ملاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- انجام ہر اک شے کا بجز خاک نہیں ہےکیا ہے جو یہ عالم خس و خاشاک نہیں ہےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- دعا (سیماب اکبرآبادی)Seemab Akbarabadi (1882–1951)
- ماں کی لوریSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- برسات (سیماب اکبرآبادی, I)Seemab Akbarabadi (1882–1951)
- بقید وقت یہ مژدہ سنا رہا ہے کوئیکہ انقلاب کے پردے میں آ رہا ہے کوئیSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- بلبل اور گلابSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- تقدیر میں اضافۂ سوز وفا ہوادل میں جو تم نے آگ لگا دی تو کیا ہواSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- جگنو اور بچہSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- جلوہ گاہ دل میں مرتے ہی اندھیرا ہو گیاجس میں تھے جلوے ترے وہ آئنہ کیا ہو گیاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- گوتم بدھSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- شام کی دعاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- شکریہ ہستی کا! لیکن تم نے یہ کیا کر دیاپردے ہی پردے میں اپنا راز افشا کر دیاSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- غم مجھے حسرت مجھے وحشت مجھے سودا مجھےایک دل دے کر خدا نے دے دیا کیا کیا مجھےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- میری ہولیSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- مزدورSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- ہستی کو مری مستئ پیمانہ بنا دےاے بے خبری حاصل مے خانہ بنا دےSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- ہم ہیں سر تا بہ پا تمناکیسی امید کیا تمناSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- وطن کی لگنSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- سری کرشنSeemab Akbarabadi (1882–1951)
- یہ دور ترقی ہے رفعت کا زمانہ ہےذروں کو اٹھانا ہے تاروں سے ملانا ہےSeemab Akbarabadi (1882–1951)