Poetry
Hazaj Musaddas Akhrab Maqbuz Mahzuf
ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف- قاصد ترے بار بار آئےایک ہفتہ میں تین چار آئےسخی لکھنوی
- ناخوش جو ہو گل بدن کسی کاکیا بھائے اسے سخن کسی کاسخی لکھنوی
- نسبت وہی ماہ آسماں سےلائیں تشبیہ رخ کہاں سےسخی لکھنوی
- بہار کے دنافسر میرٹھی
- ہم ذرے ہیں خاک رہ گزر کےدیکھو ہمیں بام سے اتر کےباقی صدیقی
- تنگیٔ دہن سے ہے اڑی باتچھوٹا سا ہے منہ ترا بڑی باتخواجہ محمد وزیر
- ہے نقش درم جو نقش پا ہےآپ آتے تو گھر درم سرا ہےخواجہ محمد وزیر
- شہرت ہے میری سخن وری کیہندی میں ہے طرز فارسی کیمیر کلو عرش
- گر ہو نہ خفا تو کہہ دوں جی کیاس دم تمہیں یاد ہے کسی کیمیر کلو عرش
- ہر غم میں کریم ہے ہمارااللہ رحیم ہے ہمارامیر کلو عرش
- میں دریائے قناعت آشنا ہوںمیں موج نشان بوریا ہوںمیر کلو عرش
- کس منہ سے کہیں گناہ کیا ہیںتوبہ ہے رو سیاہ کیا ہیںوزیر علی صبا لکھنؤی
- بے تابئ دل نے زار پا کردے دے پٹکا اٹھا اٹھا کروزیر علی صبا لکھنؤی
- دل بر کوں عتاب خوب ہے خوبعشاق کوں تاب خوب ہے خوبداؤد اورنگ آبادی
- لے دام نگاہ یار آیاکرنے کوں مجھے شکار آیاداؤد اورنگ آبادی
- صرصر گیسو ہلا رہی ہےسر پر کالے کھلا رہی ہےمرزا مسیتابیگ منتہی
- ممکن مجھے جو ہو بے ریا ہومسند ہو کہ اس میں بوریا ہومرزا مسیتابیگ منتہی
- میٹھی ہے ایسی بات اس کیلونڈی ہے اک نبات اس کیمرزا مسیتابیگ منتہی
- کی مے سے ہزار بار توبہرہتی نہیں برقرار توبہسردار گینڈا سنگھ مشرقی
- سب لطف ہے خاک زندگی کاہو خانہ خراب عاشقی کانسیم بھرتپوری
- تا حشر رہے یہ داغ دل کایارب نہ بجھے چراغ دل کاسعادت یار خان رنگین
- جادو تھی سحر تھی بلا تھیظالم یہ تری نگاہ کیا تھیبیاں احسن اللہ خان
- کیا ڈھونڈنے آئے ہو نظر میںدیکھا ہے تمہیں کو عمر بھر میںیوسف ظفر
- الفت یہ چھپائیں ہم کسی کیدل سے بھی کہیں نہ اپنی جی کیگویا فقیر محمد
- کس ناز سے واہ ہم کو ماراکی ترچھی نگاہ ہم کو ماراگویا فقیر محمد
- منہ ڈھانپ کے میں جو رو رہا ہوںاک پردہ نشیں کا مبتلا ہوںگویا فقیر محمد
- آئینہ تمہارے نقش پا کاخورشید کو دے سبق جلا کاحسن بریلوی
- ہے عشق تو پھر اثر بھی ہوگاجتنا ہے ادھر ادھر بھی ہوگاسید محمد عبد الغفور شہباز
- شوخی اف رے تری نظر کییہ پھانس بنی مرے جگر کیعزیز حیدرآبادی
- تو ہم سے جو ہم شراب ہوگابہتوں کا جگر کباب ہوگامیر سوز
- جتنا کوئی تجھ سے یار ہوگااتنا ہی خراب و خوار ہوگامیر سوز
- اب آؤ سرود غم سنائیںسوتی ہوئی روح کو جگائیںہوش بلگرامی
- کس بزم میں شمع تو نہیں ہےکس جا تری گفتگو نہیں ہےعنایت اللہ روشن بدایونی
- جب تک کہ تو جلوہ گر نہ ہووےمیری شب غم سحر نہ ہووےمیر مظفر حسین ضمیر
- ہے خاک بسر صبا مرے بعدگلشن کی پھر ہوا مرے بعدپیر شیر محمد عاجز
- ہر شعر غزل کا کہہ رہا ہےتجھ کو بھی بچھڑ کے دکھ ہوا ہےHafiz Ludhiyanvi
- غنچے کا جواب ہو گیا ہےدل کھل کے گلاب ہو گیا ہےعبدالعزیز فطرت
- کچھ ایسا تھا گمرہی کا سایااپنا ہی پتا نہ ہم نے پایاعبدالعزیز فطرت
- یہ کیسے نمو کے سلسلے ہیںشاخوں پہ گلاب جل بجھے ہیںHafeez Jauhar
- اوروں کی طرح سے اب نہ ٹالوہم کو اپنے گلے لگا لونواب سلیمان شکوہ
- ایسی ہی زمیں بنا رہا تھاپر اور کہیں بنا رہا تھاEhsan Asghar
- تو ہی تو نہیں پگھل رہا ہےاپنا بھی لباس جل رہا ہےLateef Khan Mahfooz