جب تک کہ تو جلوہ گر نہ ہووے

میر مظفر حسین ضمیر

جب تک کہ تو جلوہ گر نہ ہووے

میری شب غم سحر نہ ہووے

افسوس کہ جس سے ہم گزر جائیں

اور تیرا ادھر گزر نہ ہووے

عاشق ترا اپنی جان کھو دے

پر حیف تجھے خبر نہ ہووے

مر جائیں ہم آہ کرتے کرتے

اور دل میں ترے اثر نہ ہووے

صد حیف ضمیرؔ ہم تو روئیں

اس کی کبھی چشم تر نہ ہووے