Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download →

Poetry

Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf Musakkan

مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
Poet
Meter
Clear
  1. جو چپ رہوں تو بتائیں وہ گھنگنیاں منہ میںجو کچھ کہوں تو کہیں قینچی ہے زباں منہ میںنظام رامپوری
  2. خبر نہیں کئی دن سے وہ دق ہے یا خوش ہےخوشی تبھی ہو کہ جب سن لوں دل ربا خوش ہےنظام رامپوری
  3. وہ ایسے بگڑے ہوئے ہیں کئی مہینے سےکہ جاں پہ بن گئی تنگ آ گیا میں جینے سےنظام رامپوری
  4. خدا سے ظلم کا شکوہ ضرور میں نے کیابڑا قصور یہ اے رشک حور میں نے کیانوح ناروی
  5. فروغ حسن میں کیا بے ثبات دل کا وجودوہ آفتاب یہ شبنم وہ آگ یہ بارودنوح ناروی
  6. یہ میرے پاس جو چپ چاپ آئے بیٹھے ہیںہزار فتنۂ محشر اٹھائے بیٹھے ہیںنوح ناروی
  7. بڑے شباب پہ درد فراق مستی ہےنہ ہو شراب تو پہروں گھٹا برستی ہےثاقب لکھنوی
  8. تمام عمر کی غفلت کے بعد خواب آیااٹھا جو پردۂ ہستی مجھے حجاب آیاثاقب لکھنوی
  9. نہ آسمان ہے ساکت نہ دل ٹھہرتا ہےزمانہ نام گزرنے کا ہے گزرتا ہےثاقب لکھنوی
  10. ہٹے یہ آئنہ محفل سے اور تو آئےکوئی تو ہو جو کبھی دل کے روبرو آئےثاقب لکھنوی
  11. ہزار پھول لیے موسم بہار آئےجو دل ہو سوکھ کے کانٹا تو کیا قرار آئےثاقب لکھنوی
  12. اسیر عشق مرض ہیں تو کیا دوا کرتےجو انتہا کو پہنچتے تو ابتدا کرتےثاقب لکھنوی
  13. یہ آہ پردہ در ایسی ہوئی عدو میریحباب ہو گئی آخر کو آبرو میریثاقب لکھنوی
  14. تری گلی میں جو دھونی رمائے بیٹھے ہیںاجل رسیدہ ہیں مرنے کو آئے بیٹھے ہیںآغا حجو شرف
  15. گدائے دولت دیدار یار ہم بھی ہیںہمیں نہ بھولیو امیدوار ہم بھی ہیںآغا حجو شرف
  16. بتا اے ابر مساوات کیوں نہیں کرتاہمارے گاؤں میں برسات کیوں نہیں کرتاTahzeeb Hafi
  17. پرائی آگ پہ روٹی نہیں بناؤں گامیں بھیگ جاؤں گا چھتری نہیں بناؤں گاTahzeeb Hafi
  18. عجیب خواب تھا اس کے بدن میں کائی تھیوہ اک پری جو مجھے سبز کرنے آئی تھیTahzeeb Hafi
  19. سفید شرٹ تھی تم سیڑھیوں پہ بیٹھے تھےمیں جب کلاس سے نکلی تھی مسکراتے ہوئےTahzeeb Hafi
  20. خدا بچائے تری مست مست آنکھوں سےفرشتہ ہو تو بہک جائے آدمی کیا ہےKhumar Barabankavi
  21. پھر آیا جام بکف گلعذار اے واعظشکست توبہ کی پھر ہے بہار اے واعظعبدالرحمان احسان دہلوی
  22. فسردہ داغ جگر دل ربا نہیں رہتاچراغ عشق کا ہرگز بجھا نہیں رہتاعبدالرحمان احسان دہلوی
  23. ہر آن جلوہ نئی آن سے ہے آنے کاچلن یہ چلتے ہو عاشق کی جان جانے کاعبدالرحمان احسان دہلوی
  24. بلا سے خلق ہو بے درد عشق کیا غم ہےجراحت دل محزوں کا درد مرہم ہےعشق اورنگ آبادی
  25. اب ایک درد بھی دل میں نظر نہیں آتاکسی کے کام کوئی عمر بھر نہیں آتاصفی اورنگ آبادی
  26. جو حسن و عشق سے امن و اماں میں رہتے ہیںکہاں کے لوگ ہیں وہ کس جہاں میں رہتے ہیںصفی اورنگ آبادی
  27. نہ اپنے بس میں ہے رونا نہ ہائے ہنس دیناکوئی رلائے تو رونا ہنسائے ہنس دیناصفی اورنگ آبادی
  28. سمجھ کے حور بڑے ناز سے لگائی چوٹجو اس نے آئنہ دیکھا تو خود ہی کھائی چوٹاحمد حسین مائل
  29. وہ بت پری ہے نکالیں نہ بال و پر تعویذہیں دونوں بازو پہ اس کے ادھر ادھر تعویذاحمد حسین مائل
  30. کرو گے یاد تو ہر بات یاد آئے گیگزرتے وقت کی ہر موج ٹھہر جائے گیBashar Nawaz
  31. وہی ہے رنگ مگر بو ہے کچھ لہو جیسییہ اب کی فصل میں کھلتے گلاب کیسے ہیںBashar Nawaz
  32. یہ اہتمام چراغاں بجا سہی لیکنسحر تو ہو نہیں سکتی دیئے جلانے سےBashar Nawaz
  33. وفور شعر ہے اور رات ہونے والی ہےتو چاند ہے تو ملاقات ہونے والی ہےIdris Azad
  34. وہ حشر خیز عنایات پر اتر آیابلا کا رنگ ہے اور رات پر اتر آیاIdris Azad
  35. جو پانچ وقت مصلے پہ قبلہ رو نکلےانہیں بزرگوں کے زیر بغل سبو نکلےمبارک عظیم آبادی
  36. ستم کرو نہ کرو اختیار باقی ہےجو ہم نہیں تو ہمارا مزار باقی ہےمبارک عظیم آبادی
  37. لگا دے سوز محبت پھر آگ سینے میںمزہ پھر آنے لگے دل جلوں کو جینے میںمبارک عظیم آبادی
  38. اگرچہ عشق میں آفت ہے اور بلا بھی ہےنرا برا نہیں یہ شغل کچھ بھلا بھی ہےانعام اللہ خاں یقین
  39. کیا ہے تو نے تو جان جہاں جہاں تسخیرہوا ہے حسن کا شہرہ ترا تو عالم گیرمرزا اظفری
  40. گرہ جو کام میں ڈالے ہے پنجۂ تقدیرمجال کیا کہ کھلے وہ بہ ناخن تدبیرمرزا اظفری
  41. وہ چل کے ناز سے اے دل ادھر کو دیکھتے ہیںہم ان کی چال کو ان کی نظر کو دیکھتے ہیںصفدر مرزا پوری
  42. ہمارے زخم کی کیا فکر چارہ جو کرتےتمہیں نے چاک کیا ہے تمہیں رفو کرتےصفدر مرزا پوری
  43. نہ آئے سامنے میرے اگر نہیں آتامجھے تو اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتازین العابدین خاں عارف
  44. نہ پردہ کھولیو اے عشق غم میں تو میراکہیں نہ سامنے ان کے ہو زرد رو میرازین العابدین خاں عارف
  45. جنوں کی راکھ سے منزل میں رنگ کیا آئےمتاع درد تو ہم راہ میں لٹا آئےباقی صدیقی
  46. خبر کچھ ایسی اڑائی کسی نے گاؤں میںاداس پھرتے ہیں ہم بیریوں کی چھاؤں میںباقی صدیقی
  47. تری نگاہ کا انداز کیا نظر آیادرخت سے ہمیں سایہ جدا نظر آیاباقی صدیقی
  48. گلوں کو چوم کر آئی صبا سی لگتی تھیتھی اک نظر پہ معطر ہوا سی لگتی تھیR P Shokh
  49. یہ اتفاق تھا میں اس کا ہم زمانہ تھاجو زندگی سے تعارف تھا غائبانہ تھاR P Shokh
  50. یہ حسرتوں کی مری خاک سے نمو کیا ہےترے بغیر یہ دنیائے رنگ و بو کیا ہےR P Shokh