Poetry
Mujtass Musamman Makhbun Mahzuf Musakkan
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن- جو چپ رہوں تو بتائیں وہ گھنگنیاں منہ میںجو کچھ کہوں تو کہیں قینچی ہے زباں منہ میںنظام رامپوری
- خبر نہیں کئی دن سے وہ دق ہے یا خوش ہےخوشی تبھی ہو کہ جب سن لوں دل ربا خوش ہےنظام رامپوری
- وہ ایسے بگڑے ہوئے ہیں کئی مہینے سےکہ جاں پہ بن گئی تنگ آ گیا میں جینے سےنظام رامپوری
- خدا سے ظلم کا شکوہ ضرور میں نے کیابڑا قصور یہ اے رشک حور میں نے کیانوح ناروی
- فروغ حسن میں کیا بے ثبات دل کا وجودوہ آفتاب یہ شبنم وہ آگ یہ بارودنوح ناروی
- یہ میرے پاس جو چپ چاپ آئے بیٹھے ہیںہزار فتنۂ محشر اٹھائے بیٹھے ہیںنوح ناروی
- بڑے شباب پہ درد فراق مستی ہےنہ ہو شراب تو پہروں گھٹا برستی ہےثاقب لکھنوی
- تمام عمر کی غفلت کے بعد خواب آیااٹھا جو پردۂ ہستی مجھے حجاب آیاثاقب لکھنوی
- نہ آسمان ہے ساکت نہ دل ٹھہرتا ہےزمانہ نام گزرنے کا ہے گزرتا ہےثاقب لکھنوی
- ہٹے یہ آئنہ محفل سے اور تو آئےکوئی تو ہو جو کبھی دل کے روبرو آئےثاقب لکھنوی
- ہزار پھول لیے موسم بہار آئےجو دل ہو سوکھ کے کانٹا تو کیا قرار آئےثاقب لکھنوی
- اسیر عشق مرض ہیں تو کیا دوا کرتےجو انتہا کو پہنچتے تو ابتدا کرتےثاقب لکھنوی
- یہ آہ پردہ در ایسی ہوئی عدو میریحباب ہو گئی آخر کو آبرو میریثاقب لکھنوی
- تری گلی میں جو دھونی رمائے بیٹھے ہیںاجل رسیدہ ہیں مرنے کو آئے بیٹھے ہیںآغا حجو شرف
- گدائے دولت دیدار یار ہم بھی ہیںہمیں نہ بھولیو امیدوار ہم بھی ہیںآغا حجو شرف
- بتا اے ابر مساوات کیوں نہیں کرتاہمارے گاؤں میں برسات کیوں نہیں کرتاTahzeeb Hafi
- پرائی آگ پہ روٹی نہیں بناؤں گامیں بھیگ جاؤں گا چھتری نہیں بناؤں گاTahzeeb Hafi
- عجیب خواب تھا اس کے بدن میں کائی تھیوہ اک پری جو مجھے سبز کرنے آئی تھیTahzeeb Hafi
- سفید شرٹ تھی تم سیڑھیوں پہ بیٹھے تھےمیں جب کلاس سے نکلی تھی مسکراتے ہوئےTahzeeb Hafi
- خدا بچائے تری مست مست آنکھوں سےفرشتہ ہو تو بہک جائے آدمی کیا ہےKhumar Barabankavi
- پھر آیا جام بکف گلعذار اے واعظشکست توبہ کی پھر ہے بہار اے واعظعبدالرحمان احسان دہلوی
- فسردہ داغ جگر دل ربا نہیں رہتاچراغ عشق کا ہرگز بجھا نہیں رہتاعبدالرحمان احسان دہلوی
- ہر آن جلوہ نئی آن سے ہے آنے کاچلن یہ چلتے ہو عاشق کی جان جانے کاعبدالرحمان احسان دہلوی
- بلا سے خلق ہو بے درد عشق کیا غم ہےجراحت دل محزوں کا درد مرہم ہےعشق اورنگ آبادی
- اب ایک درد بھی دل میں نظر نہیں آتاکسی کے کام کوئی عمر بھر نہیں آتاصفی اورنگ آبادی
- جو حسن و عشق سے امن و اماں میں رہتے ہیںکہاں کے لوگ ہیں وہ کس جہاں میں رہتے ہیںصفی اورنگ آبادی
- نہ اپنے بس میں ہے رونا نہ ہائے ہنس دیناکوئی رلائے تو رونا ہنسائے ہنس دیناصفی اورنگ آبادی
- سمجھ کے حور بڑے ناز سے لگائی چوٹجو اس نے آئنہ دیکھا تو خود ہی کھائی چوٹاحمد حسین مائل
- وہ بت پری ہے نکالیں نہ بال و پر تعویذہیں دونوں بازو پہ اس کے ادھر ادھر تعویذاحمد حسین مائل
- کرو گے یاد تو ہر بات یاد آئے گیگزرتے وقت کی ہر موج ٹھہر جائے گیBashar Nawaz
- وہی ہے رنگ مگر بو ہے کچھ لہو جیسییہ اب کی فصل میں کھلتے گلاب کیسے ہیںBashar Nawaz
- یہ اہتمام چراغاں بجا سہی لیکنسحر تو ہو نہیں سکتی دیئے جلانے سےBashar Nawaz
- وفور شعر ہے اور رات ہونے والی ہےتو چاند ہے تو ملاقات ہونے والی ہےIdris Azad
- وہ حشر خیز عنایات پر اتر آیابلا کا رنگ ہے اور رات پر اتر آیاIdris Azad
- جو پانچ وقت مصلے پہ قبلہ رو نکلےانہیں بزرگوں کے زیر بغل سبو نکلےمبارک عظیم آبادی
- ستم کرو نہ کرو اختیار باقی ہےجو ہم نہیں تو ہمارا مزار باقی ہےمبارک عظیم آبادی
- لگا دے سوز محبت پھر آگ سینے میںمزہ پھر آنے لگے دل جلوں کو جینے میںمبارک عظیم آبادی
- اگرچہ عشق میں آفت ہے اور بلا بھی ہےنرا برا نہیں یہ شغل کچھ بھلا بھی ہےانعام اللہ خاں یقین
- کیا ہے تو نے تو جان جہاں جہاں تسخیرہوا ہے حسن کا شہرہ ترا تو عالم گیرمرزا اظفری
- گرہ جو کام میں ڈالے ہے پنجۂ تقدیرمجال کیا کہ کھلے وہ بہ ناخن تدبیرمرزا اظفری
- وہ چل کے ناز سے اے دل ادھر کو دیکھتے ہیںہم ان کی چال کو ان کی نظر کو دیکھتے ہیںصفدر مرزا پوری
- ہمارے زخم کی کیا فکر چارہ جو کرتےتمہیں نے چاک کیا ہے تمہیں رفو کرتےصفدر مرزا پوری
- نہ آئے سامنے میرے اگر نہیں آتامجھے تو اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتازین العابدین خاں عارف
- نہ پردہ کھولیو اے عشق غم میں تو میراکہیں نہ سامنے ان کے ہو زرد رو میرازین العابدین خاں عارف
- جنوں کی راکھ سے منزل میں رنگ کیا آئےمتاع درد تو ہم راہ میں لٹا آئےباقی صدیقی
- خبر کچھ ایسی اڑائی کسی نے گاؤں میںاداس پھرتے ہیں ہم بیریوں کی چھاؤں میںباقی صدیقی
- تری نگاہ کا انداز کیا نظر آیادرخت سے ہمیں سایہ جدا نظر آیاباقی صدیقی
- گلوں کو چوم کر آئی صبا سی لگتی تھیتھی اک نظر پہ معطر ہوا سی لگتی تھیR P Shokh
- یہ اتفاق تھا میں اس کا ہم زمانہ تھاجو زندگی سے تعارف تھا غائبانہ تھاR P Shokh
- یہ حسرتوں کی مری خاک سے نمو کیا ہےترے بغیر یہ دنیائے رنگ و بو کیا ہےR P Shokh